نواب سلیم الٰلہ خان نے مسلمان برصغیر کیلئے شاندار کارنامے سر انجام دیے ‘ رفیق تاڈر

نواب سلیم الٰلہ خان نے مسلمان برصغیر کیلئے شاندار کارنامے سر انجام دیے ‘ ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) نواب سلیم اللہ خان نے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کیلئے جو شاندار کارنامے انجام دیے‘ وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک نہایت روشن باب ہیں نواب سلیم اللہ خان کے فکر و عمل نے بنگال کے مسلمان سیاسی رہنماؤں پر گہرے اثرات مرتب کئے ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے نامور کارکن ،سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی نواب سر سلیم اللہ خان آف ڈھاکہ کی 100ویں برسی کے موقع پر خصوصی نشست میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا.نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ 12دسمبر 1903ء کو تقسیم بنگال کے پس پردہ بھی انہی کی کوششیں کارفرما تھیں جس کے طفیل بنگال کے مسلمانوں کو تعلیم‘ معیشت اور سرکاری ملازمتوں میں آگے بڑھنے کے بیش بہا مواقع حاصل ہوئے تھے۔ اُنہوں نے صدیوں سے قائم مدرسوں کے نصابِ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کیا مولوی اے کے فضل الحق کو تو ان کے سیاسی جانشین کی حیثیت حاصل تھی نواب سلیم اللہ خان مسلمانانِ ہند کے محسن تھے زندہ اور غیور قوموں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کی خدمات و احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرتیں بلکہ انہیں اپنی آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی بھی کوشش کرتی ہیںآج کی یہ تقریب انہی کوششوں کا تسلسل ہے۔مجھے یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہورہی ہے کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اور ’’پاکستان بنگلہ دیش برادرہڈ سوسائٹی‘‘ کے زیر اہتمام آج نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش میں بھی جدوجہد آزادی کے اس انتہائی دوراندیش رہنما کی صد سالہ برسی کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ممتاز دانشور اور روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹرمجیب الرحمن شامی نے کہا کہ نواب سلیم اللہ خان نے مسلمانوں کیلئے تعلیمی میدان میں شاندار خدمات انجام دیں،آپ ڈھاکہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے والوں میں بھی شامل تھے۔مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے 30 دسمبر1906ء کو مسلم لیگ قائم ہوئی تو اس اجلاس میں مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ تنظیم بنانے کی قرارداد بھی نواب سلیم اللہ خان نے پیش کی انہوں نے کہا کہ بنگالیوں نے بھی تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کے قیام کیلئے نمایاں کردار ادا کیا ۔1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آگیا لیکن بدقسمتی سے 1971ء میں پاکستان دولخت ہو گیاآج بنگلہ دیش کے حالات مسلم لیگی سوچ رکھنے والوں کیلئے انتہائی مخدوش ہیں ہمیں امید ہے کہ ہم بنگلہ دیش اور پاکستان کو ایک بار پھر قریب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے،اس سلسلے میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔یہاں کے نوجوانوں کو بنگالی زبان سے آشنا کروایا جائے جبکہ بنگالی طلبہ کو یہاں آکر تعلیم حاصل کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آپس میں مختلف وفود کا تبادلہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا افسوس کی بات ہے کہ آج مسلم لیگ کی حکومت ہوتے ہوئے بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی کی یاد میں سرکاری سطح پر کوئی تقریب منعقد نہیں کی جارہی ، اسی طرح مسلم لیگ کے یوم تاسیس کے موقع پر بھی کسی مسلم لیگ نے کوئی تقریب منعقد نہیں کی ، یہ فرض کفایہ ہمیشہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ہی ادا کرتا ہے اگر ہم اپنی تاریخ کو یاد نہ رکھیں اور اس سے سبق حاصل نہ کریں تو آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج حکومتی سطح پر ایسی تقریب منعقد کی جاتی جس کی گونج بنگلہ دیش میں بھی سنائی دیتی۔نواب سلیم اللہ خان نے چھوٹی عمر میں بڑاکام انجام دیاانہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور میں بچوں کی شہادت نے پوری قوم کو متحد کر دیا ہے اگر ہماری نئی نسل یکسو ہو جائے تو پاکستان کا مستقبل انتہائی روشن اور تابناک ہے اس نشست میں انجینئر محمد طفیل ملک، میاں محمد ابراہیم طاہر،پروفیسرمحمد مظہر عالم ،اساتذہ کرام ،طلباوطالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کے دوران پروفیسر یوسف عرفان نے اپنی تصنیف محمد رفیق تارڑ اور ڈاکٹر رفیق احمد کو پیش کی ۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی طرف سے نواب سلیم اللہ خان کی ایک یادگار تصویر گورنمنٹ مسلم لیگ ہائی سکول ایمپریس روڈ لاہور کے سینئر استاد فرانسیس لوئس کو پیش کی گئی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...