پٹرول کا بحران جاری،سینیٹ کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر اسحاق ڈار کیخلاف قرار داد منظور

پٹرول کا بحران جاری،سینیٹ کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر اسحاق ڈار کیخلاف قرار ...

 لاہور، اسلام آباد، گوجرانوالہ (کامرس رپورٹر، وقائع نگار، بیورو رپورٹ، آئی این پی) ملک بھر میں پٹرول کی قلت سے پیدا شدہ بحران آج چھٹے روز میں داخل ہوگیا جبکہ حکرمانوں کی طرف سے اس بڑے عوامی مسئلے کے بارے میں عدم توجہی جاری ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے کیخلاف قرار داد منظور کرلی ہے اور اجلاس میں شریک نہ ہونے پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی قرار داد منظور کی گئی ہے۔ دریں اثناء چیئرمین اوگرا نے پٹرول کی قلت کی ذمہ داری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر عائد کردی ہے اور انہیں نوٹس جاری کردئیے گئے ہیں۔ تفصیل کے مطابق لاہور سمیت ملک بھر میں پٹرول کی شدید قلت جمعہ کو پانچویں روز بھی جاری رہی ۔تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی رہیں جبکہ شہریو ں کو شد ید مشکلا ت کا سامنا رہا ۔پی ایس او کے مالی بحران کے باعث پٹرول و ڈیزل کی فراہمی نہیں ہورہی،پٹرول کی یومیہ طلب 1کروڑ لیٹر سے زائد ہے جبکہ فراہمی 40لاکھ لیٹر ہے، پنجاب میں پی ایس او کے 12ڈپوؤں سے پٹرول کی فراہمی میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ پنجاب کیلئے 7 ہزار میٹرک ٹن پٹرول کی ترسیل کا آرڈر جاری ، محمود کوٹ کیلئے 600 میٹرک ٹن، وہاڑی کیلئے 440میٹرک ٹن ، فیصل آباد کیلئے 600 میٹرک ٹن پٹرول لوڈ کیا جائے گا۔ آئندہ ماہ فروری میں پٹرول کا بحران پھر سے پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پی ایس او نے فروری کیلئے فرنس آئل کا آرڈر دینے کیلئے حکومت سے فوری طور پر 50 ارب روپے طلب کرلئے۔ ذرائع کے مطابق سی این جی اسٹیشنز کی طرح پٹرول پمپوں کے مالکان نے بھی میٹر تیز کر دیئے ہیں ،شہریوں نے حکومت کو کوستے ہوئے کہا ہے کہ چند روپے پٹرول کی قیمت کم کرنے کے بعد ایک تو پٹرول کی قلت پیدا کر دی گئی دوسری جانب پٹرول پمپوں کے مالکان نے میٹر بھی تیز کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے چھاپے بھی رائیگاں جا رہے ہیں۔ پنجاب میں دو روز تک پٹرول کی صورتحال معمول پرآنے کی امیدہے ،پی ایس او پٹرول کے 300 ٹرک کراچی سے پنجاب روانہ کر چکا ہے، تیل کا درآمد کردہ 22ہزار ٹن پٹرول کا جہاز 18جنوری تک بندرگاہ پر پہنچ جائے گا، 23جنوری تک پی ایس او 50ہزار ٹن پٹرول درآمد کرے گا۔پی ایس او ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر اور دیگر اداروں نے 240 ارب روپے دینے ہیں،پی ایس او وصولیوں کیلئے حکومت کو مراسلہ بھی لکھ چکی ہے،پی ایس او کے مالی بحران کے باعث پٹرول و ڈیزل کی فراہمی نہیں ہورہی،مقامی ریفائنریوں سے بھی پٹرول کی خریداری شروع کر دی گئی ہے،پنجاب کیلئے 7 ہزار میٹرک ٹن پٹرول کی ترسیل کا آرڈر جاری کر دیا گیا ہے ، آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز کے سربراہ انور مروت کے مطابق پنجاب کیلئے پٹرول کی ترسیل کا آرڈر جمعہ کو دیا گیا ہے، ہفتہ سے پنجاب کیلئے پٹرول کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق فروری میں پٹرول کا بحران پھر سے پیدا ہونے کا خدشہ ہے ، پی ایس او نے فروری کیلئے فرنس آئل کا آرڈر دینے کیلئے حکومت سے فوری طور پر 50 ارب روپے طلب کرلئے ہیں۔دوسری جانب پٹرول کی عد م دستیابی کے باعث لاہور میں ٹیکسیوں، آٹو رکشوں اور موٹرسائیکل رکشوں سمیت مختلف روٹس پر چلنے والی ویگنوں نے بھی مو قع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرایو ں میں 30سے 50فیصد تک اضا فہ کر دیا ہے ۔شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گھر جائیں تو گیس نہیں اور باہر نکلیں تو پٹرول نہیں، وہ رل گئے ہیں حکمرانوں نے بجلی ‘ گیس اور سی این جی سے محروم کرنے کے بعد پٹرول بھی چھین کرقوم کو پتھر کے دور میں بھیج دیا ہے۔پاکستان میں رواں ماہ پٹرول کی کھپت میں 25 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جب شمالی علاقوں میں سی این جی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پی ایس او کے ذمہ 200 ارب کا قرض عام بات ہے کیونکہ پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) سالانہ 1200 ارب روپے کا کاروبار کرتی ہے اور 200 ارب اس کیلئے معمول کی ادائیگی کا قرض ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عوام کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی۔ امریکہ اور بھارت سمیت مختلف ملکوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی مد میں عوام کو انتہائی کم ریلیف دیا گیا۔ رواں ماہ کے اختتام تک پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم کر دی جائیں گی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قلت کا حالیہ بحران کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 2012ء اور 2013ء کے موسم سرما میں بھی پاکستانیوں کو ایسی ہی خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا جب پٹرول کے حصول کیلئے پمپس پر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ادھر ملک بھر کی کاروباری برادری نے بھی پٹرولیم مصنوعات کے بحران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بحال کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے کیونکہ ان کی قلت سے نہ صرف صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بْری طرح نقصان ہورہا ہے بلکہ عام لوگ بھی بْری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدرعجاز اے ممتاز نے کہا کہ تیار مصنوعات اور خام مال کی آمد و رفت معطل ہونے کی وجہ سے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے لیکن متعلقہ حکومتی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کی وجہ سے ایک طرف تو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں اور دوسری طرف زرعی شعبہ بھی بْری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ ہائی سپیڈ ڈیزل زرعی مشینری اور ٹیوب ویلوں میں بطور ایندھن استعمال ہوتا ہے، اس کی سپلائی رک جانے کی وجہ سے کاشتکاری اور ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے ذریعے آبپاشی کا عمل رکنے کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کا بحران پی ایس او کے سرکلر ڈیبٹ کی وجہ سے ہے جو مبینہ طور پر دو سو ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے اور اب اْس کے پاس ریفائنریز سے پٹرولیم مصنوعات خریدنے کے فنڈز نہیں۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر میاں ہمایوں پرویز نے کہا کہ ملک میں جاری حالیہ پٹرول کی قلت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں8 میں کمی کے ثمرات حکومت سنبھال نہیں پا رہی، ملک میں پٹرول کی قیمت میں تقریباً 27فیصد تک کمی ہو چکی ہے جس سے طلب میں اضافہ ہو ا ہے اور حکومتی آئل کمپنی کے پاس پہلے ہی پٹرول خریدنے کے پیسے نہیں ،کاروبارمتاثر ہو رہے ہیں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت میں موجود ذمہ دار ایل این جی کو مارکیٹ میں لانا چاہتے ہیں تا کہ ایل این جی کو پٹرول کے نعم البدل کے طور پر متعارف کروایا جا سکے، کاروباری برادری حکومت کے ہر منفی اقدام کی بھرپور مخالفت کرے گی ۔ آئی این پی کے مطابق چیئرمین اوگرا سعید احمد نے کہا ہے کہ پٹرول کی قلت کی ذمہ داری آئل کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے عالمی مارکیٹ میں گرتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کم از کم 20روز کا سٹاک ذخیرہ نہیں کیا، تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے گزشتہ 20 روز کے اندر پٹرول و ڈیزل کی کھپت میں 24فیصد اضافہ ہوا، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں 5 فیصد اضافے کیلئے اوگرا اسے رائے نہیں لی، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس، لیوی، ڈیلرمارجن فکس ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں عالمی مارکیٹ کے مطابق کمی ناممکن ہے، ملک بھر میں ایل پی جی کی اوسط قیمت 120روپے فی کلو گرام ہے، حکومت یا تو ایل پی جی کو مکمل طور پر ریگولیٹ کرے یا پھر ایل پی جی کی قیمت کے تعین کیلئے فارمولہ ای سی سی سے منظور کرائے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ سے ملک بھر میں ایل پی جی کے حوالے سے کچھ مسائل سامنے آ رہے ہیں جنہیں حل کرنے کیلئے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں قدرتی گیس کے نرخ کم ہیں لیکن قدرتی گیس ملک بھر میں صرف ساڑھے تین کروڑ آبادی کو میسر ہے، بقیہ علاقوں کے لوگ ایل پی جی استعمال کرتے ہیں کیونکہ قدرتی گیس کے مقابلے میں پٹرولیم مصنوعات کافی مہنگی ہیں۔ چیئرمین اوگرا نے کہا ملک میں یہ تاثر عام ہے کہ اوگرا ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین کرنے میں ناکام ہو چکا ہے حالانکہ ایل پی جی پاکستان میں ڈی ریگولیٹر ہے لیکن کچھ عرصہ قبل لاہور ہائی کورٹ نے ایک پٹیشن پر عبوری فیصلہ دیتے ہوئے اوگرا کو ایل پی جی کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس کی وجہ سے اب ایل پی جی نہ تو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹر ہے اور نہ ہی مکمل طور پر اس کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری رائے کے مطابق ایل پی جی کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹڈ کر دیا جائے، شروع شروع میں قیمتوں کامسئلہ پیدا ہو گا تاہم کچھ عرصہ بعد قیمتوں میں استحکام آ جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اوگرا صرف ایل پی جی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرتا ہے اور لائسنس کی شرائط پر عملدرآمد کرتا ہے۔ ملک بھر میں اس وقت 12 ایل پی جی پروڈیوسر کمپنیاں، 97 مارکیٹنگ کمپنیاں اور4200 مارکیٹنگ کمپنیاں کام کر رہی ہیں جبکہ اگر حکومت ایل پی جی کو ریگولیٹ کرنا چاہتی ہیں تو پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی طرح ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کا فارمولہ بھی ای سی سی سے منظور کر کے دے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید احمد نے کہا کہ ہماری مانیٹرنگ ٹیموں نے گزشتہ تین ماہ کے دوران چھاپے مار کر ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے 300 بے قاعدگیاں پکڑیں اور انہیں جرمانے کئے گئے۔ پٹرول کی قلت اوگرا سے متعلقہ مسئلہ نہیں بلکہ یہ حکومت کا مسئلہ ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی لائن بحال رکھے تاہم قانون کے مطابق تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ کم از کم 20روز کا سٹاک رکھیں لیکن آئل کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ کی وجہ سے20 روز کا سٹاک رکھنے کیلئے تیار نہیں جبکہ بعض کمپنیوں کے پاس 20روز کا سٹاک رکھنے کی استعداد ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے بالخصوص صوبہ پنجاب میں پٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کھپت بھی بڑھ گئی ہے، گزشتہ 20روز کے دوران ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 24فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے سوال کے جواب میں چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جو فارمولہ استعمال ہوتا ہے اس میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس ؍لیوی ، ڈیلر مارجن اور دیگر کئی چیزیں فکس ہیں جبکہ حکومت نے سیلز ٹیکس بھی 17فیصد سے بڑھا کر 22فیصد کر دیا ہے جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں ہو سکی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوئی ناردرن کمپنی کی جانب سے 4.5 فیصد سے زائد گیس لاسز صارفین پر ڈالنے کے حوالے سے جو 15 ارب روپے عدالت کے فیصلے کے مطابق صارفین کو واپس دلوانا تھے، اس حوالے سے حکومت نے گائیڈ لائن جاری کر دی ہے جلد ہی فیصلہ کریں گے۔ دریں اثناء وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں غیرحاضری پر قرارداد منظور کی گئی ہے، کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی میں اضافے کے خلاف بھی قرار داد منظور کی جبکہ تیل کے موجودہ ذخائر کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی عدم موجودگی کے باعث نسرین جلیل کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ کی عدم موجودگی پر کمیٹی ارکان نے احتجاج کیا اور قرار داد پاس کی۔ کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ آئندہ وزیر خزانہ کی غیرموجودگی میں اجلاس نہیں کرینگے۔ کمیٹی ارکان نے ملک میں پٹرول کی قلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی میں اضافے کیخلاف بھی قرار داد منظور کی۔ کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی مارکیٹ میں ہونیوالی کمی کے مطابق عوام کو ریلیف دے ، سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ 50ہزار ٹن تیل کا جہاز کراچی پہنچ چکا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں تیل کی ترسیل آج سے شروع ہو جائے گی اور آئندہ چند روز تک ملک سے تیل کی قلت کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ گوجرانوالہ سے بیورورپورٹ کے مطابق پٹرول کی شدید قلت کے باعث ریجن بھر میں سینکڑوں پٹرول پمپ بند کر دیے گئے جس میں عوام کو آمدو رفت میں شدید مشکلات کاسامناکرنا پڑرہا ہے، پمپوں پر پٹرول کی عدم دستیابی پر لوگوں نے شدید احتجاج ،پہیہ چلانے کے لیے لوگ تیل کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے مختلف علاقوں میں مین روڈز پر ایک شہر سے دوسرے شہر جانے والی بھاری تعداد میں مسافر گاڑیوں سمیت متعدد دوسری گاڑیاں اپنی منزل پر پہنچنے سے قبل پٹرول ختم ہو جانے کے باعث رک گئیں ہزاروں مسافر خوار ہوگئے لوگ اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے ہاتھوں میں گیلن اٹھائے پمپوں پر پیدل پہنچ کر پٹرول کی بھیک مانگتے رہے مگر پٹرول پمپ انتظامیہ کا ایک ہی جواب تھا کہ پٹرول نہیں ہے جس پر شہر بھر کے پمپوں پر انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان تکرار اورتلخ کلامی کے واقعات کے ساتھ ساتھ جھگڑے بھی ہوئے جس پر متعدد پٹرول پمپ کے کارکن پمپ چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے اور پمپوں پر بیریر لگا کر بورڈ آویزاں کر دیے کہ پٹرول دستیاب نہیں ہے سرکاری او ر پرائیویٹ ہسپتالوں میں مریضوں کو گاڑیوں اورایمبولینسوں میں شفٹ کر نے کے دوران متعدد ایمبولینس اور گاڑیوں کاپٹرول ختم ہو جانے پر مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں، لوگ ایمبولینسوں اور اپنی گاڑیاں چھوڑ کر مریضوں کو ہسپتال شفٹ کرنے کے لیے لفٹ مانگتے رہے ،پٹرول کی قلت کے باعث سر کاری و غیرسرکاری اداروں میں حاضری کم رہی بہت بڑی تعداد میں لوگ اپنے بچوں کو سکول و کالج تک نہ لے جا سکے جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور بچوں کی تعدا دمیں نمایاں کمی رہی اگر یہی صورتحال بر قرار رہی تو لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا اور شہری حکومت کی ناقص کارکردگی پر سڑکوں پر آکر احتجا کا دائرہ کار وسیع کر سکتے ہیں تاجر برادری کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قلت کے باعث شہر کے تمام بازار اور مارکیٹیں ویران تھیں اور ہڑتال کا سماں نظر آرہا تھا انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قلت کے باعث تاجر طبقہ کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے اگر حکومت نے پٹرول کی قلت پر بر وقت قابو نہ پایا تو تاجر برادری بھی احتجاج کر نے پر مجبور ہو گی ۔

مزید : صفحہ اول


loading...