گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف ملک گیر احتجاج ،ریلیاں

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف ملک گیر احتجاج ،ریلیاں

                                                          کراچی،لاہور،کوئٹہ،پشاور،مظفرآباد(نا مہ نگا ر، سٹا ف رپورٹر،ایجنسیاں)فرانسیسی جریدے میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ملک گیر احتجاج،سول سوسائٹی،سیاسی و مذہبی جماعتوں کی ریلیاں،مظاہرے،کراچی میں فرانسیسی قونصل خانے پر پتھراو¿ کی کوشش ناکام،پولیس کی شیلنگ،ہوائی فائرنگ اور واٹر کینن کا استعمال،غیرملکی صحافی سمیت10 افراد زخمی،درجن بھر گرفتار،قونصل خانے کی سکیورٹی رینجرز کے سپرد،وکلاءکی ہڑتال،عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ،واقعہ کے خلاف مذمتی قرار دادیں منظور ،عالمی برادری سے مذہبی ہم آہنگی اور مذاہب کی توہین کے تدارک کے لئے قانون سازی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق فرانس کے جریدے چارلی ہیبڈو میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف جمعہ کو دنیا بھر میں امت مسلمہ نے شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں خاکوں کی اشاعت کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا گیا ہے۔ملک گیر احتجاج کی اپیل سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مختلف تنظیموں کی طرف سے کی گئی تھی۔کراچی میں اسلامی جمیعت طلباءکی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اس دوران مظاہرین نے فرانسیسی قونصل خانے میں گھسنے کی کوشش کی تاہم موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو روک لیا۔لیس کی جانب سے لاٹھی چارج، شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی جبکہ اسلامی جمعیت طلبا کے مظاہرین نے پولیس پر پتھراﺅ کیا ہے۔ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن کلفٹن تین تلوار سے فرانسیسی قونصل خانے کی طرف احتجاجی مارچ کررہے تھے ، فرانسیسی قونصل خانے کے باہر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور قونصل خانے کی سکیورٹی رینجرز کے سپرد کر دی گئی۔پولیس نے ہوائی فائرنگ کے ساتھ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں فرانسیسی خبر ایجنسی کے فوٹو گرافرمحمد آصف،نجی ٹی وی کے کیمرہ مین عدیل سمیت10افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا جب کہ مظاہرین کے پتھرا ﺅسے ایک اہلکار بھی زخمی ہوا۔پولیس نے درجن بھر مظاہرین حراست میں لے لئے، مظاہرین نے تین تلوار چوک پر دھرنا دے کر احتجاج کیا تاہم بعد میں انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد طلبہ نے احتجاج ختم کر دیا۔بعد میں مظاہرین نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔جمعیت علما پاکستان کی جانب سے گرومندر چورنگی کے قریب گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اسی طرح نوابشاہ میں مجلس وحدت المسلمین کے زیراہتمام گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا جب کہ جماعت اسلامی کی جانب سے کبیر مسجد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جیکب آباد میں جمعیت علمائے اسلام(ف)کے تحت گستاخانہ خاکوں کے خلاف ضلع دفترسے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی۔لاہور میں جماعت الدعو ةکی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ کو متحد ہوجانا چاہیئے ورنہ مغرب کی جانب سے مستقبل میں ہی اسی قسم کی نازیبا حرکتیں جاری رہیں گی، تحریک صراط مستقیم نے پنجاب اسمبلی سے پریس کلب تک ریلی نکالی، شرکا نے توہین آمیز خاکوں کیخلاف بھرپور نعرہ بازی کی جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھائے،کچہری چوک ملتان میں متحدہ شہری محاذ کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا، شرکا نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے، ملتان کے وکلا نے گستاخانہ خاکوں کیخلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اسی طرح مانسہرہ میں بھی وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ اسی طرح جھنگ میں وکلا نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ریلی نکالی۔دوسری جانب مذہبی جماعتوں کے پلیٹ فارم تحریک حرمت رسول کے سربراہ مولانا امیر حمزہ کا کہنا ہے کہ اگر یورپی ممالک گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے میگزین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے متحد ہوسکتے ہیں تو تمام 57 اسلامی ممالک کو بھی پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے تحفظ کے لیے متحد ہوجانا چاہیے، انہوں نے مسلم ممالک کے رہنماں پر زور دیا کہ وہ توہین رسالت کے مرتکب ہونے والوں کے خلاف ایک عالمی قانون کا مطالبہ کریں۔کراچی میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام یونیورسٹی روڈ پر بیت المکرم مسجد کے باہر مظاہرہ کیا جس کی قیاد ت امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کی۔مظاہرین نے فرانسیسی جریدے کے خلاف نعرے لگائے ۔ مجلس وحدت المسلیمن کے زیر اہتمام کھارادر امام بارہ گاہ کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔جماعت الدعوا کے تحت کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔توہین آمیز خاکوں کے خلاف لاہور میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ چوبرجی چوک میں کیا گیا جس میں طلبائ، وکلائ، تاجروں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ المحمدیہ سٹوڈنٹس کے ہزاروں طلباءبھی ملک بھر میں کئے جانے والے مظاہروںمیں شریک ہوئے۔ شرکاءنے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اسلام و مسلمانوں کے خلاف کھلا اعلان جنگ ہے‘ گستاخان رسول کی پشت پناہی کرنے والے تہذیبوں کی جنگ بھڑکا رہے ہیں اور گستاخانوں خاکوں کی اشاعت صلیبی و یہودی دہشت گردی ہے‘ جیسی تحریریں درج تھیں۔ چوبرجی چوک میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ سے جماعةالدعوة پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، مولانا امیر حمزہ،علامہ احمد علی قصوری، شیخ نعیم بادشاہ، نعمان یحییٰ ایڈووکیٹ، حافظ مسعو واوردیگر نے خطاب کیا۔ امیر جماعةالدعوة حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ حرمت رسول کی حفاظت ہمارے دین کا حصہ ہے۔ہم سب کچھ قربان کریں گے مگر نبی کریم کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔اتوار 18جنوری کو ناصر باغ سے مسجد شہداءمال روڈ تک بہت بڑا حرمت رسول مارچ ہو گاجس میں ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو شریک کیا جائے گا۔ اسی طرح جلد ملک گیر علماءکنونشن کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ حرمت رسول مارچ حکمرانوں کو احساس دلائے گا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے مذمتی قرارداد پاس ہونا اور اسمبلی کے باہر مارچ خوش آئند ہے مگر یہ کافی نہیں ۔دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ملک میں قانون سازی ہو رہی ہے اس پر سنجیدگی سے عمل انتہائی ضروری ہے مگر اس کے ساتھ دہشت گردی کے راستے ہموار کرنے والوں کو بھی روکنا ہو گا۔میں گستاخانہ خاکوں کو سب سے بڑی دہشت گردی سمجھتا ہوں۔ تحریک حرمت رسول کے کنوینر مولانا امیر حمزہ نے کہاکہ جس طرح بانی پاکستان قائد اعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔اسی طرح نبی کریم کی محبت تمام مسلمانوں کی شہہ رگ ہے جو اس رگ پر ہاتھ ڈالے گا اس ہاتھ کو توڑ ڈالیں گے۔جمعیت اہلحدیث کے سربراہ علامہ ابتسام الہی ظہیر، مرکز اہلسنت کے سربراہ علامہ احمد علی قصوری، شیخ نعیم بادشاہ، نعمان یحییٰ ایڈووکیٹ، حافظ مسعو واوردیگر نے کہاکہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنےو الے مغربی ملکوں کے حکمران شان رسالت میں گستاخیاں روکیں۔ عالمی سطح پر تمام انبیاءکی حرمت کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی جائے۔ ایسا کرنے سے ہی دنیا میں حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد مےں جماعةالدعوة کی جانب سے آئی ایٹ مرکز میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جامع مسجد میں خطبہ جمعہ سے جماعةالدعوةکے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، شفیق الرحمن ودیگر نے خطاب کیا اور کہاکہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل توہین انبیاءکی سزا موت کا قانون پاس نہیں کرتے تو مسلم ملک ان اداروں سے الگ ہو جائیں اور اپنی الگ اقوام متحدہ تشکیل دیں۔جماعةالدعوة اور تحریک حرمت رسول کی جانب سے ملتان میں چوک نواں شہرمیں بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں طلبائ، وکلاءاور تاجروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کراچی میں پریس کلب کے باہر جماعةالدعوة نے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور توہین آمیز خاکوںکی سخت مذمت کی گئی۔ تحریک حرمت رسول اور جماعةالدعوة کی طرف سے حیدرا ٓبادسندھ میں گاڑی کھاتہ سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی جس سے جماعةالدعوة حیدرآباد کے ناظم فیصل ندیم و دیگر نے خطاب کیا اور کہاکہ ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی دلآزاری اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے مغرب کو اپنی منفی پالیسیاں ترک کرنی چاہئیں۔ جماعةالدعوة کی جانب سے پشاور فوارہ چوک صدر سے پریس کلب تک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شریک افراد کی جانب سے فرانس، امریکہ اور دیگر ملکوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ سکھر میں بھی جماعةالدعوة نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تحریک حرمت رسول کی جانب سے گوجوانوالہ، قصور، سیالکوٹ، چکوال، سرگودھا، جڑانوالہ، اوکاڑہ، گجرات، جہلم ، ساہیوال، بہاولنگر، خانیوال، بہاولپور، ڈی جی خاں، ڈیرہ اسمٰعیل خاں، مظفر آباد، کوٹلی، میر پور و دیگر چھوٹے بڑے شہروںمیں بھی زبردست احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور اجتماعی خطبات جمعہ کا انعقاد کیا گیاجن میں تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے تحت مرکزی سیکرٹریٹ”جامع المنہاج ماڈل ٹاﺅن“سے عظمت مصطفی کے سلسلے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ریلی کے شرکاءنے مطالبہ کیا کہ تمام اسلامی ممالک انبیاءکرام کی توہین کو جرم قرار دلوانے کےلئے اقوام متحدہ سے قانون سازی کا مطالبہ کریں اور اگر اقوام متحدہ قانون سازی سے انکار کرے تو تمام اسلامی ممالک احتجاجاً اقوام متحدہ کی رکنیت چھوڑ دے ۔نماز جمعہ کے بعد نکالی گئی پر امن احتجاجی ریلی میں پاکستان عوامی تحریک،تحریک منہاج القرآن کے مرکزی ،صوبائی اور ضلعی قائدین کے علاوہ جوانوں ،بزرگوں اور بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ سر براہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کی اپیل پر توہین آمیز خاکوں کے خلاف جمعہ کوملک گیر یوم مذمت منایا گیا ۔ملک بھرمیںاہلسنّت کی ایک لاکھ سے زائدمساجد میںخطباتِ جمعہ کے دوران توہین آمیز خاکوں کے خلاف مذمتی قرار دادیںمنظور کی گئیں جبکہ راولپنڈی،لاہور، فیصل آباد،گوجرانوالہ، ملتان، حیدرآباد، سکھر،پشاوراورمظفرآبادسمیت ملک کے کئی شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے اورریلیاں بھی نکالی گئیں۔سربراہ سُنی تحریک ثروت اعجازقادری نے کہا کہ توہین رسالت دنیاکی سب سے بڑی دہشتگردی ہے۔عالم اسلام نبی کریم کی عزت و حرمت کے تحفظ کیلئے متحد ہوجائے۔ ۔پشاور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام دو مختلف مقامات پر گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نکالی گئی ،پشاور میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر ابراہیم کی قیادت میں مرکز اسلامی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے جی ٹی روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا ۔ مظاہرین نے گستاخانہ خاکے چھاپنے والے میگزین اور فرانس کی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ لاہور میں بھی گستاخانہ خاکوں کے خلاف بھرپور احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔لاہور میں وکلا نے بھی توہین آمیز خاکے کی اشاعت کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تمام مساجد میں جمعہ کے خطبات میں فرانسیسی میگزین میں خاکوں کی اشاعت کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرنے کی اپیل کی ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فرانسیسی میگزین نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی ہے، لہذا فرانسیسی حکومت اس میگزین پر پابندی عائد کرے۔ جمعیت علمائے اسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے اپنے بیان میں حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ کی جانب سے فرانسیسی اخبار پر حملے کے نتیجے میں خاکہ نگاروں کی ہلاکت پر افسوس کرنے پر تنقید کی اور کہا ہے کہ حکومت کو فرانسیسی حکام اور یورپ سے احتجاج کرنا چاہیے تھا۔انھوں نے امت مسلمہ اور اسلامی ممالک سے کہا کہ وہ متحد ہو کر مغربی ممالک کو ایسے دل آزار اقدامات پر معافی مانگنے پر مجبور کریں ۔پشاور میں خیبرپختونخوا بارکونسل کی کال پر وکلا نے گستاخانہ خا کوں کی اشاعت کیخلاف ہڑتال کی اور عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا ۔ وکلاءکی عدالتوں میں عدم پیشی پر سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ۔ قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا ۔ لنڈی کوتل مےں جماعت اسلامی کے زےر اہتما م احتجاجی مظاہرہ کےا گےا، امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی کال پر ملک بھر کی طرح سوات میں بھی عوام نے پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی،ریلی گرین چوک مینگورہ سے ہوتے ہوئے سٹی کے تمام شاہر اہوں سے گزر کرواپس گرین چوک میں اختتام پزیر ہوئی ،ریلی میں جماعت اسلامی کے کارکنان سمیت ہزاروں کے تعداد میں عوام نے شرکت کی ۔ جمعےت علماءاسلام (س)ضلع کوئٹہ کے امےروصوبائی نائب امےرمولانامفتی عبدالواحدبازئی نے کہا ہے کہ جمعےت علماءاسلام(س)کے مرکزی امےرمولاناسمےع الحق کی ہداےت پرصوبے بھرکے اضلاع مےںپےرس مےںگستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف مذمتی قراردادےں پےش کی گئی کہ پےرس سے سفارتی تعلقات کومنقطع کرےںاوران کےخلاف عالمی قوانےن کے مطابق توہےن مذہب اورپےغمبراسلام کی شان مےںگستاخی کانوٹس لےںاوران کے تمام مضوعات سے بائےکات کرےں ۔شےخوپورہ مےں توہےن آمےز خاکوں کےخلاف دےنی ،سےاسی،سماجی تنظےموں کے ساتھ ساتھ انجمن تاجراں ،وکلاءصحافےوں نے ےوم احتجاج مناےا ،شہر بھر مےں نماز جمعہ کے بعد توہےن آمےز اور گستاخانہ خاکوں کےخلاف رےلےاں نکالی گئےں جبکہ جمعہ کے خطبات مےں علماءکرام نے بھی گستاخانہ خاکوں کےخلاف مذمتی قراردادےں منظور کےں اور حکومت سے مطالبہ کےا کہ توہےن آمےز خاکوں کی اشاعت کرنے والے ممالک کی مصنوعات کا مکمل بائےکاٹ کےا جائے ، گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں وزیراعظم سیکرٹریٹ سے اسمبلی سیکرٹریٹ تک زبردست احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نکالی گئی۔ لاہور میں مظاہرین سے خطا ب کرتے ہوئے سراج الحق نے اعلان کیا کہ آئندہ جمعہ کو کراچی ، اسلامی آباد اور لاہور میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف ملین مارچ ہوں گے ۔ سراج الحق نے وزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کیاکہ وہ فوری طور پر تمام اسلامی سربراہان مملکت کا اجلاس بلائیں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کریں کہ وہ انبیاءؑ اور آسمانی کتابوں کے احترام کا قانون بنائے ۔ انہوں نے پوپ اور جرمن چانسلر کی طرف سے خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرنے پر ان کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ پوپ دنیا کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے ۔سراج الحق نے مطالبہ کیاکہ فرانس فوری طور پر عالم اسلام سے معافی مانگے اور خاکے بنانے والے مجرموں کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ۔سراج الحق نے جامع مسجد منصورہ میں اجتماع جمعہ اور ملتان روڈ پر منعقدہ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مغرب اور یورپ کا متعصبانہ اور اسلام دشمن رویہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں جھونک سکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پرمسلمان اپنی جانیں نچھاور کرنا سعادت سمجھتے ہیں ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عزت و احترام ہمارے ایمان کا حصَہ ہے ۔ مسلمان تمام انبیاءؑ اورآسمانی کتابوں کا احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس سے بڑی دنیا میں کوئی دہشتگردی نہیں ہوسکتی کہ کروڑوں انسانوں کو تکلیف پہنچائی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر فرانس میں پندرہ لاکھ لوگ احتجاج کے لیے نکل سکتے ہیں تو ہم کروڑوں کی تعداد میں احتجا ج کے لیے نکل سکتے ہیں ۔ہم یورپ اور مغرب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام دشمنی کا رویہ چھوڑ کر دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے میں ہمارا ساتھ دیں ۔ سراج الحق نے کراچی پولیس کی طرف سے اسلامی جمعیت طلبہ کی احتجاجی ریلی پر فائرنگ ، پکڑ دھکڑ اور تشدد کی پر زور مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے نکالے گئے جلوس پر فائرنگ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے ۔احتجاجی مظاہرے سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ محمد ادریس ، شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبدالمالک ، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی پنجاب نذیر احمد جنجوعہ ،امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد اور خلیق احمد بٹ نے بھی خطاب ۔

مزید : صفحہ اول


loading...