کانگریس نے ایران پر نئی پابندیاں لگائیں تو ویٹو کر دوں گا،باراک اوبامہ

کانگریس نے ایران پر نئی پابندیاں لگائیں تو ویٹو کر دوں گا،باراک اوبامہ

                                 واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی صدر باراک اوبامہ نے کانگریس کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں لگانے کی کوشش کی تو وہ اسے ویٹو کردیں گے اس لئے اس کے لئے بہتر ہے وہ اس سے باز رہے۔ انہوں نے یہ انتباہ آج برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ وائٹ ہاﺅس میں مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران جاری کیا۔ برطانوی وزیراعظم امریکہ کے دو روزہ سرکاری دورہ پر ہیں۔ صدر اوبامہ کا موقف یہ تھا کہ اس وقت امریکہ ایران کے ساتھ جامع ایٹمی سمجھوتے کیلئے اہم بات چیت کرنے میں مصروف ہے اور ایسے میں کانگریس نے کوئی کارروائی کی تو اس سے نہ صرف یہ مذاکرات پٹری سے اتر جائیں بلکہ ایران سے جنگ بھی شروع ہوسکتی ہے۔ صدر اوبامہ کی دھمکی کا پس منظر یہ ہے کہ ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سینیٹر باب مینیڈز اور ری پبلک سینٹر مارک کرک مشترکہ طور پر پابندیوں کا ایک بل سینیٹ میں پیش کرنے جارہے ہیں اور اول الذکر کے ساتھ ایک روز قبل صدر اوبامہ کی اس سلسلے میں کافی بحث ہوئی۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم نے بھی کانگریس سے اپیل کی کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے کیونکہ اس صورت میں ایران کے بارے میں مشترکہ بین الاقوامی موقف متاثر ہوگا۔

دونوں رہنماﺅں نے امریکی کانگریس سے کہا کہ وہ چند ماہ اور انتظار کرلیں۔ صدر اوبامہ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں مصروف ہے اور کانگریس کا نیا اقدام اسے ایک اور جنگ میں جھونک سکتا ہے۔ انہوں نے کانگریس کو خبردار کیا کہ سفارتی کوششوں میں رکاوٹ پڑنے کی صورت میں ایران سے فوجی تصادم ہوا تو اس کی ذمہ داری کانگریس پر عائد ہو گی ۔

اس موقع پر دونوں رہنماﺅں نے عہد کیا کہ برطانیہ اور امریکہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی مہارت شیئر کریں گے۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا جو چھ ماہ کے اندر دونوں رہنماﺅں کو واپس رپورٹ کرے گی۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان مذاکرات سانحہ پیرس کے ایک ہفتہ بعد ہو رہے ہیں جس میں دہشت گردی کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مزید : صفحہ اول


loading...