آزادی اظہار کی آڑ میں کسی کو مذہبی جذبات مجروح کرنے کی اجاز ت نہیں ہونی چاہیے،شہباز شریف

آزادی اظہار کی آڑ میں کسی کو مذہبی جذبات مجروح کرنے کی اجاز ت نہیں ہونی ...

 لاہور(جنرل رپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف نے فرانسیسی جریدے میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور امت مسلمہ میں غم وغصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں کسی کو مذہبی جذبات مجروح کرنے کی اجاز ت نہیں ہونی چاہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا او راستحکام کی جنگ ہے۔دہشت گردی ختم کئے بغیر معیشت ترقی کر سکتی ہے نہ ترقی و خوشحالی کا خواب پورا ہو سکتاہے۔دہشت گردیِ کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے ۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے قومی قیادت کو متحد کر کے مثالی لیڈر شپ دکھاتے ہوئے باہمی مشاورت سے جرات مندانہ فیصلے کئے ہیں۔میراا یمان ہے کہ پوری قوم جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اکٹھی ہوئی ہے ہم اس اتحاد کی قوت سے دہشت گردوں کو ہمیشہ کے لئے کچل دیں گے اور اس جنگ میں سرخرو ہوں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔میڈیا کو ملک وقوم کے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ اور سنجیدہ کردار ادا کرناہے۔ معاملات کو مثبت رنگ دینا قومی خدمت ہے پاکستان کے نام پر اپیل کرتا ہو ں کہ خدارا!میڈیا جنگ کے تقاضوں کے مطابق قوم کی راہنمائی کرے اورایسے اقدامات کئے جائیں جن سے قوم کا مورال بلند ہو۔ پاکستان کی بقا کی جنگ جیتنے اور ملک کی کشی کو بھنور سے نکالنے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرناہے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے یہاں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر رانا محمد عظیم کی قیادت میں ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدیداران و اراکین سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ترجمان پنجاب حکومت زعیم حسین قادری ،پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات رانامحمد ارشد، پریس سیکرٹری وزیراعلیٰ شعیب بن عزیز، سیکرٹری اطلاعات مومن علی آغا اور ڈی جی پی آر اطہر علی خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی اقدامات کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہاکہ 16دسمبر 2014 کو پشاور میں قوم کے خوبصورت پھولوں کو دہشت گردوں نے بے دردی سے مسل دیا ۔ دہشت گردی کے اس بد ترین واقعہ کوآج ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد بھی ہردل زخمی ہے اورزخم تازہ ہیں۔دہشت گردوں نے قوم کے مستقبل پر حملہ کر کے گہرا زخم لگایاہے ۔جس طرح 16 دسمبر 1971کو پاکستان کے دو لخت ہونے کے غم کو قوم آج تک بھلا نہیں پائی اسی طرح دہشت گردی کے اس بد ترین واقعہ کا گھاؤ بھی کبھی نہیں بھر سکتا ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 50ہزار سے زائد فوجی افسروں ، جوانوں ،پولیس افسروں، اہلکاروں ، سیاستدانوں، صحافیوں،عام شہریوں اوربچوں نے جامع شہادت نوش کیاہے۔16دسمبر 2014کو پشاور کے سکول میں معصوم بچوں کو شہید کر کے دہشت گردی کے اژدھا نے پاکستان کو للکارا ہے۔ معصوم بچوں کی شہادت پر قومی اور عسکری قیادت سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہو چکی ہے۔اتحاد اور اتفاق کا بے مثال منظر تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔پورا ملک دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ایک صفحہ پرہے۔اس جنگ میں دشمن کو ہر قیمت پر شکست دے کر دم لیں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ وقت ’’آپ اور میں ‘‘ کی روش اختیار کرنے کا نہیں بلکہ ’’ہم ‘‘کے اصول پر چلنے کا ہے۔دہشت گردی ، انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کے ناسور کے خاتمے کیلئے مزید قربانیوں کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ ہم سب کو آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ،اپوزیشن، معاشرے کے تمام طبقات او رمیڈیا کو مل کرچلنا ہے اور اس لعنت سے نجات حاصل کرنا ہے۔آئندہ نسلوں کو محفوظ او رپرامن پاکستان دیں گے۔پاکستان کی فوج انتہائی پیشہ وارانہ اوربہترین تربیت یافتہ فورس ہے جو دہشت گردوں کے خلاف جرات و بہادری سے لڑرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے سماجی و معاشی انصاف کے لئے بھی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ1965 اور1971کی جنگوں سے بھی زیادہ اہم ہے۔دہشت گردی کی جنگ میں دشمن گھات لگا کر حملہ آور ہوتا ہے ۔ ہمیں اتحاد کی قوت سے ہی اس دشمن کو شکست دینا ہے اور ہم سب کو مل کر یہ جنگ لڑنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا تو پھر خدانخواستہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔تاریخ او روقت نے میڈیا کی کندھوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے،میڈیا جنگ میں قوم کا مورال بلند رکھے اور انشاء اﷲ ہم سرخروں ہوں گے اور آنے والی نسلیں سیاستدانوں، افواج پاکستان، سکیورٹی اداروں او رمیڈیا کے اس مثالی کردار پر فخر کریں گی۔آج تاریخ نے سیاستدانوں، میڈیا ،سرکاری اداروں اورمعاشرے کے تمام طبقات کو تاریخ کا دھارا موڑنے کا موقع فراہم کیا ہے اگر ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا تو پھر خدانخواستہ کچھ نہیں بچے گا۔ا نہوں نے کہاکہ گستاخانہ خاکوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ ان سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لیبر لاز کے حوالے سے صحافیوں کی گزارشات کا جائزہ لیا جائے۔صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے کمیٹی جلد اپنی سفارشات پیش کرے ۔ دوسرے صوبوں کے شہید صحافیوں کی خدمت کی تجویز پر غور کے لئے حاضر ہیں بشرطیکہ انکی صوبائی حکومتوں کو کوئی اعتراض نہ ہو۔ فیڈرل یونین آف جرنلس کے صدر رانا عظیم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شہبازشریف بہادر لیڈر ہیں جنہوں نے پہلے غربت ، جہالت او ربیروزگاری کے خلاف جنگ لڑی اور اب وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں موثر اقدامات کر رہے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے پوری صحافی برادری آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور آپ سے اظہار یکجہتی کے لئے ہی یہاں آئے ہیں۔سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے کہاکہ شہبازشریف نے ملک بھر سے صحافیوں کو بلا کر ہماری عزت افزائی کی ہے ۔بلوچستان سے جعفر ترین ،خیبر پختونخوا سے خرم شہزاد جدون ،پنجاب سے عامر سہیل کے علاوہ نائب صدر فیڈرل یونین آف جرنلسٹ امین عباسی ، سینئر صحافی سلمان غنی، پرویز شوکت او ردیگر عہدیداران نے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر اقدامات پر وزیراعظم نوازشریف کی حکومت اورپنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیرصدارت یہاں شعبہ صحت میں اصلاحات کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں شعبہ صحت کی بہتری کے حوالے سے اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبے کے عوام کو معیاری اوربہترین طبی سہولتوں کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے۔صحت کا براہ راست تعلق تعلیم،ترقی و خوشحالی سے منسلک ہے ۔ بہترین اورمعیاری صحت عامہ کی سہولتوں کی فراہمی پربھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے او راسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے شعبہ صحت میں انقلابی اصلاحات متعارف کرانے کیلئے تسلسل کے ساتھ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ صحت کے حکام صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے اہداف کاتعین کر کے ان کے حصول کیلئے دن رات ایک کردیں ۔ہیلتھ کےئرسسٹم میں اصلاحات متعارف کرانا وقت کی ضرورت ہے۔صحت عامہ کی بہترین سہولتیں یقینی بنانے کیلئے مشترکہ کوششوں اور محنت کیساتھ ٹیم ورک کے طورپر کام کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب کے نرسنگ سکولوں کو اپ گریڈ کرکے نرسنگ کالجوں کا درجہ دینے کی منظوری دیتے ہوئے صوبے میں چارسینٹر آف ایکسیلنس نرسنگ کالجوں کے قیام کا بھی اعلان کیا۔وزیراعلیٰ نے تین اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے قیام کے پائلٹ پراجیکٹ کی بھی منظوری دی۔اجلاس میں خود مختار طبی اداروں میں قائم غیرفعال بورڈآف مینجمنٹ کوتبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ غیر فعال بورڈکی قطعاًکوئی ضرورت نہیں،بورڈ میں فعال اوراچھی شہرت کی حامل شخصیات کو شامل کیا جائے ۔اجلاس میں صوبے کے ڈسٹرکٹ و تحصیل ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈز کومرحلہ وار اپ گریڈ کرنے اور علیحدہ پیڈیاٹرک وارڈمختص کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ادویات کی خریداری وتقسیم کے ساتھ معیار کو یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ کا موثر نظام وضع کیا جائے۔محکمہ صحت میں اوپر سے نچلی سطح تک احتساب کا جامع میکانزم متعارف کرایا جائے۔موثر مانیٹرنگ کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ڈیجیٹل نظام بنایا جائے ۔ڈاکٹروں،نرسوں اورپیرامیڈیکل سٹاف کی تربیت کے حوالے سے پیشہ وارانہ انداز سے پروگرام مرتب کیا جائے ۔ صوبے کے دوردرازعلاقوں میں فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو خصوصی مراعات دینے کے حوالے سے پلاننگ کی جائے او راس ضمن میں جامع سفارشات مرتب کی جائیں۔دوردرازعلاقوں کیلئے ڈاکٹروں، نرسوں اورپیرامیڈیکل سٹاف کی بھرتی کا عمل انتہائی شفاف ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں میں مشینری اورآلات کو فنکشنل رکھنے کے حوالے سے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے او راس ضمن میں ہسپتالوں میں خراب ہونیوالی مشینری کو ٹھیک کرنے کیلئے بائیو میڈیکل انجینئرنگ ورکشاپ کے قیام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ہسپتالوں کے ویسٹ کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کیلئے پنجاب بھر میں انسینیریٹرز(Incinerators)لگائے جائیں اور اس نظام کو آؤٹ سورس کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ صحت عامہ کی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے لیڈی ہیلتھ ورکرزکا کرداراہمیت کا حامل ہے ،اس ضمن میں مربوط پروگرام تشکیل دیا جائے۔ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اورنرسوں کی تعدادکی شرح مریضوں کی تعدادکے حوالے سے مناسب ہونی چاہیے۔ہسپتالوں میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا جائے ۔وزیراعلیٰ نے شعبہ صحت میں اصلاحات کے پروگرام پر تیز رفتاری سے پیش رفت کے حوالے سے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ صحت میں اصلاحات کے جامع پروگرام کے بارے میں خود ماہانہ دو بارمیٹنگ کروں گا۔ہسپتالوں میں معیاری اوربہترین طبی سہولتوں کی فراہمی عوام کا حق ہے جو انہیں دیں گے اور اس ضمن میں ہیلتھ منیجرز پر بھی صحت عامہ کے حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے ہر طرح کے وسائل حاضر ہیں ۔صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے نئے عزم کے ساتھ انقلابی اقدامات کا آغاز کیا جارہا ہے او رمجھے امید ہے کہ ہم سب کی مشترکہ کاوشوں سے عوام کوحقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا اور شعبہ صحت میں بہتری آئے گی اور صحت مند پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔سیکرٹری صحت پنجاب اور سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ نے شعبہ صحت میں اصلاحات متعارف کروانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزراء میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان،ذکیہ شاہنواز،مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق،مشیراقتصادی امور ڈاکٹر اعجاز نبی، پارلیمانی سیکرٹری صحت خواجہ عمران نذیر،اراکین اسمبلی رانا ثناء اللہ ،ڈاکٹر نادیہ عزیز، شہبازاحمد،عدنان فرید، مخدوم ہاشم جوان بخت، چیف سیکرٹری،متعلقہ سیکرٹریز،طبی ماہرین اوراعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت یہاں اجلاس میں سانحہ پشاورکو ایک ماہ مکمل ہونے پر شہید ہونے والے آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں اوراساتذہ کے درجات کی بلندی اورغمزدہ خاندانوں کو صبر جمیل کے لئے خصوصی دعاکی گئی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف اوراجلاس کے شرکاء نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اوراجلاس میں ملک سے دہشت گردی اورانتہاء پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے بھر پور عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ پشاور میں پیش آنے والے دہشت گردی کے بدترین واقعہ پر ہر آنکھ اب تک اشکبار ہے۔ شہید ہونے والے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کے خون کے طفیل سیاسی اور فوجی قیادت سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایک ہوچکی ہے ۔ اتحاد اوراتفاق کی قوت سے دہشت گردوں کو عبرتناک شکست دیں گے۔شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔یہ جنگ پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے جو ہر قیمت پر جیتیں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...