ہر تھانے کا ایس ایچ او اور انچارج انویسٹی گیشن برابر ذمہ دار اور اکٹھے کام کرینگے

ہر تھانے کا ایس ایچ او اور انچارج انویسٹی گیشن برابر ذمہ دار اور اکٹھے کام ...

لا ہورّ (کرا ئم سیل )ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے کہا کہ کسی بھی تھانے کا ذمہ دار صرف ایس ایچ او ہی نہیں بلکہ انچارج انوسٹی گیشن بھی ہوگا۔تھانے میں ایس ایچ اواور انچارج انوسٹی گیشن اکٹھے کام کریں گے۔لاہور پولیس کے پا س اپنی عزت بحال کر نے کا یہ نادر موقع ہے کہ لوگوں کی خدمت کر کے اپنا اصل مقام واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ تھانوں میں کا م ہوگا تو ایس ایچ او رہے گا۔ مقدمات کو عدم پتہ کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کاروائی ہوگی۔کاراور موٹر سائیکل کی چوری روکنے میں انٹی کارلفٹنگ سکواڈ بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور کاروائی کریں۔ڈی ایس پی اور ایس ایچ او حضرات قتل کے مقدمات کے مددعیوں کو بلا کر خود ملاقات کریں ۔ہر سپاڈینٹ اور اپر سپاڈینٹ کے ذمہ ٹرپل ون نظام کے تحت پی اوز اور ٹی اوز کی گرفتاری کا ٹاسک دیں۔تھانے میں ہراہلکار کی ٹاسنگ کی جائے۔489کے مقدمات کے تمام مددعیوں کو بلایا جائے۔

سمجھوتہ ا یکسپریس اور دوسری بس کے روٹ پر اضافی نفری تعینات کی جائے۔حوصلہ، فرض شناسی اوراپنے گردونواح سے باخبر رہتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کو شکست دیناہو گی۔ہم محکمانہ ہنر اورمربوط حکمتِ عملی کے ذریعے ملک دشمن عناصر کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ علاقوں میں پولیس پٹرولنگ کو موئثر بنایا جائے تاکہ جرائم پر قابوپا یا جا سکے۔شہر میں ڈکیتی ،چوری ، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کریمینلز کا تھانوں میں بیٹھ کر انتظار نہیں کیا جا سکتا ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں کنیٹ ڈویژن آپر یشنز اور انوسٹی گیشن ونگزکی مشتر کہ کرائم کنٹرول میٹنگ کے دوران کیا۔ میٹنگ میں ایس پی کینٹ محمد ندیم سمیت سرکل آفیسرز، ایس ایچ اوز اورانچارج انویسٹی گیشن حضرات نے شرکت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈکیتی مزاحمت پر قتل کسی صورت برداشت نہیں۔جائے وقوعہ پر متعلقہ ایس پی اور ڈی ایس پی خود جائیں۔ ہر تھانے کی حدود میں چھاپے روزانہ کی بنیاد پر ہوں گے۔منشیات کے بوگس پرچے دینے والے ایس ایچ اوز کے خلاف سخت کاروائی ہو گی ۔ڈکیتی کی واردات کو چوری میں بدلنے والے ایس ایچ اوز کے خلاف سخت کارروئی کی جائیگی۔

مزید : علاقائی


loading...