پوپ فرانسس کا فقرہ، پاکستانی سیاست دان بھی غور کریں!

پوپ فرانسس کا فقرہ، پاکستانی سیاست دان بھی غور کریں!

تجزیہ چودھری خادم حسین

پوپ فرانسس نے فرانسیسی جریدے کی پھر سے ناپاک جسارت کی مذمت کر دی اور بہت ہی معقول انداز سے پتے کی بات کی وہ کہتے ہیں کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے مذہب کی توہین کا مرتکب ہو، اس سلسلے میں ان کا یہ فقرہ قابل غور ہے ”اگر کوئی میری ماں کو گالی دے تو اسے میرے مُکّے کے لئے بھی تیار رہنا چاہیے“۔ جریدے پر حملہ اور سترہ افراد کے قتل کے بعد دنیا میں کسی بھی جگہ اس کی حمایت نہیں کی گئی، حتیٰ کہ مسلمانوں نے بھی شرمندگی محسوس کی اور حملہ آوروں کی مذمت ہی کی، لیکن جریدے والے اپنے ناپاک ارادوں سے باز نہیں آئے اور توہین آمیز خاکے پھر سے شائع کردیئے۔ اس پراب پورا عالم اسلام مضطرب ہے۔ پاکستان میں گزشتہ روز (جمعہ) بھرپور احتجاج کیا گیا، جبکہ اس سے ایک روز قبل قومی اسمبلی میں یکجہتی کا مظاہرہ ہوا، قرارداد تو متفقہ طور پر منظور ہونا ہی تھی سو ہوئی۔ حاضر اراکین نے مشتعل جذبات کو ایک مظاہرے کی شکل بھی دی اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر باہرنکل آئے اور نعرے بھی لگائے۔ یہ امر ساری دنیا پر واضح ہے کہ مسلمانوں کا اثاثہ ہی حضور پاک کی ذات اقدس ہے اور ”حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے“.... خالی نعرہ ہی نہیں اس کے عملی ثبوت بھی ایک سے زیادہ مرتبہ دیئے جا چکے ہیں۔ یہ درست کہ عالم اسلام دہشت گردی کے خلاف اور خود بھی اس کا شکار ہے، لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ کوئی مسلمانوں کی دل آزاری کے لئے رکیک حرکتیں کرے، ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم کسی کے جھوٹے کو بُرا نہیں کہتے کہ کوئی ہمارے سچے کو کہے۔ مسلمانوں نے بحیثیت مجموعی دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کی ہے تو اب مغربی ممالک کو بھی ایسے لوگوں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کرنا چاہیے۔

پوپ فرانسس کے جس فقرے کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے وہ ہم پر اور ہماری اندرونی سیاست پربھی صادق آتا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اور جماعتوں نے بھی ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کا وطیرہ بنا رکھا ہے اور یہ بھی حد سے گزر جاتے ہیں، ان سب کو احساس ہونا چاہیے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے، اگر کوئی کسی دوسرے کو گالی دے گا یا فقرے بازی کرے گا تو اسے اس طرف سے بھی ایسی ہی توقع رکھنا چاہیے تو صاحبو! آپ میڈیا سے اخلاق کی توقع رکھتے اور اس کے لئے نئے نئے ضابطوں کی بات کرتے ہیں تو ذرا اپنے رویے پر بھی غور فرما لیں۔

ہم نے تحریک انصاف کے عمران خان کے مطالبات کو درست جانتے ہوئے بھی ان کے انداز فکر کی شروع سے مخالفت کی اور ان کے لب و لہجے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ان کی طرف سے اوئے اوئے کی بھی مذمت کی، لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کو بھی یہ احساس ہوگیا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں کرتے رہے، گزشتہ روز ان کی پریس کانفرنس میں غصہ والا رویہ نہیں تھا وہ ٹھیک بات کر رہے تھے۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنا موقف اور مطالبہ پیش کریں جواب میں ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا درست عمل نہیں۔

آج کے معروضی حالات میں اتحاد و یگانگت اور اتفاق ہی کی ضرورت ہے اور یہ اتحاد پشاور آرمی سکول کے بچوں کی شہادتوں نے پیدا کر دیا تھا، اسے ضائع نہ ہونے دیں، اب اگر عمران خان نے اسحاق ڈار کو لکھا خط بھی دکھا دیا اور دوسری طرف سے مثبت جواب بھی دیا گیا اور توقع کی گئی ہے کہ اسحاق ڈار کی واپسی پر مذاکرات پھر ہوں گے تو اس وقت تک کے لئے الزام تراشی کی ”سیز فائر“ تو کرلیں۔

اس حوالے سے دینی اور دینی سیاسی جماعتوں سے بھی جوش پر ہوش کے غالب ہونے کی استدعا ہے کہ اگر ترمیم میں الفاظ پر اعتراض ہے تو حکومت کی یقین دہانی پر تو غور کریں اور حکمران جماعت کو بھی چاہیے کہ تحفظات دور کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے تو اندور بھی کریں۔ جہاں تک مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے تو ان کو بھی مکتب و مسجد کے حوالے سے اتنا زیادہ حساس نہیں ہونا چاہیے کہ غلطی سے یا جان بوجھ کر دہشت گردوں کی معاونت والوں کا بھی دفاع کرنے لگیں، آپ سب کو بھی حکمرانوں سے تفصیلی مذاکرات کر لینا چاہئیں کہ حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گرد بھی اسلام ہی کا نام لے کر یہ سب کچھ کررہے ہیں اور ان کی طرف سے ہی سب کچھ گڈ مڈ کیا گیا ہے۔ آخر وہ ہمارے بچوں کو مار رہے ہیں۔ مسلسل سکول گرا رہے ہیں۔ ہمارے فوجیوں کو شہید کرنے اور اہم تنصیبات کو دشمن کی طرح کارروائی کرکے اڑا رہے ہیں۔ان حالات کو پیش نظر رکھیں، ملک میں انتشار و افتراق نہ پیدا ہونے دیں اور اندرونی فضا کو بہتر بنانے میں تعاون کریں کہ یہ ناسور ختم ہو سکے۔

مزید : تجزیہ


loading...