قاسمی صاحب اور شہباز شریف سے معذرت

قاسمی صاحب اور شہباز شریف سے معذرت
قاسمی صاحب اور شہباز شریف سے معذرت

  


پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف، جو اپنی گفتگوؤں اور تقریروں میں جابجا اشعار کی پیوندکاری کرتے ہیں، کئی بار کہہ چکے ہیں کہ معاشرے میں تبدیلی شاعری سے نہیں، عمل سے آئے گی۔ ان کے تجربے کی حد تک ممکن ہے کہ یہ بات درست ہو، لیکن ہمارے مولانا الطاف حسین حالی نے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ میں تاریخ سے مثالیں دے کر ثابت کیا ہے کہ شاعری سے بڑے بڑے کام لئے جا سکتے ہیں۔ اس سے لوگوں کو بدلا جا سکتا ہے۔ہم اس سلسلے میں اقبال کی مثال دے سکتے ہیں، جنہوں نے اپنی شاعری سے برصغیر کے خوابیدہ مسلمانوں کو جگایا۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنی ہنگامی شاعری سے بہت کچھ بدلنے کی سچی کاوش کی۔ فیض احمد فیض سخن کے ذریعے سے کمیونسٹ انقلاب لانے کی کوشش کرتے رہے۔ پھر حبیب جالب کو دیکھ لیجئے، انہوں نے شاعری کے ذریعے عام لوگوں کا شعور بیدار کیا۔ اب انہی حبیب جالب کا کلام میاں شہباز شریف جلسوں اور تقریبات میں ترنم کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ گویا یوں وہ اپنے اندر رونما ہونے والی تبدیلی کا برسرعام اقرار کرتے ہیں۔ سوطے شدہ بات یہی ہے کہ شاعری، کارِ بیکار نہیں، شاعر کا ایک شعر کسی مقرر کی مدلل تقریر پر بھاری ہوتا ہے۔ بعض اوقات حاضرین مقرر کی پوری تقریر کے دوران میں سوئے رہتے ہیں، جونہی وہ مقرر کوئی شعر پڑھتا ہے، وونہی حاضرین جاگ جاتے ہیں اور داد کے ڈونگرے برسانے لگتے ہیں۔ میر تقی میر نے تبھی تو کہا تھا:

اس میں راہِ سخن نکلتی تھی

شعر ہوتا ترا شِعار اے کاش!

میاں شہبازشریف کے بارے میں یہ بات بہرحال طے ہے کہ وہ شعر کا نہایت عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ نکتہ شناس ہیں۔ زبان کی باریکیوں سے بھی آگاہ ہیں۔ پنجابی ہونے کے باوجود اہلِ زبان کی سی اردو بولتے ہیں۔ وہ اپنی گفتگو میں روزمرہ اور محاورے کا پورا اہتمام کرتے ہیں۔ لگتا ہے کہ گفتگو اور تقریر کے دوران میں میاں صاحب کے دھیان میں یہ بات ہر لمحہ رہتی ہے کہ ان کی بات، ان کے عہد کے اہلِ ادب بھی سن رہے ہیں۔ گویا وہی میر تقی میر والی بات ہو گئی:

شعر میرے ہیں گو خواص پسند

گفتگو پر مجھے عوام سے ہے

دس جنوری کی سہ پہر تقریباً تین بجے نام ور کالم نگار مزاح نویس، شاعر اور چیئرمین الحمرا آرٹس کونسل عطاء الحق قاسمی کا فون آیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے اندر اندر ان کے ادبی جریدے ’’معاصر‘‘ کے دفتر پہنچ جاؤں۔ ایک خاص محفل میں جاناہے۔ ہم اکٹھے چلیں گے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے مزید بتایا کہ ایک نجی محفل ہے جہاں میاں شہبازشریف بھی ہوں گے اور وہاں تم اپنا کلام سناؤ گے۔ جب مَیں نے انہیں بتایا کہ مَیں اس وقت اپنی بیمار والدہ کے پاس ملتان میں ہوں، حاضر نہیں ہو سکوں گا تو انہوں نے میری معذرت فوراً قبول کرلی۔ قارئین کو بتاتا چلوں کہ میرے والدین ملتان میں رہتے ہیں۔ دونوں ہی بیمار رہتے ہیں، لیکن والدہ کی طبیعت پچھلے دنوں کچھ زیادہ بگڑ گئی تو مَیں انہیں نشتر ہسپتال ملتان کی ایمرجنسی میں لے گیا، جہاں فوری طور پر ان کا معائنہ اور علاج کیا گیا۔ پھر انہیں ہسپتال کے وارڈ نمبر ایک (شعبہ ء امراضِ قلب) میں داخل کرلیا گیا۔ ہلال احمر کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی نے ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جانے کو کہا۔ انہوں نے ایم آئی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر رانا محمد الطاف کو فون بھی کر دیا، لیکن بفضلِ خدا، والدہ محترمہ نشتر ہسپتال میں چند دن رہنے کے بعد گھر آ گئیں۔ اب کچھ طبیعت بہتر ہے، لیکن دوستوں کی دعاؤں کی تاحال ضرورت ہے۔

یہاں مجھے میاں شہباز شریف صاحب سے معذرت کرنا ہے کہ مَیں اپنا تازہ کلام سنانے کے لئے حاضر نہیں ہو سکا، تاہم جو کلام مجھے سنانا تھا، اس میں سے چند اشعار یہاں درج کررہا ہوں۔ میرے پکے قارئین بھی پڑھ لیں گے اور میاں صاحب بھی۔

کشادہ رستے ہیں اور منزلیں بھی مائل ہیں

مسافروں کے مگر اپنے ہی مسائل ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام رات رہے، خواب میں بھی محوِ سفر

کھلی جو آنکھ تو دیکھا کہ پاؤں گھائل ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بنا کے رکھے ہیں خود ہم نے اپنے ہاتھوں سے

ہماری راہ میں جتنے پہاڑ حائل ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا کے گھر میں بھی دستِ دعا اٹھاتے نہیں

کہ ناخدا نہ سمجھ لے کہ ہم بھی سائل ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ان کا نام و نسب رہزنوں سے ملتا ہے

وگرنہ راہ نماؤں کے ہم بھی قائل ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہے زندگی کے مسائل سے زندگی کا وجود

خدا کا شکر ہے، اپنے بھی کچھ مسائل ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مراسم ان کے سبھی زاہدوں سے ہیں ناصر

ہمارے شہر میں جتنے پری شمائل ہیں

________________

ہمیں بچشمِ خریدار دیکھنے والے

فقط ہیں، گرمی ء بازار دیکھنے والے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے پاؤں کے چھالے کبھی تو دیکھیں گے

ہمارے سر پہ یہ دستار دیکھنے والے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام لوگ جو رکھتے ہیں شاعرانہ مزاج

ہیں کائنات کے اُس پار دیکھنے والے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پڑے ہیں رائی کی صورت زمین پر ناصر

خود اپنی ذات میں کہسار دیکھنے والے

________________

نہیں رہے، دل بے تاب دیکھنے والے

سبھی ہیں ماتھے پہ محراب دیکھنے والے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے ضبط کا پشتہ ہے ٹوٹنے والا

ہم اپنے گھر میں ہیں سیلاب دیکھنے والے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدن کو آگ لگائی ہے اس لیے ناصر

ہمیں ہیں انجم و مہتاب دیکھنے والے

مزید : کالم


loading...