اندرون شہر غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر والڈ سٹی اتھارٹی کے افسروں کی طلبی

اندرون شہر غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر والڈ سٹی اتھارٹی کے افسروں کی طلبی

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے اندرون شہر غیر قانونی رہائشی اورتجارتی عمارتوں کی تعمیر کے خلاف دائر درخواست پر لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کے ذمہ دار افسروں کو طلب کرلیاہے۔گزشتہ روزدرخواست گزارآصف علی مرزا کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ 2012 ؁ء سے والڈ سٹی اتھارٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور ضلعی حکومت سے اختیار لے کر والڈ سٹی کے اندر تمام تعمیرات اور نقشہ جات کی منظوری اس کے اختیار میں آگئی ہے مگر وہ اپنا اختیار منوانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اندرون شہر میں تقریباً 400کے قریب غیر قانونی عمارتیں بن چکی ہیں اس سے شہر کا حسن خراب ہوگیا ہے ،جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ ابھی تک کیا اس نظام میں بہتری نہیں آئی ۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات رکوانے کے لئے والڈ سٹی اتھارٹی نے دیوانی عدالت سے حکم امتناعی لیاتھاجو بعد میں عدم پیروی بناء پرخار ج ہوگیا ،اب ٖغیر قانونی عمارتیں سیل کی جاتی ہیں اور بعد میں سیلیں توڑ دی جاتی ہیں ۔جسٹس سید منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا والڈ سٹی اتھارٹی اپنے اختیارات استعمال نہیں کررہی ؟فاضل جج نے کیس کی سماعت 22جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ آئندہ تاریخ سماعت پر والڈسٹی اتھارٹی کے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...