لاہور ہائیکورٹ میں نامعلوم افراد کی طرف سے جعلی درخواست بازی کا انکشاف

لاہور ہائیکورٹ میں نامعلوم افراد کی طرف سے جعلی درخواست بازی کا انکشاف

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ میں نامعلوم افراد کی طرف سے جعلی درخواست بازی کا انکشاف ہوا ہے،اس انکشاف پر عدالت چونک گئی جبکہ کمرہ عدالت میں موجود وکلاء نے سر پکڑلیا۔ نامعلوم درخواستوں کے ذریعے سرکاری محکموں اور عدالت عالیہ کو دھوکہ دینے والا گروہ کون ہے، یہ جاننے کے لئے ہائیکورٹ نے کارروائی شروع کردی ۔لاہور ہائیکورٹ میں نامعلوم افراد کی طرف درخواستیں دائر کرنے کا انکشاف تب ہوا جب جسٹس شہزادہ مظہر کے روبروجام شیر کلاں گاؤں چونیاں کے رہائشی محمد افضل تبسم نے پیش ہو کر بتایا کہ اس کے نام کے ساتھ عدالت کے ربرو جو درخواست زیر سماعت ہے جس میں 13 کنال 13 مرلے اراضی کی فرد بیع جاری کروانے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے ،اس درخواست سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، دیہاتی نے عدالت میں بیان حلفی جمع کراتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی اراضی ہی نہیں ہے جس کی فرد بیع کے لئے عدالت سے رجوع کیا جائے جبکہ عتیق الرحمن مغل نامی جس وکیل وساطت سے یہ درخواست دائر کی گئی ہے وہ اس کو جانتا تک نہیں ہے، دیہاتی کے اس انکشاف پر عدالت تو چونک ہی گئی جبکہ کمرہ عدالت میں موجود اور وکلاء بھی سرپکڑ کر بیٹھ گئے ، عدالت میں پیشی کے لئے قصور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے آئے ہوئے ریونیو افسر تحصیل چونیاں اسامہ امانت نے بتایا کہ وہ اسی نوعیت کی کم از کم 10درخواستیں بھگت چکا ہے ، جب وہ عدالتوں میں جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ درخواست گزار ہی کوئی نہیں یا پھر وہ جعلی ہوتا ہے، انہوں نے بتایا کہ کنگن پور کے علاقے میں رانا بشیر ایڈووکیٹ نامی ایک شخص قبضہ گروپ کا سرغنہ ہے اور انہوں نے غریبوں کی زمینوں پر قبضے کرنے کے لئے ایسی درخواست بازی کا نیا حربہ ایجاد کیا ہے ، اسی نوعیت کی پہلی درخواستوں کے پیچھے بھی یہ گروہ نکلاتھا ، تھانہ کنگن پور میں رانا بشیر ایڈووکیٹ کے خلاف ڈکیتی، چوری ، قتل سمیت سنگین جرائم کے کئی مقدمات ہیں اور وہ کئی مقدمات میں اشتہاری بھی ہے مگر وکیل ہونے کی بنا پر کوئی اس کے خلاف کارروائی نہیں کرتا، عدالت نے دیہاتی افضل تبسم کے بیان حلفی کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے 32 ملتان روڈ چوک چوبرجی کے ایڈریس پر عتیق الرحمان مغل نامی ایڈووکیٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27جنوری کو طلب کر لیاتاکہ کارروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...