وزیرریلوے سعد رفیق کاپوپ فرانسس کے بیان کا خیر مقدم

وزیرریلوے سعد رفیق کاپوپ فرانسس کے بیان کا خیر مقدم

لاہور (سٹاف رپورٹر)وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے پوپ فرانسس کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے، جس میں مسیحی برادری کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا نے آزادئ اظہار کے نام پر کسی بھی مذہب کا تمسخر اُڑانے کی مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پوپ فرانسس کا یہ بیان بین المذاہب ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرنے اور تہذیبوں کے تصادم کے خواب دیکھنے والوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جس میں پوپ نے آزادئ اظہار کی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ آزادئ اظہار کے نام پر کسی کو اشتعال دلایا جاسکتا ہے، نہ کسی کے مذہب کی توہین کی جاسکتی ہے کیونکہ ہر مذہب کا اپنا وقار اور حدود ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ مذہب کے نام پرہر قسم کا تشدد قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت ہے لیکن پوپ کے اس بیان پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ’’اگر میرا اچھا دوست میری ماں کو بُرابھلا کہتا ہے تو اسے میرے جوابی مکّے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔‘‘خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دراصل پیغمبر انسانیت ہیں جو تمام جہانوں کے لیے، ساری مخلوق کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام سارے انسانوں کے لیے ہدایت و رہنمائی اور محبت واخو ت کا پیغام ہے۔ مسلمان قبل از اسلام کے تمام انبیاء پر ایمان اور ان کے احترام کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذہبی احساسات و جذبات کو مشتعل کر کے بین المذاہب ہم آہنگی کو تباہ کرنے کی سازش بھی دہشت گردی ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی امن اور ہم آہنگی کے لیے پوپ پال فرانسس جیسے دانش مند مذہبی رہنماؤں کا کردار وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...