خفیہ اور غیر رسمی رجسٹرڈ مدارس کی نشاندہی کیلئے سروے شروع ، مدارس 3درجوں میں تقسیم

خفیہ اور غیر رسمی رجسٹرڈ مدارس کی نشاندہی کیلئے سروے شروع ، مدارس 3درجوں میں ...

اسلام آباد( مانیٹرنگ ،اے این این) وفاقی حکومت نے خفیہ اور غیر رجسٹرڈ مدارس کی نشاندہی کے لئے سروے شروع کر دیا،مدارس3درجوں میں تقسیم،سرخ درجہ بندی والے مدارس کو سبز درجے میں لانے کی کوشش کی جائیگی ناکامی پرانسداد دہشتگردی کے نئے قوانین کے تحت کارروائی ہو گی،مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔برطانی نشریاتی ادارے’’بی بی سی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے ملک میں قائم دینی مدارس کے جامع اور مکمل کوائف جمع کرنے کے لیے ایک سروے کا آغاز کر دیا ہے جس کے نتائج کی بنیاد پر ان مدارس کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس سروے کی بنیاد پر مدارس کو سرخ اور سبز درجہ بندی میں تقسیم کیا جائیگا اور سرخ درجہ بندی والے مدارس کو پہلے سبز بنانے کی کوشش کی جائے گی اور ایسا کرنے میں ناکامی پر ان مدارس کے خلاف انسداد دہشت گردی کے نئے قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔سرخ اور سبز مدارس کی نشاندہی کے لیے وزارت داخلہ نے ایک موبائل فون ایپلیکشن بھی تیار کی ہے جو مدارس کا سروے کرنے والے اہلکاروں کو فراہم کی جائے گی۔اس ایپلیکشن کے ذریعے سروے کیے جانے والے مدرسے کی تصاویر اور دیگر تفصیلات وزارت داخلہ میں نصب نظام تک فورا ارسال کی جا سکیں گی۔پشاور سکول حملے کے پس منظر میں بننے والے قومی ایکشن پلان کی منظوری کے بعد شروع ہونے والے اس سروے کی تصدیق کرتے ہوئے مذہبی امور کے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے بتایا کہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ وفاقی دارلحکومت میں ایک ساتھ شروع ہونے والا سروے بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتوں کے اہلکار مدارس کے اندر جا کر وہاں موجود تدریسی عملے اور طلبا کے کوائف جمع کر رہے ہیں۔ سروے کے بعد ہمیں ان مدارس کے بارے میں بالکل درست معلومات مل جائیں گی کہ طلبا کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اسی طرح تدریسی اور دیگر عملے کے کیا کوائف ہیں۔ وہاں نصاب میں کیا کچھ پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عمارت کہاں ہے اور کیسی ہے، یہ سب معلومات اس جامع سروے کے بعد سامنے آ جائیں گی۔پاکستان میں رجسرڈ مدارس کی تعداد تقریبا 30 ہزار ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ مدارس کے ساتھ مشاورت سے حکومت وفاق کی سطح پر ایسا ریگولیٹری ادارہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جو مدارس کی رجسٹریشن سے لے کر نصاب تک کی منظوری دے گا۔دینی مدارس کے لیے بنائی جانے والی اس ریگولیٹری اتھارٹی میں محکمہ تعلیم، داخلہ کے حکام، علما اور مدارس کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ ادارہ مدارس کی رجسٹریشن کرے گا اور انہیں دنیاوی علوم پڑھانے کے لیے اساتذہ فراہم کرنے کے علاوہ انہیں فنڈز اور کمپیوٹر بھی سرکاری خزانے سے فراہم کرے گا۔\"وفاقی وزیر نے بتایا کہ مدارس کے منتظمین کی مشاورت سے ان دونوں منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور بہت جلد ملک میں مدارس کے بارے میں ایسا نظام تشکیل پا جائے گا جس پر مدارس اور حکومت دونوں متفق ہوں گے۔انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ ملک میں قائم مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں یا وہاں فرقہ وارانہ شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے: میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ ہمارے مدارس کسی قسم کی انتہا پسندی میں ملوث نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت رجسٹرڈ مدارس پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں پر ایسا کام کرنا ممکن نہیں ہے۔مدارس کے بارے میں جاری سروے کے بعد ایسے مدارس کی نشاندہی بھی ہو جائے گی جس کے بعد اپنے آپ کو رجسٹر نہ کروانے والے مدارس کے خلاف آئین کی اکیسویں ترمیم کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات چلیں گے۔البتہ انہوں نے تسلیم کہ بعض ایسے مدارس جو رجسٹرڈ نہیں ہیں اور خفیہ طور پر شدت پسندی کی ترویج بھی کرتے ہیں اور دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ بھی ان کے روابط ہیں۔مدارس کے بارے میں جاری سروے کے بعد ایسے مدارس کی نشاندہی بھی ہو جائے گی جس کے بعد اپنے آپ کو رجسٹر نہ کروانے والے مدارس کے خلاف آئین کی اکیسویں ترمیم کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات چلیں گے۔وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہی وہ مدارس ہیں جو سرخ درجہ بندی میں شامل رہیں گے اور سروے کے بعد اگر یہ مدارس سبز درجہ بندی میں نہ آئے تو ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سروے سے قبل ملک میں قائم مدارس کو تین درجوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور اسی کے مطابق سروے کے دوران ان سے کوائف اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ایک رجسرڈ مدارس ہیں جن کی تعداد تقریبا تیس ہزار ہے۔ ان مدارس کے ساتھ نصاب میں تبدیلی کے لیے بات چیت ہو رہی ہے جبکہ دوسری قسم غیر رجسٹرڈ مدارس کی ہے اور حکومت ان مدارس کو کسی نظم میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔تیسری اور حکومت کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث خفیہ مدارس ہیں جن کی تعداد اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں حکومت کے پاس کسی قسم کی اطلاعات نہیں ہیں اور یہی مدارس حکومت کے لیے اصل درد سر بنے ہوئے ہیں۔بی بی سی کے مطابق حکومت اس وقت تو بہت مبہم باتیں کر رہی ہے کہ دس فیصد مدارس شدت پسندی میں ملوث ہیں۔ملک میں رجسٹرڈ مدارس کی تنظیمیں بھی اب ایسے مدارس سے اعلان لا تعلقی کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔تنظیم وفاق المدارس کے سربراہ قاری حنیف جالندھری نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹریو میں کہا کہ انہیں ایسے مدارس کے خلاف کارروائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے جو دہشت گردی یا شدت پسندی میں ملوث ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم تو ایسے لوگوں اور اداروں کے خلاف کارروائی میں حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے بھی تیار ہیں۔ لیکن حکومت کو پہلے ایسے مدارس کی نشاندہی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت تو بہت مبہم باتیں کر رہی ہے کہ دس فیصد مدارس شدت پسندی میں ملوث ہیں۔حنیف جالندھری نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے مدارس کی نشاندہی کرے، فہرست بنائے اور پھر انہیں باقی مدارس سے علیحدہ کر کے ان کے خلاف کارروائی کرے تو کوئی بھی تنظیم یا مدارس اس کارروائی میں مزاحمت نہیں کریں گے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...