ایکسائز کی 50ہزار فائلوں کا سراغ نہ مل سکا، ملوث اہلکار آزاد

ایکسائز کی 50ہزار فائلوں کا سراغ نہ مل سکا، ملوث اہلکار آزاد

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور کی موٹر برانچ سے گم ہونے والی 50ہزار سے زائد گاڑیوں کی فائلوں کا سراغ نہ مل سکا۔ فائلوں کی گشدگی میں موٹربرانچ کے اپنے ہی ملازمین کے ملوث پائے جانے کے شواہد سامنے آنے کے باوجود کسی بھی اہلکار کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کی جاسکی۔گمشدہ فائلوں کے مالک کوڑیوں کے بھاؤ گاڑیاں بیچنے پر مجبور ہوگئے۔معلوم ہواہے کہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور کی موٹر برانچ سے LEسیریز سے لیکر LXسیریز تک گاڑیوں کی مجموعی طورپر نو ہزار نو سو ننانوے رجسٹریشن نمبروں پر مشتمل 80سے زائد سیریز جاری رہیں ۔ جن کے تحت لاہور میں 2000تک8 لاکھ سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔جس کے بعد LRسیریز کے آغاز سے گاڑیوں کی اصل رجسٹریشن فائلیں گاڑی مالکان کو واپس کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ لیکن دوسری طرف معلوم ہواہے کہ لاہور کی موٹر برانچ سے وقتاً فوقتاً گم ہونے والی مجموعی طورپر50ہزار سے زائد گاڑیوں کی رجسٹریشن فائلوں کا معمہ حل نہیں ہوسکا۔یہ فائلیں کہاں ہیں۔ کیسے گم ہوئیں۔کوئی نہیں جانتا۔ فائلوں کا ریکارڈ رکھنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں کیوں نہ لائی جاسکی۔یہ بھی سوالیہ نشان ہے۔ ذرائع سے معلوم ہواہے کہ موٹر برانچ سے گاڑیوں کی اصل رجسٹریشن فائلوں کی گمشدگی میں محکمے کے اپنے ہی ملازمین مبینہ طورپر ملوث ہیں۔الزام ہے کہ محکمے کے ملازمین لالچ میں آکر عوام الناس کی ملکیت گاڑیوں کی اصل فائلیں سمگلروں ، چوروں اور جعلسازوں کو بیچتے ہیں ۔جو کہ ان فائلوں کے تحت چوری و سمگل شدہ گاڑیاں چلانے لگتے۔حا ل ہی میں محکمے کے اپنے ہی افسر نے اس بے ضابطگی سے پردہ اٹھا دیا۔ ایکسائز اینڈٹیکسیشن افسر ٹائی اپ محمد اظہر طارق نے محکمے کے محمد ندیم نامی کانسٹیبل کے خلاف ایک گاڑی کی اصل فائل بیچنے کے الزام کے تحت انکوائری کی ۔ تو دوران انکوائری یہ بات ثابت ہوئی کہ کانسٹیبل مذکورہ نے گاڑی کی فائل دانستاً بیچ ڈالی ہے۔جس پر ای ٹی او محمد اظہر طارق نے مزید انکوائری کی تو پتا چلاکہ موٹربرانچ کے ریکارڈ رو م سے گاڑیوں کی اصل فائلیں بڑی تعداد میں غائب ہیں۔ جو کہ مبینہ طورپر بیچ دی گئی ہیں۔ اس پر محمد اظہر طارق نے ڈائریکٹر موٹر ز لاہور کو ایک خط لکھا کہ محکمے کے اپنے ہی ملازمین گاڑیوں کی اصل فائلیں بیچنے کے جرم میں مبینہ طورپر ملوث ہیں۔ ان کے خلاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔مذکورہ خط ملنے کے بعد ڈائریکٹر موٹرز نے ای ٹی او محمد اظہر طار ق کو ہی ذمہ داری سونپی کہ موٹربرانچ کے تمام ریکارڈ کیپروں سے تمام سیریز نمبروں کے تحت موقعے پر موجود رجسٹریشن فائلوں کاریکارڈ حاصل کیا جائے۔لیکن ای ٹی او مذکور کے باربار لیٹر لکھنے کے باجود موٹر برانچ کے کلرکوں ا ور ریکارڈ کیپروں نے ریکارڈ فراہم نہ کیا۔مزیدمعلوم ہواہے ۔کہ2003میں محکمے نے انٹرنل آڈٹ کروایا تو یہ بات سامنے آئی کہ 20ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اصل فائلیں ریکارڈ سے غائب ہیں۔لیکن محکمے نے نہ تو ذمہ داروں کا تعین کیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی قسم کی تادیبی کاروائی کی۔جس کے باعث ریکارڈ کیپروں اور چھوٹے ملازمین کے حوصلے بڑھتے گئے۔اور محکمے کے ریکارڈ سے فائلوں کے غیاب کا سلسلے جاری رہا۔ موٹر برانچ لاہور سے جن سیریز نمبروں کی فائلیں مبینہ طورپر بیچی گئی ہیں۔ ان میں LOUسیریز کی دو سو سے زائد فائلیں۔LHOکی 28سو فائلیں۔LXE,LHL,سیریز کی 8سو فائلیں۔LOL, LOY,LORسیریز کی 987فائلیں۔ LXBکی 12سو فائلیں۔LHC, LHJسیریز کی 35سو فائلیں۔LXC,LHسیریز کی 24ئلیں۔LOTسیریز کی 250فائلیں۔ LXA , LOE, LPTسیریز کی 13فائلیں۔LOK,LHB,LXFسیریز کی 39سو فائلیں۔LHG,LOWکی 15سو فائلیں۔LXU, LXE, LOJ سیریز کی 27سو فائلیں۔LXA, LHU, LXJسیریز کی 13سو فائلیں۔LHM, LXB ,LOFسیریز کی 18سو فائلیں۔LHD,LXT LXHسیریز کی 37سو فائلیں۔LOA, LXMکی 82سو فائلیں۔LHZکی 4سو فائلیں۔ LXC, LOD,LHYکی 11سو فائلیں۔LXX, LXKکی5سو فائلیں۔LHPکی 16سو فائلیں۔LOP,LXH,LHTکی 12سو فائلیں۔LHW,LOS,LXLکی 9سو فائلیں۔LHK,LHN,LHBکی 36سو فائلیں۔LHNکی 6سو فائلیں۔LXV,LOGکی ایک ہزار فائلیں۔LOD, LXO,LOXکی 17سو فائلیں۔LOH, LHP,LXWکی 11سو فائلیں۔LXN, LHE,LHYکی 7سو فائلیں۔LOM,LXG, LHXکی 2ہزار فائلیں۔LOZ, LHKکی 17سو فائلیں۔LHH,LOR، 13سو فائلوں سمیت اب تک موٹر برانچ لاہور کے ریکارڈ روم سے مختلف نوعیت کی چھوٹی بڑی گاڑیوں کی 50ہزار سے زیادہ فائلیں غائب ہیں ۔ اور کسی بھی اہلکار کو اس ضمن میں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن گاڑیوں کی اصل رجسٹریشن فائلیں گم یا چوری ہوچکی ہیں۔ان کی مارکیٹ ویلیو نصف رہ گئی ہے۔ اور ان کے مالکان اصل دستاویزات کے بغیر کوڑیوں کے بھاؤ گاڑیاں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...