عراق میں داعش کا مقبوضہ علاقہ کم، شام میں جارحیت رک گئی

عراق میں داعش کا مقبوضہ علاقہ کم، شام میں جارحیت رک گئی

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف )امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ داعش کے ٹھکانوں پر اتحادیوں کے فضائی حملے موثر ثابت ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں عراق میں دہشتگردوں کا مقبوضہ علاقہ کم ہو گیا ہے جبکہ شا م میں ان کی جارحیت رک گئی ہے اور وہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ امریکہ نے داعش کے خلاف جنگ تیز کرنے کیلئے خطے میں مزید چار سو فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو ریکروٹس کی تربیت کے پروگرام کی نگرانی کریں گے ۔ پہلے سال کیلئے 50کروڑ ڈالر اس پروگرام کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔ ترکی ، سعودی عرب اور قطر نے تربیتی مراکز قائم کرنے کی پیش کش ہے جہاں پہلے مرحلے میں پانچ ہزار فوجی تیار ہوں گے جن کی تعداد بعد میں پندرہ ہزار تک پہنچ جائے گی ۔

یہ معلومات امریکی فوج اور پینٹا گون کے سینئر نمائندوں کے میڈیا کو دیئے گئے الگ الگ انٹرویو میں حاصل ہوئی ہے جن میں جنرل مارٹین ڈیمپسی اور پینٹا گون کے ترجمان ایڈمرل جان کربی اور علیسا سمتھ شامل ہیں ۔ خاتون ترجمان علیسا سمتھ نے بتایا کہ داعش کی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ریکروٹس تیار کرنے کا فیصلہ استنبول میں اعلی امریکی حکام کی شام کی اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں کیا گیا ۔

انہوں نے واضح کیا کہ تربیت حاصل کرنے والے یہ فوجی بشار الاسد کی انتظامیہ کے خلاف جنگ نہیں لڑیں گے بلکہ ان کا نشانہ شام میں سرگرم نام نہاد ’’ اسلامی مملکت ‘‘ اور القاعدہ کی شاخ نصرہ فرنٹ کے جنگجو ہونگے۔

ایڈمرل جان کربی نے ’’ ایم ایس این بی سی ‘‘ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہماری پہلی ترجیح عراق کے اندر آپریشن ہے لیکن اس کے بعد شام بھی اس میں شامل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اتحادیوں کے فضائی حملوں میں داعش کے قبضے میں آئل ریفائنری اور تیل ذخیرہ کرنے کے مراکز نشانہ بنے ہیں جس سے ان کے مالی حالات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم عراق میں گڈ گورننس پر زور دے رہے ہیں تاکہ نوجوان طبقہ وہاں دہشتگردوں کے فریب میں نہ آئے ۔ اس وقت عراق میں ایک متحدہ مخلوط حکومت قائم ہے جبکہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کی گورننس اچھی نہیں ہے۔ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے ’’فوکس نیوز ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا ہے کہ داعش اپنے تضادات کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا کیونکہ اس کی حقیقت بہت جلد ان معصوم نوجوانوں کے سامنے کھل جائے گی جو ان کے فریب میں آ رہے ہیں انہوں نے کہا دعویٰ کیا کہ اب داعش کا بہت ساجنگی سازو سامان تباہ کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے بچے کھچے علاقوں کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...