دنیا کا واحد آدمی جو دل کے بغیرپانچ ہفتے تک زندہ رہا

دنیا کا واحد آدمی جو دل کے بغیرپانچ ہفتے تک زندہ رہا
دنیا کا واحد آدمی جو دل کے بغیرپانچ ہفتے تک زندہ رہا

  


ہوسٹن(نیوزڈیسک)آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ اگر دل بند ہوجائے تو موت واقع ہو جاتی ہے لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے انسان کے بارے میں بتائیں گے کہ جس کے سینے سے دل نکال کر ایک مصنوعی آلہ لگا دیا گیا لیکن پھر بھی وہ زندہ رہا۔حیران کن بات یہ ہے کہ اس شخص کی نبض بھی نہیں چلتی تھی لیکن پھر بھی وہ پانچ ہفتے تک اس آلے کی وجہ سے ناصرف زندہ رہا بلکہ اپنے اہل خانہ سے بات چیت بھی کرتا رہا۔امریکہ کا 55سالہ شہری کریگ لوئس دل کی بیماری کی وجہ سے موت کے منہ میں پہنچ چکا تھا ، پیس میکر آلہ بھی اس کے دل کی دھڑکن کو ٹھیک کرنے میں ناکام ہو چکا تھا اور ڈاکٹرز نے اسے جواب دید دیاتھا لیکن پھر ایک دم معجزہ ہوا جب امریکی ریاست ٹیکساس کے دو معالجین ڈاکٹر بلی کوہن اور ڈاکٹر بڈ فریزر نے ایک ایسا آلہ لگانے کی پیش کش کی جس کے استعمال سے کریگ کا دل نکال کر اس جگہ وہ آلہ لگایا جانا تھا۔کریگ کی بیوی لنڈا کو اس کی انتہائی خطرناک بیماری کا علم تھا لہذا انہوں نے بخوشی یہ بات مان لی اور مارچ 2011ء میں اس کا دل نکال کر وہاں وہ آلہ رکھ دیا گیا جو تمام جسم کو مصنوعی طریقے سے خون دے رہا تھا۔ اس آپریشن کے بعد کریگ بالکل ٹھیک ہوگیا لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ اس کی نبض بالکل صفر تھی۔کریگ پانچ ہفتوں تک زندہ رہا لیکن بعد میں اس کا انتقال گردوں کی بیماری کے باعث ہوا جبکہ اس کا مصنوعی دل اس وقت بھی کام کررہا تھا۔اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے کریگ کی نبض دیکھی تو وہ بالکل صفر تھی لیکن اس کا شوہر پھر بھی زندہ تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ڈاکٹربلی کوہن اور ڈاکٹر بڈ فریزر کا کہنا ہے کہ انہوں نے جانوروں پر تجربات میں یہ دیکھا تھا کہ اگر ان کی نبض نہ بھی آرہی ہو تب بھی وہ زندہ رہتے ہیں۔انہوں نے 50بچھڑوں پر تجربات کئے اور ان کا دل نکال کر اس کی جگہ وہ آلہ لگایا اور یہ مشاہدہ کیا کہ وہ بالکل نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر بچھڑوں کے سینے پر سٹیتھو سکوپ لگاکر اس کی دھڑکن سنی جائے تو آپ کو بالکل بھی آواز نہیں آئے گی لہذا انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جسم میں خون کی سپلائی کے لئے دل کا دھڑکنا ضروری نہیں اور اگر کسی مصنوعی آلے سے یہ کام لیا جائے تب بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...