مارنے کے بعد زندگیاں بچانے والا ڈرون بھی متعارف

مارنے کے بعد زندگیاں بچانے والا ڈرون بھی متعارف
مارنے کے بعد زندگیاں بچانے والا ڈرون بھی متعارف

  


لندن (نیوزڈیسک) ڈرون کا نام ذہن میں آتے ہی تباہی و بربادی کے آثار ذہن میں آتے ہیں لیکن بیلجئم یونیورسٹی کے طلباءنے انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے طبی آلات سے لیس ڈرون ایمبولینس متعارف کرادی ہے جسے وسعت دینے کی ضرورت ہے ۔

بیلجئم کی ٹیکنالوجی یونیورسٹی ڈیلنٹ کے 23سالہ طالبعلم لیلک موومنٹ نے مریضوں کی سہولت کے لیے ایسی ڈرون ایمبولینس تیار کی ہے جو 100کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑسکتی ہے اوراس ڈرون ایمبولینس میں میڈیکل کٹ موجود ہوتی ہے تاہم مریض کو ہسپتال یا گھر پہنچانے کی سکت نہیں رکھتی ۔

ایمبولینس کے موجد کاکہناتھاکہ اکثر اوقات ٹریفک کے رش کی وجہ سے مریضوں کو طبی امدادنہیں مل پاتی اوروہ راستے میں ہی دم توڑجاتے ہیں ، ڈرون ایمبولینس سے کئی زندگیوں کو بچایاجاسکتاہے ۔

مزید : بین الاقوامی


loading...