نوجوان اطالوی لڑکیوں کی القاعدہ سے رہائی پر اپنے ہی ملک میں ہنگامہ

نوجوان اطالوی لڑکیوں کی القاعدہ سے رہائی پر اپنے ہی ملک میں ہنگامہ
نوجوان اطالوی لڑکیوں کی القاعدہ سے رہائی پر اپنے ہی ملک میں ہنگامہ

  


روم (نیوز ڈیسک) اٹلی کی دو جواں سال خواتین تقریباً چھ ماہ تک القاعدہ کے جنگجوﺅں کی قید میں رہنے کے بعد اپنے ملک واپس پہنچ گئی ہیں لیکن ان کی واپسی پر حکومت اٹلی کو شدید ترین تنقید کا سامنا ہے۔

دنیا کی کم عمر ترین دادی اماں،عمراتنی کم کہ یقین نہ آئے ،جاننے کیلئے کلک کریں

بیس سالہ گرپٹارامیلی اور 21 سالہ ونیسا مارزولو ترکی کے راستے شام پہنچی تھیں اور وہ صحت اور صاف پانی کی سہولت فراہم کرنے والی فلاحی تنظیم Horryaty کیلئے بطور رضا کار کام کررہی تھیں۔ گزشتہ سال جولائی میں دونوں کو اغواءکرلیا گیا اور حال ہی میں وہ رہا ہوکر وطن واپس پہنچی ہیں۔ عرب میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی رہائی کیلئے اٹلی کی حکومت نے جماعت النصرہ نامی گروپ کو ایک کروڑ 20 لاکھ یورو (تقریباً ڈیڑھ ارب پاکستانی روپے) کا تاوان ادا کیا ہے۔ اس گروپ کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ اطالوی اپوزیشن کاکہنا ہے کہ اگر حکومت نے خواتین کی رہائی کیلئے تاوان ادا کیا ہے تو یہ شرمناک بات ہے کیونکہ اس طرح سے خطرناک علاقوں میں موجود تمام اطالوی باشندوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے کیونکہ انہیں بھی تاوان کے لالچ میں اغواءکیا جاسکتا ہے۔ متعدد یورپی ممالک اور خصوصاً امریکا اور برطانیہ کا موقف ہے کہ اغواکاروں کو تاوان ادا نہ کیا جائے تاکہ وہ اسے کامیاب حکمت عملی سمجھتے ہوئے مزید اغواءپر مائل نہ ہوں۔

اطالوی خواتین وطن واپسی پر میڈیا سے مخاطب نہیں ہوئیں اور انہیں ائیرپورٹ سے میڈیکل معائنے کیلئے براہ راست ہسپتال لے جایا گیا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...