کیا آپ کو ایسے ملک کا نام پتا ہے جہاں ضروریات زندگی کیلئے قطار میں انتظار کرنا پیشہ بن چکا ہے؟ جواب پاکستان نہیں

کیا آپ کو ایسے ملک کا نام پتا ہے جہاں ضروریات زندگی کیلئے قطار میں انتظار ...
کیا آپ کو ایسے ملک کا نام پتا ہے جہاں ضروریات زندگی کیلئے قطار میں انتظار کرنا پیشہ بن چکا ہے؟ جواب پاکستان نہیں

  


کراکس (نیوز ڈیسک) زندگی گزارنے کیلئے انسان طرح طرح کے کام کرتے ہیں، کوئی جہاز اڑاتا ہے، کوئی گھروں کی تعمیر کرتا ہے اور کوئی بچوں کو پڑھاتا ہے، مگر وینزویلا میں کچھ لوگ پیٹ پالنے کیلئے قطار میں کھڑا ہونے کا کام بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ سننے میں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ سارا دن ایک قطار میں کھڑے رہنا بھی کوئی کام ہو سکتا ہے مگر وینزویلا میں یہ واقعی ایک پیش بن چکا ہے۔

جنوبی امریکہ کا یہ ملک آج کل شدید ترین معاشی مسائل کا شکار ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیاءنہ صرف نایاب ہو رہی ہیں بلکہ ان کا حصول صرف سپیشلسٹ لوگوں کا کام بن چکا ہے۔ چینی، دودھ، چاول، صابن، ڈائپر اور دیگر ایسی اشیاءکی خریداری کیلئے بڑے سٹورز کے سامنے صبح ہونے سے پہلے گاہک قطار بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے بعد خریداری کا موقع ملتا ہے۔ دولتمند لوگ چونکہ قطار میں وقت برباد نہیں کر سکتے اس لئے وہ ان لوگوں کی خدمات لیتے ہیں جو صرف یہی کام کرتے ہیں کہ صبح ہونے سے پہلے قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے کسٹمرز کی بتائی گئی اشیاءخرید کر ان تک پہنچاتے ہیں۔ بائیس سالہ لڑکی کرسبیل نے بتایا کہ وہ رات 2 بجے جاگتی ہیں اور جا کر قطار میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔

وہ آدمی جو گیس کے سلنڈر کی خریداری میں کامیابی پر خوشی سے مر گیااور وہ پاکستانی نہ تھا

وہ مالدار گھرانوں سے خریداری کی فہرست لے چکی ہوتی ہیں اور باری آنے پر ان کی اشیاءخرید کر ان کے گھروں میں پہنچاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ کھڑے دوسرے لوگ بھی اسی طرح دوسرے کیلئے خریداری کرنے آتے ہیں۔ وینزویلا کی قومی آمدنی کا 96 فیصد تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی سے ملکی حالات مزید خراب ہو گئے ہیں اور قطار میں کھڑے ہونے والے ملازمین کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...