وزیر اعلیٰ پنجاب کا بلوچستان کے زلزلہ زدگان کے لئے تاریخی اعلان

وزیر اعلیٰ پنجاب کا بلوچستان کے زلزلہ زدگان کے لئے تاریخی اعلان
 وزیر اعلیٰ پنجاب کا بلوچستان کے زلزلہ زدگان کے لئے تاریخی اعلان

  

ملک کے طول وعرض میں کسی بھی قسم کی قدرتی آفت مثلا زلزلہ،سیلاب ،بگولہ یا کسی اور شکل میںآئی ہو، اس کا مردانہ وار مقابلہ کرنااور فوری امدادی سرگرمیوں کو انجام دینا حکومت پنجاب کی عین ترجیحات میں شامل ہے۔سیلاب یا زلزلے کی تباہ کاریاں ہوں، حکومت پنجاب نے جس تیزی اورحکمت عملی سے امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں کام انجام دیا ہے، تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔بلوچستان میں 24ستمبر2013 ء کو آنے والے 7.8 ریکٹر سکیل کے زلزلے کو کون بھلا سکتا ہے۔جب بلوچستان کے اضلاع آوران، کچ، گوادر، چاغی اور خضدارکی تین لاکھ کی آبادی شدید متاثر ہوئی۔ اس وقت کی حکومت بلوچستان کے سینئرآفیشل عبدالرشید کے بیان کے مطابق زلزلے سے 90 فیصد سے زائد گھر تباہ ہوئے اور مٹی سے بنے گھرمکمل طور پرزمین بوس۔ بلوچستان کے جنوب مغربی حصے، خصوصا ضلع آورا ن کو بری طرح متاثر کیا۔347 اموات اور 20000 گھروں کی تباہی نے پورے پاکستان کے لوگوں کے دلوں اور دماغوں پر رنج و دکھ کے گہرے نقوش ثبت کئے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے فوری طور پر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین زلزلہ کی خدمت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے484 ملین روپے کی مالیت کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا اور فوری طور پرڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی،صوبائی وزراء و اعلیٰ افسران پر مشتمل وفدکو امدادی سرگرمیوں کے لئے آوران بھیجا۔یہ وفد وہاں پر تقریبا ایک ماہ رہا اور پنجاب حکومت کی طرف سے بھیجے گئے امدادی سامان کومسلسل زلزلہ زدگان تک پہنچاتا رہا۔

آوران پیکیج کے لئے حکومت پنجاب نے484 ملین روپے کی امدادی رقم مختص کی، جس میں سے گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی خان گورچانی،وزیر خوراک بلال یا سین، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد سعید،ڈی جی پی ڈی ایم اے جواد اکرم اس پیکیج کے اعلان کے لئے بلوچستان اسمبلی پہنچے، جہاں پر وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثنااللہ زھری ،سپیکر بلوچستان ا سمبلی راحیلہ حمید خا ن د رانی نے استقبال کیا۔ اس موقع پر وفد کو ظہرانہ اور عشائیہ بھی دیا گیا۔ وفد نے حکومت پنجاب کی طرف سے منعقدہ تقریب میں حکومت پنجاب کی طرف سے حکومت بلوچستان کو آوران پیکیج کی پہلی قسط 220ملین روپے فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع آوران کے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کے لئے انٹرن شپ کی بنیاد پر نوکری کی فراہمی،ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال آوران کی تعمیر و آرائش،اور گرین سپیسزکی تعمیرکی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق آوران کے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کو 132 ملین روپے انٹرن شپ کی بنیاد پر فراہم کئے جا رہے ہیں،جس کے تحت 550پڑھے لکھے بی اے پاس جوانوں کو 3سال تک ہر ماہ 20000/ روپے کا اعزازیہ فراہم کیا جائے گا،جبکہ اسی پروگرام کی مد میں اگلے دو سال میں 264 ملین روپے مزید فراہم کئے جائیں گے۔اسی طرح85ملین روپے سے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال آوران کی تعمیر و آرائش کی جائے گی،جبکہ گرین سپیسزکی تعمیر کے لئے 3ملین روپے فراہم کر دیئے گئے ہیں۔متعلقہ شعبے کے افسران کو فنی تربیت لاہور میں دی جائے گی، اس سلسلے میں ان افسران کے رہن سہن کا بندوبست پی ایچ اے لاہورکرے گا۔یہ امداد حکومت پنجاب اور عوام کی طرف سے کوئی احسان و قرض نہیں،بلکہ صوبہ پنجاب کے بھائیوں اور بہنوں کی طرف سے فرض ادا کیا جا رہا ہے۔صوبہ پنجاب کی حکومت اور عوام کسی موقع پر اپنے بلوچستان کے عوام کو اکیلا نہ چھوڑیں گے۔

ہم سب کو یاد ہے کہ جب بلوچستان میں زلزلہ آیا تھا توفوری طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ا مد ادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لئے اپنا ہیلی کاپٹر دے دیا تھا۔جس نے 38 پرو ا زوں کے ذریعے 3886 بیگ زلزلہ زدگان تک پہنچائے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے پورے ایک ماہ تک 124.50 ملین روپے کاامدادی سامان300ٹرکوں کے ذریعے حکومت بلوچستان کے حوالے کیا۔اس امدادی سامان کا کل وزن907.08ٹن تھا۔حکومت پنجاب کی طرف سے روانہ کی گئی 67 ٹرکوں کے ذریعے پہلی کھیپ میں دس کلو آٹا کے 2300 بیگ،10150 خیمے،3600 کمبل،5000 مچھر دانیاں اور 3 ٹر کوں پر مشتمل 5ٹن میڈیسن بھی روانہ کی گئی۔یہ سامان صوبائی وزیر حمیدہ وحیدالدین نے اپنی نگرانی میں بلوچستان انتظامیہ کے حوالے کیا۔اس دوران وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر لسبیلہ میں ریلیف آفس سیٹ اپ قائم کیا گیا جہاں پر حکومت بلوچستا ن کی ضروت کے مطابق مطلوبہ امدادی سامان منگوایا جاتا رہا۔ضلع آوران انتہائی پسماندہ علاقہ ہے اور سب سے زیادہ تباہی بھی اسی علاقے میں ہوئی۔ اس دوران سخت سردی کا مو سم شروع ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے زلزلہ متاثرین کے لے ونٹرپیکیج کا اعلان کیا۔جس پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلینے100 ٹر کوں پر مشتمل 30ہزار کمبل،60 ہزار اعلیٰ کوالٹی کی رضائیاں انتظامیہ کے حوالے کیں۔زلزلہ متاثرین کو رحیم یار خان سے روزانہ کی بنیاد پر 3000 فوڈبیگ روانہ کئے جاتے رہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب اور عوام نے خدمت کو ہر موقع پر فوقیت دی ہے، جس کی زندہ مثال آوران پیکیج ہے۔

مزید :

کالم -