ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی پولٹری انڈسٹری کے مسائل فوری حل کرے: لاہور چیمبر

ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی پولٹری انڈسٹری کے مسائل فوری حل کرے: لاہور چیمبر

  

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبرکے صدر عبدالباسط نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ پولٹری مصنوعات کی رجسٹریشن کا عمل تیز کرے ،پولٹری ادویات پر سے بلاوجہ پابندیاں ہٹائے کیونکہ اس کی وجہ سے پولٹری ادویات کی شدید قلت کا خطرہ ہے اور ویٹنری فارماسسٹ پر چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ شاہد اقبال اور ڈاکٹر غلام محبوب کی سربراہی میں پولٹری انڈسٹری کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ پولٹری کا شمار ملک کی بڑی صنعتوں میں ہوتا ہے ،روزگار و حکومت کو محاصل کی فراہمی کے حوالے سے اس کا کردار بہت اہم ہے لیکن بیوروکریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے اسے مسائل کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں اور پولٹری سیکٹر میں استعمال ہونے والی ادویات کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے لیکن انہیں ایک ہی طریقے سے ٹریٹ کیا جارہا ہے اور جعلی ادویات کی چیکنگ کے نام پر پولٹری میں استعمال ہونے والی ادویات کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے انتہائی سخت اور نامناسب قوانین کی وجہ سے ویٹنری ادویات پورٹس پر پھنسی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے امپورٹرز کو بھاری نقصان ہورہا ہے جبکہ پولٹری میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔

وفد نے لاہور چیمبر کے صدر کو آگاہ کیا کہ اب تک محدود کمپنیوں کو فارم 6جاری کیا گیا ہے جو مقامی امپورٹرز/ایجنٹس کی اینلسٹمنٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ کسی بھی کمپنی/امپورٹر کو فارم 7 جاری نہیں کیا گیا جو مصنوعات کی اینلسٹمنٹ کے لیے ضروری ہے۔ وفد نے کہا کہ صوبائی ڈرگ اتھارٹی اور ڈرگز ریگولیشن اتھارٹی آف پاکستان کے مقامی نمائندے پولٹری پروڈکٹس/ادویات کی فروخت پر انتہائی سختی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں کے لیے استعمال ہونے والی ادویات اور جانوروں کے لیے استعمال ہونے والی ادویات دونوں کے لیے دستاویزی عمل یکساں ہے جو کسی طرح درست نہیں کیونکہ جانوروں کی ادویات اور انسانوں کی ادویات کے استعمال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ قانونی طور پر درآمد ہونے والی پولٹری ادویات کو فروخت کرنے کی اجازت دی جائے اور انسانوں کے لیے جعلی ادویات کی آڑ میں پولٹری ادویات کا کاروبار کرنے والوں کو تنگ نہ کیا جائے۔

مزید :

کامرس -