کٹھوعہ میں مسلمانوں پر حملے 1947ء کے واقعات کو دہرانے کی کوشش ہے، ایڈوکیٹ شاہین

کٹھوعہ میں مسلمانوں پر حملے 1947ء کے واقعات کو دہرانے کی کوشش ہے، ایڈوکیٹ ...

  

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں پیس اینڈ جسٹس فورم نے کٹھوعہ میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ1947ء کے واقعات کو دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے جب جموں کے مسلمانوں کو علاقے سے بے دخل کیاگیاتھا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پیس اینڈجسٹس فورم کے صدر ایڈوکیٹ غلام نبی شاہین نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کٹھوعہ کے علاقے ہریاچک میں مسلمان بستی پر حملے کو گھناؤنی حرکت قراردیا اور حملے میں ملوث فرقہ پرست غنڈوں کو گرفتار نہ کرنے پر پی ڈی پی کی کٹھ پتلی حکومت کی شدید مذمت کی ۔ایڈوکیٹ شاہین نے کہا کہ جموں کے مسلمانوں کو1947ء سے ہی ظلم وبربریت کا نشانہ بنایاجارہا ہے اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے بلکہ آر ایس ایس کی ایما پر جموں صوبے میں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازش کی جارہی ہے جس کو قابض انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں سے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور ساری کشمیری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دراصل یہ علاقے میں مسلم آبادی کا تناسب کم کرکے تحریک آزادی کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس حساس ترین معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور علاقے کے مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

عالمی منظر -