ہائی کورٹ کی طرف سے کشمیری نوجوان کی کالے قانون کے تحت نظربندی کالعدم

ہائی کورٹ کی طرف سے کشمیری نوجوان کی کالے قانون کے تحت نظربندی کالعدم

  

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کشمیری نوجوان کی غیر قانونی نظربندی کو کالعدم قراردیتے ہوئے اس کی رہائی کے احکامات جاری کئے ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بڈگام کے علاقے بیروہ کے رہائشی نوجوان محمد شفیع وانی کوبھارتی فورسزنے گزشتہ سال 7ستمبر کو گرفتاراور کالا قانون پی ایس اے عائدکرکے جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقل کردیاتھا۔ اس دوران محمد شفیع وانی کی والدہ حاجرہ بیگم اپنے کی جدائی کا غم دل میں لئے 10اکتوبر کو انتقال کرگئی تھیں۔شفیع وانی کی گرفتاری ہی اسکی والدہ کے انتقال کی وجہ بنی کیونکہ اسکی گرفتاری کے بعد ان کی صحت تیزی سے بگڑنا شروع ہو گئی تھی ۔حاجرہ بیگم اپنے بیٹے سے ملنے کیلئے بے قرار تھی اور وہ یہ خواہش دل میں لئے ہی اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔گزشتہ روز ہائی کورٹ میں شفیع وانی کی نظربندی کے خلاف دائر عرضداشت کی سماعت کے دوران عدالت نے دونوں اطراف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد شفیع وانی کی کالے قانو ن کے تحت نظربندی کالعدم قراردیتے ہوئے اسکی رہائی کے احکامات جاری کئے۔

مزید :

عالمی منظر -