واسا ملازمین کو سرکاری کالونی مالکانہ حقوق پر دینے کا فیصلہ

واسا ملازمین کو سرکاری کالونی مالکانہ حقوق پر دینے کا فیصلہ

  

 لاہور( جاوید اقبال) واسا ملازمین کو سرکاری رہائشی کالونی مالکان حقوق پر دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیاہے۔ 35 سالوں سے سرکاری کالونی میں رہائش پذیر ملازمین کو کوارٹرز مالکانہ حقوق پر 1998 کے ریٹس پر دئیے جائیں گے جس کے لئے منیجنگ ڈائریکٹر واسا کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایم ڈی کوینئر ہوں گے جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے ہاؤسنگ اور چیف ٹاؤن پلانر ایل ڈی اے کو ممبر بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے واسا کے ڈائریکٹر ایڈمن محمود احمد بھٹی نے پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان کو کیے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بتایا گیا ہے کہ واسا کے ملازمین کی رہائشی کالونی واقع گلشن راوی کے رہائشیوں نے مالکانہ حقوق مانگ لئے ہیں جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ گزشتہ 30 سے 35 سالوں سے کالونی میں رہائش پذیر ہیں۔ کالونی میں وہ اپنے رہائشی کوارٹرز کی تعمیر و مرمت پر بھی لاکھوں روپے خرچ کر چکے ہیں اور واسا کو 1995 سے 1998 تک مختلف اقساط میں مالکانہ حقوق کے لئے واجبات بھی ادا کر چکے ہیں جو وہ اقساط کی شکل میں ادا کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا انہیں مالکانہ حقوق دے دئیے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گلشن راوی سے منتخب صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان کو مکینوں نے یاددہانی کرائی کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں منتخب ہو کر مالکانہ حقوق دلائیں گے وہ اپنا وعدہ پورا کریں۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر نے واسا کے ڈائریکٹر ایڈمن محمود احمد بھٹی کو اپنے دفتر مدعو کیا اور ان سے اس حوالے سے بریفنگ لی۔ بریفنگ میں واسا کے ڈائریکٹر ایڈمن نے انہیں کہا کہ اس حوالے سے پہلے ہی سے معاملے کے حل کے لئے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور واسا اس کا باغور جائزہ لے رہا ہے۔ فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کوئی ڈنڈی نہیں ماری جائے گی۔ محمود احمد بھٹی نے بتایا کہ کئی سال پہلے محکمہ ہاؤسنگ نے اس سلسلے میں سمری ایوان وزیر اعلیٰ کو بھجوا دی تھی۔ دریں اثناء ڈائریکٹر ایڈمن نے ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا۔ معاملے کی چھان بین کے لئے ایم ڈی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جلد سفارشات مرتب کر کے حکومت کو پیش کر دی جائیں گی۔ کسی سے ناانصافی نہیں ہو گی۔ اگر رہائش کا حق بنتا ہے تو انہیں دیا جائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -