نیشنل ایکشن پلان۔۔۔دہشتگردی کیخلاف قومی نصاب

نیشنل ایکشن پلان۔۔۔دہشتگردی کیخلاف قومی نصاب
 نیشنل ایکشن پلان۔۔۔دہشتگردی کیخلاف قومی نصاب

  

دہشتگردی کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا بھر کو یہ چیلنج درپیش ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے ہر سطح اور ہر شعبے میں اقدامات کر کے اپنی سرحدوں کوتومحفوظ بنا لیا لیکن امریکی پالیسیوں سے جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک جہنم زار بن گئے جنہوں نے کئی یورپی ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ روس، ترکی اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں دہشتگردی کی بڑی بڑی وارداتیں ہوچکی ہیں بلکہ ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان میں دہشتگردی کے عفریت پر قابو پا لیا گیا ہے تو یہ نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کا ہی نتیجہ ہے جس کا عالمی سطح پر برملا اعتراف کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت سیاسی وعسکری قیادت اور سول انتظامیہ کا اجلاس ہوا جس میں قومی سلامتی، امن و امان کی صورتحال ، آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز اور انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا جبکہ خارجہ پالیسی کے چیلنجز اور ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امور اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کا نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل کرنے ،دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم لائق تحسین ہے کیونکہ اسی عزم اور ہمت و حوصلہ سے ہی وطن عزیز سے دہشتگردوں کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان دہشتگردی کے خلاف روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے، سانحہ کوئٹہ کے بعد پوری سیاسی و عسکری قیادت نے فیصلہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کر کے ہی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اس پلان پر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سیکریٹری داخلہ، صوبوں کے نمائندے، وزیراعظم آفس کے ایڈیشنل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ اسی طرز پرتمام صوبوں ، گلگت بلتستان، فاٹا اور آزاد کشمیر میں کمیٹیوں کا قیام عمل لایا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ دیکھا گیا کہ پلان پر من و عن عملدرآمد کیلئے ہر نکتہ پر مکمل منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی ضرورت تھی جو اتحاد، اتفاق رائے اور افہام و تفہیم کی متقاضی تھی۔ نیشنل ایکشن پلان کو ترجیح اور فوقیت دی گئی۔ پنجاب سے پلان پر عملدرآمد کا آغاز کیا گیا۔ لیکن ایک موقر اخبار میں سیرل المیڈا کا آرٹیکل شائع ہونے اور تحریک انصاف کی وفاقی دارالحکومت کو لاک ڈاؤن کرنے کی بھونڈی حرکت نے ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے مشکلات کھڑی کیں لیکن حکومت نے بغیر کسی دباؤ کے ان معاملات کو دانشمندی کے ساتھ سلجھایا۔

نیشنل ایکشن پلان کو تین حصوں (سخت گیر دہشتگردی، دہشتگردی کے سہولت کار اور ریاستی عناصر) میں تقسیم کیا گیا۔ پہلی کیٹگری میں مسلح ملیشیا یعنی کالعدم تنظیمیں ،جو ملک بھر میں فرقہ واریت اور عسکریت پسندی کو فروغ دے رہی تھیں، شامل تھیں۔ دہشتگردی کے اس عفریت سے نمٹنے کیلئے سیاسی و عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر آپریشن ضرب عضب شروع کیا جسے پوری قوم اور سکیورٹی ایجنسیوں کی مکمل حمایت اور تائید حاصل تھی۔ ان کے خلاف جنگ کیلئے مسلح افواج کے دو لاکھ اہلکاربرسر پیکار ہوئے اور کامیاب آپریشن کیا۔ دہشتگردوں کو ملک کے کونے کونے سے چن چن کر جہنم واصل کیا گیا۔ آپریشن ضرب عضب کی کاری ضرب سے تخریب کاروں کی کمر ٹوٹ گئی، ان کے خفیہ نیٹ ورک اور ٹھکانے تباہ ہوئے اور ان انکی باقیات کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں،پاکستانی قوم اور مسلح افواج بشمول انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھائیں اور بے پناہ قربانیاں دی گئیں۔آپریشن میں شاندار کامیابیوں کے بعد کالعدم تنظیموں کی قیادت افغانستان روپوش ہو گئی جنہیں وہاں افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی اشیر باد حاصل ہے۔پاکستان مخالف اقدامات کے باوجود وزیر اعظم میاں نواز شریف عدم مداخلت کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں اوردہشتگردوں کے خاتمے اور پرامن افغانستان کیلئے افہام و تفہیم کی فضا قائم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت کراچی میں دہشتگردوں کا محاصرہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا اور شہر قائد کو سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں اور انتھک کوششوں سے امن نصیب ہوا ۔اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ٹارگٹ کلنگ 69فیصد کم جبکہ دہشتگردی کے واقعات میں 80فیصد کمی آچکی ہے یہ کراچی میں دہشتگردی کے واقعات 10سال کی کم ترین سطح ہے ۔ قتل اور ڈکیتیوں کی شرح میں بھی 30سے 50فیصد تک تخفیف ہوئی ہے ، 890دہشتگرد مختلف کارروائیوں میں انجام کو پہنچے جبکہ شہر میں 10426اشتہاری اور 69ہزار سے زائد جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مختلف اقسام کے 16ہزار 304 ہتھیار برآمد کئے گئے لیکن کراچی میں جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔شہر میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے ،شہر قائد کی روشنیاں اورمعمولی کی رونقیں دوبارہ بحال ہو رہی ہیں لیکن وہاں سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے جسے روکنے کیلئے صوبائی حکومت کو غیر معمولی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سی ٹی ڈی اور صوبوں میں پولیس کی سہولتوں کو بڑھایا جا رہا ہے ،شہروں میں چیک پوسٹوں کی مناسب نگرانی اور چیکنگ کو سخت گیا ہے، نیکٹا، این ایس اے، آئی ایس اے، ایف آئی اے اور صوبوں کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کیلئے روایتی طریقہ کار کے بجائے انٹیلی جنس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، فرقہ وارانہ دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے کالعدم تنظیموں کیلئے زیر وٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم تنظیموں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، دہشتگردوں کی مالی امداد روکنے کیلئے وزارت داخلہ نے ایک مکمل مالی نگرانی کا نظام تشکیل دیا ہے جس کے تحت فارن ایکس چینج ریگولیشن، اینٹی منی لانڈرنگ اور رقوم کی مشتبہ ترسیل پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں بھی دہشتگردوں سے تفتیش کے دوران ان کے رقوم کی منتقلی کے ذرائع جاننے میں مدد کر رہی ہیں۔ دہشتگردوں کے مواصلات کے نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے ملک میں غیر رجسٹرڈ لاکھوں سمیں بلاک کر دی گئی ہیں۔ انسانی سمگلنگ کے لئے گرین پاسپورٹ کا استعمال کیا جا رہا تھا ۔ وزارت داخلہ نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے لاکھوں کی تعداد میں پاسپورٹ کینسل کر دیئے گئے ہیں۔ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر دہشتگردی کو روکنے کیلئے متعدد ویب سائٹس بلاک کر دی گئی ہیں۔

حکومت کے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کیلئے اقدامات قابل قدر ہیں۔ مدارس کی نگرانی کی ذمہ داریاں صوبوں کے حوالے کر دی گئی ہیں ان کا نصاب، وفاق اور اعداد و شمار کا تبادلہ صوبے کی وزارت تعلیم کے تحت کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں مقیم 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی واپسی بھی ایک بڑا مسئلہ تھا لیکن حکومت نے افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے گراں قدر اقدامات کیے ہیں لاکھوں کی تعداد میں افغانوں کو اپنے ملک واپس بھیجا گیا ہے۔ دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے قائم فوجی عدالتوں کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ دو سال کے دوران فوجی عدالتوں کو 267کیسز بھجوائے گئے ہیں جن میں 153 مجرموں کو سزائے موت، 113 کو قید، 12دہشتگردوں کو پھانسی اور ایک کو رہا کیا گیا ہے جبکہ 7دہشتگردوں کی زندگی و موت کا فیصلہ باقی ہے۔ فاٹا کی تعمیر و ترقی اور ان کے عوام کو پہچان دینے کیلئے اقدامات بھی قابل تعریف ہیں اور جلد فاٹا کی حیثیت کے بارے میں بھی فیصلہ کر لیا جائے گا کہ اسے ایک علیحدہ صوبہ بنانا ہے یا خیبر پختون خوا میں ضم کیا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرونی مداخلت کوروکنے کیلئے سرحدوں پر باڈر مانیٹرنگ مکینزم کو مزید سخت کیا جائے۔ ملک دشمن ’’را‘‘سمیت دیگر خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت روکنے کیلئے انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید موثر بنایاجانا چاہیے۔ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کو سختی سے نمٹنا چاہیے۔ فرقہ واریت کو پروان چڑھانے والے حربے آڈیو، ویڈیوسپیکر، سی ڈی، کیبل نیٹ ورک، شر انگیز تقاریر، منافرت اور انتہا پسندی پر مبنی موادکے خاتمے کیلئے نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔مستقبل میں نصاب میں ایسی تبدیلی لائی جائے جس سے نوجوانوں میں قومی سوچ کو پروان چڑھا کر صبروتحمل ، بردباری اور برداشت پیدا کی جاسکے۔

مزید :

کالم -