بلیم گیم نہیں، موثر سرحدی نگرانی

بلیم گیم نہیں، موثر سرحدی نگرانی

  

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی دہشت گرد کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں الزام تراشیوں سے خطے میں امن دشمنوں کو فائدہ ہوتا ہے دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے کے لئے پاکستان اور افغانستان کو ہر سطح پر تعاون بڑھانا چاہئے، دہشت گردی پورے خطے کے امن و استحکام پر اثر انداز ہو رہی ہے، گزشتہ کئی سال سے دونوں برادر ممالک کے عوام کو المناک واقعات کا سامنا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور دہشت گردوں کے تمام محفوظ مراکز تباہ کردئے گئے ہیں آرمی چیف نے کہا دونوں ملکوں کو آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے انہوں نے دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے کے لئے موثر سرحدی نظام اور انٹیلی جنس تعاون کی تجویزبھی دی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی کو فون کر کے افغانستان میں حالیہ دھماکوں میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا۔ افغان صدر نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنا چاہئے۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں جب پاکستان نے افغان صدر کو یقین دلایا ہے کہ پاک سرزمین کے اندر دہشت گردوں کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں، اس سے پہلے پاکستانی صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف صدر اشرف غنی اور دوسرے افغان حکام کو مسلسل یہ یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر نہ صرف یہ کہ کسی دہشت گرد کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں بلکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ جو کوئی بھی افغان دشمنی کا مظاہرہ کرتا ہے وہ درحقیقت پاکستان دشمن ہے، پاکستان نے بار بار افغان حکام کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ اس کی سر زمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی لیکن بد قسمتی کی بات ہے کہ اس معاملے میں افغان حکام کا دل صاف نہیں ہو رہا اور افغانستان کا ہر کہ ومہ اٹھ کر پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کردیتا ہے۔ افغان الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں بھی پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈہ مہم جاری رہتی ہے اور پاکستان کے کھاتے میں ایسے ایسے گناہ لکھ دئے جاتے جن کا پاکستان کبھی کوئی تصور نہیں کرسکتا، افغانستان کے حالیہ دھماکوں کے بعد بھی پاکستان پر یہ الزام لگایا گیا کہ ان دھماکوں میں پاکستان ملوث ہے، غالباً اسی بنا پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بنفسِ نفیس افغان صدر سے بات کرنا پڑی اور ایک بار پھر انہیں باور کرایاگیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں اور پاکستان کی فوج نے آپریشن ضرب عضب میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں انہیں مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے موثر بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلی جنس شیرنگ کی جو تجویز دی ہے دیکھا جائے تو یہی وہ شاہ کلید ہے جس پر عمل پیرا ہو کر دونوں ملکوں میں دہشت گردی پر قابو پایا جاسکتا ہے اگر افغانستان سے آنے والے کچھ دہشت گرد پاکستان میں آکر کارروائیاں کرتے ہیں یا یہاں سے وہاں جا کر کوئی فرد یا گروہ افغانستان میں دھماکے کرتا ہے تو ظاہر ہے یہ لوگ پہلے سرحد عبور کر کے ہی ایک دوسرے کے ملک میں داخل ہوتے ہیں اگر چہ بارڈر پر نگرانی کا نظام پہلے سے بہت بہتر کر دیا گیا ہے اور سفری دستاویزات کے بغیر آمدورفت ممکن نہیں رہی اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خفیہ راستوں کا استعمال کر کے دہشت گرد کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کے علاقے میں جا کر دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں اس کا حل موثر بارڈر مینجمنٹ اور بہتر انٹیلی جنس شیرنگ میں ہی پوشیدہ ہے اور اگر دونوں ملک بہتر اور منضبط طریقے سے یہ کام کریں تو دونوں ملکوں کو اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں بھارتی نیٹ ورک بہت مضبوط ہے اور پاکستانی علاقے میں آکرجو دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں انہیں افغانستان کے اندر بھارتی نیٹ ورک کی رہنمائی اور امداد حاصل ہوتی ہے اور وہی انہیں پاکستان کے اندر ’’لانچ‘‘ کرتا ہے، افغانستان کو اپنے ملک میں بھارتی سرگرمیوں پر زیادہ کڑی نگرانی کی ضرورت ہے لیکن بد قسمتی سے افغان حکومت کے اندر اور باہر ایسے عناصر موجود ہیں جو بھارت کے زیر اثر ہیں اور اس کی ہدایات کی روشنی میں کام کرتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بھارت کی دی ہوئی لائن پر ہی چلتے ہیں تو بے جانہ ہوگا بھارت افغانستان کے اندر بظاہرجو ترقیاتی کام بھی کرتا ہے ان کے پردے میں بھی افغان حکومت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے امرتسر کانفرنس میں بھی بھارت نے افغان صدر کو مشتعل کرکے پاکستان کے خلاف تقریر پر مجبور کر دیا تھا وہ تو پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ان کا ترکی بر ترکی جواب دیا اور روس چین سمیت دوسرے مندوبین نے بھی پاکستان کا ساتھ دیا اور یوں بھارت کی یہ چال ناکام ہو گئی جس کا مقصد پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنا تھا، اس کانفرنس کا بنیادی مقصد تو ان اقدامات پر غور کرنا تھا جن کو بروئے کار لاکر افغانستان میں امن و استحکام پیدا کیا جاسکے لیکن صدر اشرف غنی نے بھارت کی دی ہوئی لائن پر چل کر اس کانفرنس کو بھی بھارتی مقاصد کے لئے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی۔

افغانستان اور پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت کا مشترکہ طور پر سامنا ہے اور اس کا حل بھی مل کر ہی ڈھونڈنا ہوگا۔ دونوں ملکوں کے تعاون کے ساتھ ہی اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اس لئے بہتر حکمتِ عملی تو یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے نمائندے مل بیٹھ کر کوئی ایسا موثر و مستحکم نظام و ضع کریں جس کو کام میں لاکر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جاسکے، ایک حل تو موثر بارڈر مینجمنٹ ہے جس پر پاکستان عمل پیرا ہے افغان جانب بھی اگر اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تو مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، انٹیلی جنس شیرنگ بھی ایک اچھا حل ہے افغان حکام کو چاہئے کہ وہ بلیم گیم چھوڑ کر یہ مثبت راستہ اختیار کریں، پاکستان کا تعاون اسے پہلے ہی حاصل ہے اور پھر بھی حاصل رہے گا البتہ اس نئے سفر کے لئے بد گمانیوں کا پشتارہ اتار پھینکنا ہوگا۔ ماضی کے اس ملبے کو اُٹھا کر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوگا۔

مزید :

اداریہ -