غلطی ہائے مضامین مت پوچھ!

غلطی ہائے مضامین مت پوچھ!
غلطی ہائے مضامین مت پوچھ!

  

نیا سال ہے، نیا سفر ہے، نئی منزلیں، نئے راستے، مختلف ٹی وی چینل اپنے اپنے ماہرینِ پیش گوئی کو لا رہے ہیں، کیش کر رہے ،کیش کروا رہے ہیں، کہ جو حضرات کسی چینل پر آکے دل لگتی، من بھاتی پیش گوئیاں کرتے ہیں اور مستقبل کا حال تفصیلی طور پر بتانے کا لاسہ لگاتے ہیں، وہ خود بھی من کی مراد پاتے ہیں۔ ملنے کے لئے کسی ہوٹل میں ملاقات کا اتا پتا دیتے ہیں تاکہ گاہک علیحدگی میں ملے، دونوں کے لئے گلِ مراد کی تازہ کلی کھلے، پیش گوئی کرنے والے کے پَو بارہ ہوں اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے والے بھی محوِ نظارہ ہوں۔! ایسے میں بعض چینلوں پر قومی زبان اردو کی بھی ٹانگ توڑی جا رہی ہے اور شعر و شاعری کا بھی دھڑن تختہ کیا جا رہا ہے۔ نئے سال کے، نئے دن، یکم جنوری 2017ء کو صبح دس بج کر بیس منٹ پر اے آر وائی ڈیجیٹل پر محمد ہمایوں صاحب نئے سال کے سلسلے میں پیش گوئیاں کر رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک ضرب المثل شعر سنانے کی سوجھی اور وہ بھی کچھ اس طرح:

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

ایک دم حادثے ہُوا نہیں کرتے

پہلا مصرع تو خیر سے ٹھیک ہی ہے مگر قابل اجمیری مرحوم کے مشہورِ زمانہ شعر کا دوسرا مصرع کیاسے کیا کر دیا گیا ہے، جبکہ چھوٹی بحر میں، سہلِ ممتنع میں یہ بڑا شعر صحیح اس طرح ہے:

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

کوئی صاحب ہیں اجمل خٹک کثر۔ اجمل خٹک تک تو ٹھیک ہے یہ ’’کثر‘‘کیا بَلا ہے؟ اس تخلص کی ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ ہماری سمجھ دانی میں ہی کچھ برس سے ’’کَسر‘‘ رہ گئی ہے کہ ’’ث‘‘ سے ’’کثر‘‘ کی سمجھ نہیں آ رہی، خیر جو بھی ہو، کچھ نہ کچھ تو ہوگا ہی! آمدم برسرِ مطلب، ان ’’کثر‘‘ صاحب کا ایک مضمون روزنامہ ’’جنگ‘‘ اتوار 4دسمبر 2016ء کو بعنوان ’’ مصروف ہوں، وقت ہی نہیں ملتا‘‘۔ نظر سے گزرا۔ ایک جگہ ’’کثر‘‘صاحب لکھتے ہیں:

بہادر شاہ ظفر نے تو کہا تھا:

عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

جبکہ پہلے بھی کئی بار توجہ دلا چکا ہوں، مختلف غلط نویسوں کو یہ باور کرا چکا ہوں کہ یہ شعر ہر گز بہادر شاہ ظفر کا شعر نہیں ہے بلکہ علامہ سیماب اکبر آبادی کا ہے۔ ایک زمانے میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی میں اس شعر پر طویل بحث گرم رہی تھی، علامہ سیماب کے صاحبزادے منظر اکبرآبادی نے اس بحث کے حوالے سے معہ تراشوں کے مجھے جو طویل خط لکھا تھا، وہ بھی اپنے کالم میں کبھی کا چھاپ چکا ہوں۔ ماحصل یہ ہے کہ ’’قصر الادب ‘‘ آگرہ سے 1927ء میں علامہ سیماب اکبر آبادی کا جو مجموعہ کلام ’’کلیمِ عجم‘‘ کے نام سے چھپا تھا اس میں جو غزل اس زمین میں حضرت علامہ سیماب کی ہے، اس میں یہ شعر اس شکل میں موجود ہے:

عُمرِ دراز مانگ کے لائی تھی، چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

جبکہ بہادر شاہ ظفر کی اسی زمین والی غزل میں 1927ء سے پہلے کے مطبوعہ کسی بھی دیوان میں یہ شعر سرے سے موجود ہی نہیں ہے، یہ الحاقی شعر 1927ء کے بعد یعنی ’’کلیم عجم‘‘ کی اشاعت کے بعد کسی نے بہادر شاہ ظفر کی غزل میں شامل کر دیا اور پھر چل سو چل۔۔۔! تحقیق اور تحقیقِ مزید کو کون مانتا ہے بھیڑ چال ہے کہ چلی جا رہی ہے بہادر شاہ ظفر کے شعر میں ’’مانگ کے لائے تھے‘‘ سے کیا مراد ہے؟ یعنی ’’ہم‘‘ باری تعالیٰ سے مانگ کے لائے تھے عمر دراز‘‘؟۔۔۔ جبکہ سیماب صاحب نے ’’عمرِ دراز‘‘ پر طنز کی ہے؟ چوٹ کی ہے کہ ’’عمر دراز۔۔۔محض چار دن مانگ کے لائی تھی‘‘۔۔۔ تو کیا لائی تھی: چار

دن؟

عمرِ دراز مانگ کے لائی تھی، چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

قصہ مختصر! یہ کالم پی ایچ ڈی سکالر، ڈاکٹر، پروفیسر، ایم فل، ایم اے اردو کے طالب علم سبھی پڑھتے ہیں، محققین کے لئے بھی ثبوت و شواہد کے ساتھ بحث سمیٹ رہا ہوں کہ اس الحاقی شعر کو بہادر شاہ ظفر کے کھاتے سے نکال دیا جائے، حق بہ حقدار رسید کے تحت اصل شعر حضرت علامہ سیماب اکبر آبادی ہی کا رہنے دیا جائے اور وہ بھی اسی شکل میں جس طرح اوپر لکھا گیا ہے۔ لیکن غضب خدا کا، مدرسین اور پروفیسر حضرات نے یہ ستم بھی ڈھایا ہوا ہے کہ نصابی کتابوں میں بہادرشاہ ظفر کی غزل:

لگتا نہیں ہے دل مرا اس اجڑے دیار میں

شامل کرتے ہوئے،متذکرہ غزل میں یہ متنازع شعر ڈال کر غلطی کو مستند بنا دیا ہے اب لاکھ کہیں کہ ایسے ہے، کہیں گے نہیں ہے، اس ہٹ دھرمی کا کیا علاج؟

محمد شمس الحق صاحب کی نئی تالیف ’’غزل اس نے چھیڑی‘‘۔۔۔ حال ہی میں موصول ہوئی۔ شمس الحق صاحب ایسی ہی بہت سی کتابوں کے مولف و مرتب ہیں ’’گلہائے رنگ رنگ‘‘ تین جلدوں میں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے چھاپی ’’پیمانہِ غزل‘‘ بھی دو جلدوں میں اسی ادارے میں چھپی ’’اردو کے ضرب المثل اشعار‘‘ انہوں نے ہمارے نام ’’معنون‘‘ کی۔۔۔ ’’گلہائے رنگ رنگ‘‘ کے دیباچوں میں بھی خوشہ چینی کا طویل اعتراف کیا۔ ان موضوعات پر اگرچہ میرا کام گزشتہ نصف صدی سے زیادہ پر محیط اخبارات و رسائل میں مطبوعہ بکھرا ہوا ہے مگر کتابی صورت میں کچھ نہیں آ سکا متعدد حضرات میری خوشہ چینی سے ’’مصنف‘‘ بن گئے مگر کھل کے اعتراف شمس الحق صاحب نے ہی کیا کہ وہ 92برس کے ایک وضعدار بزرگ ہیں اللہ کرے وہ سینچری پوری کریں بلکہ سینچری سے اوپر کرکے بھی ناٹ آؤٹ رہیں۔ تازہ تالیف میں ایک بہت ہی مشہور شعر تابش صدیقی کے نام سے نظر سے گزرا:

چھوٹی پڑتی ہے انا کی چادر

پاؤں ڈھکتا ہوں تو سر کھلتا ہے

جبکہ یہ شعر تابش صدیقی کا ہرگزنہیں تابش دہلوی کا ہے۔ تابش دہلوی ریڈیو پاکستان کے مشہور و مقبول اردو نیوز کاسٹر بھی تھے اور خبریں پڑھتے ہوئے ’’مسعود تابش‘‘ کا نام استعمال کرتے تھے۔ شاعری میں تابش دہلوی تھے وہ فانی بدایونی کے شاگرد تھے اس لئے ان کی شاعری میں بھی حزن و یاس کے مضامین غالب ہیں۔ بہرحال متذکرہ شعر والی غزل ان سے اکثر مشاعروں میں مجھے براہ راست سننے کا اعزاز بھی حاصل ہے، چھوٹی بحر میں سہلِ ممتنع میں عمدہ غزل کہتے تھے یہ شعر بلا شک و شبہ حضرت تابش دہلوی (مرحوم) ہی کا ہے:

چھوٹی پڑتی ہے انا کی چادر

پاؤں ڈھکتا ہوں تو سر کھلتا ہے

ٹی وی چینل ’’سچ‘‘ پر یکم جنوری 2017ء نئے سال کے پہلے دن نئی اردو کے کچھ نمونے:

ایک پروگرام میں ’’مہمانِ گرامی‘‘ کا ارشاد:

’’ہم جہلم سے تشریف لے کے آئے ہیں‘‘۔

ایک چینل پر ایک اینکر پرسن کا ارشاد:

’’بارش ابھی دو تین روز دستیاب نہیں‘‘

’’ہم جہلم سے تشریف لے کے آئے ہیں‘‘ جیسے جملے پر یاد آیا کہ ہمارے ایک ہم جلیس محمد اعظم صاحب (مرحوم) ڈپٹی سیکرٹری انڈسٹریز اسلام آباد ہوٹل میں ’’شریکِ میز‘‘ ہوا کرتے تھے۔ کسی بات پر عتیق اللہ شیخ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا ’’جی ارشاد!‘‘۔۔۔ کہنے لگے ’’ارشاد کریں آپ، ہم تو فرمائیں گے‘‘۔۔۔! پھر بولے اردو کی تو میں ایسی ٹانگ توڑوں گا کہ یاد کروگے‘‘۔۔۔ تو جناب اردو کی ٹانگ توڑنے والے اب بھی بہتیرے ہیں!

مزید :

کالم -