ہاری ویرو کولہی کا بلاول سے انتخابی مقابلے کا اعلان

ہاری ویرو کولہی کا بلاول سے انتخابی مقابلے کا اعلان
 ہاری ویرو کولہی کا بلاول سے انتخابی مقابلے کا اعلان

  

آصف زرداری کے خود اور اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد یہ بات کسی شک سے بالا تر ہے کہ باپ بیٹا قومی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ نواب شاہ میں آصف زرداری کی بہن عذرا پے چو ہو کو مستعفی ہونا ہے اور لاڑکانہ سے ایاز سومرو کو مستعفی کرایا گیا ہے۔ لاڑکانہ کے کم آمدنی والے گھرانہ سے تعلق رکھنے والے وکیل ایاز پیپلز پارٹی کے وہ کارکن ہیں جنہیں قومی اسمبلی سے قبل سندھ اسمبلی میں بھی منتخب کرایا گیا تھا۔ وہ سندھ کے وزیر قانون بھی رہے۔ ایاز علیل چلے آرہے ہیں ۔ انہیں بیرون ملک خصوصا امریکہ میں بھی علاج کرانا پڑا ہے۔ ان سے قربت رکھنے والے لوگ تبصرہ کرتے ہیں کہ ایاز کا سیاست سے جی اچاٹ ہو گیا ہے کہ جس چاہت سے کثیر سرمایہ لگا کر انہوں نے اپنی رہائش گاہ تعمیر کرائی تھی وہ بھی کسی وجہ سے اب ان کی ملکیت نہیں رہی۔ نواب شاہ ہو یا لاڑکانہ، پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے لئے کامیابی مشکل نظر نہیں آتی ہے۔ جب مرحومہ بے نظیر بھٹو کے اکلوتے صاحبزادے لاڑکانہ سے اپنا پہلا انتخاب لڑیں تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں کامیابی نصیب نہ ہو۔ وہ جس حلقے سے انتخاب میں حصہ لیں گے، وہاں سے مرحومہ نصرت بھٹو منتخب ہوا کرتی تھیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے یہ اعلان کیا کہ وہ آصف زرداری اور بلاول کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔ تحریک انصاف کے امیدواروں کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے ۔ تحریک انصاف کے ہمدردوں کا ایک حلقہ تو موجود ہے۔ بعض غیر سرکاری تنظیموں نے بلاول کے مقابلے میں ویرو کولہی کو امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔ ویرو کی حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرائی گئی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ لاڑکانہ سے انتخاب میں حصہ لیں گی۔ جمیعت علماء اسلام (مولانا فضل الرحمان گروپ) کے راشد سومرو نے بھی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

ویرواُن بے زمین ہاریوں میں شامل ہیں جنہیں شکیل پٹھان مرحوم نے جبری مشقت کے شکار ہاریوں کی رہائی کی مہم کے دوران ایک زمیندار سے رہائی دلائی تھی۔ انہیں ماتلی کے کیمپ میں رکھا گیا تھا۔ وہ بچوں کی ماں ہیں، ناخواندہ ہیں۔ ان کے شوہر رہائی کے بعد کیمپ میں ہی بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔ حکومت نے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا اور جبری مشقت سے رہائی پانے والے بے زمین ہاریوں کو زمین کا کوئی ٹکڑا دینا تو بڑی بات تھی ان کی بحالی روزگار اوررہائش کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔ ہاریوں کو بھی کوئی ملال اس لئے نہیں کہ وہ اپنی رہائی کو ہی اہمیت دیتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ ان کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ آزادہو گئے ہیں جس کے لئے وہ لوگ شکیل پٹھان مرحوم پر اپنی عقیدت کے پھول بھی نچھاور کرتے ہیں۔ شکیل پٹھان کی ہاریوں کو جبری مشقت سے رہائی دلانے والی مہم ہوا کے ایک تازہ جھونکے کی طرح تھی جس نے زیریں سندھ میں ہر اس زمیندار کو دہلادیا تھا جو ہاریوں کو قیدی بنا کر رکھتے ہیں۔ شکیل پٹھان کی 1998 میں ایک حادثہ میں موت کے بعدوہ مہم ہی دم توڑ گئی۔ انسانی حقوق کمیشن کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے ان ہاریوں کواپنے اپنے مقاصد کے لئے سرگرم رکھا لیکن دل جمعی اور تسلسل کے ساتھ کوئی تنظیم بھی کام نہیں کر سکی۔

مالی طور پر غیر مستحکم تنظیمیں چلانے والے لوگ ’’ پروجیکٹ ‘‘ تلاش کرتے رہے، جب کہیں سے پیسہ مل گیا انہوں نے کام شروع کردیا، پیسہ ختم ہو گیاتو انہوں نے کام بند کردیا۔ حکومت کرنے والی سیاسی جماعتوں کو دلچسپی اور فرصت ہی نہیں رہی کہ وہ ان ہاریوں کے لئے کوئی قابل قدر کام کر سکیں۔ غرض ان کے سروں پر غیر یقینی کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے۔ اسی غیر یقینی کیفیت میں ان ہاریوں کے درمیاں ہی بعض لوگ خود ساختہ ’کامریڈ‘ بھی بن گئے ہیں۔ ان ہی کامریڈوں میں سے ایک ویرو کولہی بھی ہیں۔ ہندوؤں میں اچھوت کی حیثیت کا اندازہ تو قریب رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے لیکن ان اچھوتوں میں کو لہی سب سے کم درجہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سماجی لحاظ سے ویرو کا درجہ اس لئے بہتر ہو گیا کہ انہیں بیرون ملک سفر کا موقع بھی ملا جہاں انہیں ایوارڈ بھی دئے گئے۔ ویرو غیر سرکاری تنظیموں کے ہتھے کیا چڑھیں کہ انہیں 2013 کے انتخابات میں امیدوار بنادیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار شرجیل میمن ٹنڈو جام کے حلقے سے امیدوار تھے۔ ویرو نے کسی منظم مہم کے بغیر اس انتخاب میں سات ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کئے تھے۔ ان ووٹوں کی اکثریت ہاری ووٹ نہیں تھے ۔ ویرو کے حاصل کردہ ووٹ کسی غیر سرکاری تنظیم کے کام کرنے کی وجہ سے نہیں تھے بلکہ شرجیل مخالف ووٹ تھے۔ یہ غیر سرکاری تنظیمیں اتنا ہی کام کرتی ہیں جتنا ان کو دئے گئے کسی ’’پروجیکٹ‘‘ میں اجازت ہوتی ہے۔ ویسے کوئی بھی تنظیم ہاریوں یا محنت کشوں کو منظم کرنے،ان کی تربیت کرکے، انہیں ان کے حقوق اور قوانین سے آگاہ کرنے کا کام نہیں کرتی ہے۔ سینکڑوں تنظیموں نے صوبہ سندھ میں مختلف اوقات میں مختلف منصوبوں پر کام کیا لیکن کسی نے بھی اس طرح کی تنظیم سازی نہیں کی جیسی سندھ ہاری کمیٹی کیا کرتی تھی۔

سندھ اسمبلی کا گھیراؤ کراکے سندھ ٹیننسی ایکٹ منظور کرانا اس وقت کا بڑا کارنامہ تھا۔ یوسف ہارو ن وزیر اعلی تھے سو قانون منظور ہو گیا۔ کوئی اور وزیر اعلیٰ ہوتا تو شائد وہ بھی نہ ہوا ہوتا۔ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری کے بعد حیدر بخش جتوئی کی سیاست میں شمولیت اور انتخابات میں حصہ لینا سندھ ہاری کمیٹی کو بھی شدید صدمے سے دوچار کر گیا تھا۔ حیدر بخش جتوئی نے لاڑکانہ سے ہی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور تمام قوت استعمال کرنے کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ ان کے ا نتخاب میں حصہ لینے سے سندھ ہاری کمیٹی کو کسی فائدے کی بجائے نقصان ہی ہوا تھا جس کا آج تک تک ازالہ نہیں ہو سکا ہے۔ ہاری کمیٹی کے ایک وقت کے جنرل سیکریٹری جام ساقی کو بھی بائیں بازو کے سیاسی عناصر نے ریگستانی ضلع تھر پارکر سے 1970ء کے انتخاب میں کھڑا کیا تھا۔ اس وقت کے نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماء وسیم عثمانی مرحوم و دیگر نے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دی تھیں لیکن تھرکے علاقے کا ہونے کے باوجود تھر کے باشندوں نے جام ساقی کو اتنے ووٹ نہیں دئے کہ وہ کامیاب ہو سکتے۔

جمیعت علماء اسلام (مولانا فضل الرحمان گروپ) کے راشد سومرو نے بھی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ راشد سومرو مرحوم سنیٹر خالد محمود سومرو کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں شکار پور میں ہونیو الے ضمنی انتخاب میں بھی حصہ لیا جہاں صرف پانچ ہزار ووٹ سے پیپلز پارٹی کے امتیاز شیخ کامیاب ہوگئے۔ خالد محمود مرحوم بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں انتخابات میں ناکام ہوتے رہے تھے۔ پاکستان میں رائج انتخابی طریقہ کار اور اس کے لئے ضروری عوامل پر عمل درآمد کے بغیر انتخاب میں کامیابی کے خواب کی تعبیر نہیں ہوسکتی۔ سندھ ہاری کمیٹی ہو یا بائیں بازو کے سیاسی عناصر، ان کی اکثریت یہ یقین رکھتی ہے کہ وہ انتخاب میں حصہ لے کر رائے عامہ کو بیدار کر سکتے ہیں، لوگوں سے براہ راست رابطہ کر کے انہیں آگاہ کر سکتے ہیں کہ جن لوگوں کو منتخب کرتے چلے آئے ہیں وہ ان کے حقوق کی کبھی پاسداری نہیں کر سکتے۔ ان عناصر کی یہ سوچ ممکن ہے کہ ان کے مقاصد پورے کرتی ہو اور انہیں انتخاب کی صورت میں ایک مہم جوئی کا موقع ملتا ہو لیکن اس کے نتیجے میں یہ عناصر اپنی توانائیوں کو کئی لحاظ سے ضائع کر دیتے ہیں۔ کسی بھی انتخاب کے بعد ایسا نہیں ہوا ہوگا کہ ان عناصر نے اس حلقے میں لوگوں کو بے دار رکھنے کے لئے آئندہ انتخاب کو ہدف بنا کر سرگرمی سے کام کیا ہو۔ انتخاب کے بعد تمام عناصر نا معلوم وجوہ کے باعث غائب ہو جاتے ہیں۔ ویرو کو لاڑکانہ سے انتخاب لڑا نا بھی ایسی ہی ناکام مہم جوئی کہی جا سکتی ہے ، لاڑکانہ کے وہ سیاسی عناصر بھی جو پیپلز پارٹی سے خائف رہتے ہیں یا اس کے حامی نہیں ہیں، یکسو نہیں ہیں۔ ہاریوں کی بھی کوئی قابلِ ذکر تنظیم سازی نہیں ہے۔ انہیں انتخاب لڑانے والے عناصر صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس تماش گاہ میں بلاول اپنے پہلے انتخابی معرکہ میں بلا مقابلہ کا میاب ہو جائیں۔

مزید :

کالم -