ہائیکورٹ نے موسمی تبدیلیوں پر حکومتی اقدامات کی رپورٹ کو مسترد کر دیا

ہائیکورٹ نے موسمی تبدیلیوں پر حکومتی اقدامات کی رپورٹ کو مسترد کر دیا

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی) چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے موسمی تبدیلیوں پر حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی،عدالتی حکم کے باوجود تیارکردہ واٹر پالیسی کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش نہ کرنے پرعدالت نے وفاقی سیکرٹری بین الصوبائی کوآرڈینیشن اور سیکرٹری آبپاشی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیاہے۔ درخواست گزار اصغرلغاری کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کررکھا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسم تبدیل ہو رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں سے بارشوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے سیلاب کی شدت بڑھ گئی ہے۔محکمہ آبپاشی پنجاب کے افسرنے عدالت کو بتایا کہ پنجاب میں واٹر پالیسی تیار کر کے وزیر آبپاشی کو بھجوا دی گئی ہے۔ وزارت بین الصوبائی کوآرڈینیشن کے افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قومی واٹر پالیسی تیار کر لی گئی ہے مگر صوبوں کے اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب اسے مشترکہ مفادات کونسل میں پیش نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 10سالہ فلڈ پروٹیکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے جس کے لئے بڑے فنڈز درکار ہیں جس پرعدالتی احکامات نظر انداز کرنے پر عدالت نے وفاقی سیکرٹری بین الصوبائی کوآرڈینیشن اور سیکرٹری آبپاشی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مزید :

صفحہ آخر -