نیشنل بینک کو 70فیصد پنشن کی ادائیگی کا حکم ، بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیلیں بھی خارج

نیشنل بینک کو 70فیصد پنشن کی ادائیگی کا حکم ، بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیلیں بھی ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہورہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ نے نیشنل بینک کو اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو اضافہ شدہ پنشن کی ادائیگی کا حکم دے دیا ہے جبکہ عدالت نے نیشنل بینک کی سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں بھی خارج کردیں،اس سے قبل جسٹس شاہد کریم پر مشتمل دورکنی بنچ نے نیشنل بنک کی اپیلوں پر سماعت مکمل کی تھی ۔نیشنل بینک کی اپیلوں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سنگل جج نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا،بنک نے ملازمین کی بنیادی تنخواہ کے مطابق پنشن و دیگر فوائد ملازمین کو دئیے اور بنک کا بورڈ آف ڈائریکٹر پالیسی معاملات پر فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہے ،سنگل جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔بینک ملازمین داؤد وغیرہ کے وکلاء کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت پاکستان نے پورے پاکستان میں 70 فیصد کے حساب سے پنشن دینے کی پالیسی 1999 ء میں پورے پاکستان میں نافذ کی جبکہ بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حکومتی پالیسی کے خلاف پنشن 70 فیصد کی بجائے 33 فیصد کے حساب سے دینے کی منظوری دی ،حالانکہ حکومت کی پالیسی کو حکومت ہی تبدیل کرسکتی ہے ، بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حکومتی پالیسی کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں اور ساڑھے 3ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کو بینک اضافہ شدہ پنشن نہیں دے رہا،عدالت سے استدعا ہے کہ بینک کی اپیلیں خارج کرکے پنشنرز کو 70 فیصد کے حساب سے پنشن دینے کا حکم دیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -