طیبہ کے والدین کو 12 ہزار روپے ادا کیے،مرکزی ملزمان کا اعتراف

طیبہ کے والدین کو 12 ہزار روپے ادا کیے،مرکزی ملزمان کا اعتراف

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) طیبہ تشدد کیس کے مرکزی ملزمان جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین بی بی نے پولیس کو بیان جمع کرادیا جس میں انہوں نے والدین کو پیسے دے کر طیبہ کو گھر پر لانے کا اعتراف کرلیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جج اور ان کی اہلیہ کی جانب سے پولیس کو جمع کرائے گئے بیان میں جج صاحب نے طیبہ پر تشدد کو کسی بڑے مافیا کی کارستانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی خود انکوائری کر کے حقائق سامنے لاؤں گا۔ انہوں نے بیان میں مزید کہا کہ ڈیڑھ سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کیلئے پیسے دے کر بچی کی کفالت لی اور طیبہ کے والدین کو 12 ہزار روپے ادا کیے۔ اہلیہ رحمدل خاتون ہیں اور طیبہ کو اپنے بچوں کی طرح رکھا، بچی کو چاکلیٹ، ٹافیاں کھلاتے اور جوس پلاتے تھے۔پڑوسی خضر حیات سے بھی طیبہ کا رابطہ تھا، 27 دسمبر کو بچی گم ہوئی جس کی 28 دسمبر کو رپورٹ درج کرائی۔

مزید :

علاقائی -