نئی پراکسی وار ! ۔۔۔۔نیا سیکرٹری خارجہ

نئی پراکسی وار ! ۔۔۔۔نیا سیکرٹری خارجہ
 نئی پراکسی وار ! ۔۔۔۔نیا سیکرٹری خارجہ

  

دنیا کی واحد سپرپاور امریکہ میں انتقال اقتدار کا عمل اپنے آخری مراحل میں ہے لیکن اس بار اس عمل کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں شاید پہلی بار ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ایک ایسی شخصیت صدارت کے عہدہ پر متمکن ہونے جارہی ہے جس کا کوئی سیاسی تجربہ ہے نہ روایتی امریکی رہنماؤں والا اسلوب اور طرز عمل ،ان کے بارے میں کوئی اعتماد کیساتھ تبصرہ نہیں کرسکتا کہ وہ دنیا کے کس ملک اور خطے کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے اسی بنیاد پرنہ صرف پوری دنیا کی نظریں امریکہ میں انتقال اقتدار کی طرف مرکوز ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ عالمی سیاست میں ایک عارضی ٹھہراؤ سا آگیا ہے روس،چین کی حالیہ صف بندی اور افغانستان میں اہم سٹریٹیجک مفادات کے پیش نظر امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی پاکستان کیلئے غیرمعمولی مضمرات کی حامل ہوسکتی ہے اس بنا پر پاکستان بھی امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کا بے چینی سے منتظر ہے جنوبی ایشیا میں وادی کشمیر کا سلگتا دیرینہ تنازع ایک شعلے کی شکل اختیار کرچکا ہے پاکستان اور بھارت ایٹمی صلاحیت کے حامل دوممالک کے مابین کشمیر میں آزادی کی بھڑکتی ہوئی آگ کی بدولت حقیقی کشیدگی موجود ہے تاہم امریکہ میں گزشتہ سال کے آواخر سے اقتدار کی منتقلی کے مختلف مراحل کی بدولت پاکستان اور ہندوستان کے مابین کشیدگی اور افغانستان میں امن عمل دونوں مسلسل سٹیٹس کو کا شکارہیں اگرچہ نومنتخب صدر کی نئی ٹیم کے نامزد وزرائے دفاع اور خارجہ سینٹ اور کانگریس کمیٹیوں میں ایک طرف تو پاکستان سے پر ڈومور کااصرار کرتے نظرآرہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے واشگاف الفاظ میں امریکی ارکان پارلیمنٹ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان پر پابندیوں کا حربہ کارگر ثابت نہیں ہوا،پاکستان پابندیوں کے باوجود اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کاربند ہے اگرچہ ان کے بیانات سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی شاید کیرٹ اور سٹک کی پالیسی پر گامزن ہوگی لیکن اس کے باوجود ٹرمپ کے عہدہ صدارت پر فائز ہونے تک امریکہ کی پاکستان اور اس خطے کے حوالے سے خارجہ پالیسی ایک معمہ رہے گی لیکن تاحال امریکہ کی افغان پالیسی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ بالاآخر امریکہ کے اہداف ہیں کیا، کیونکہ اگرتو امریکہ افغانستان میں واقعہ ہی پائیدار امن اورسیاسی استحکام کا خواہاں ہے تو اس کے لئے’’ کیو سی جی عمل‘‘ شاید ایک بہترین فورم تھا جس میں افغانستان امریکہ،چین اور پاکستان کو پرائمری سٹیک ہولڈرز کے طور پر طالبان سے مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کا ایک وسیع تر مفاہمتی فارمولا تشکیل دینا تھا لیکن ایک طرف امریکہ اور مغرب کی ایماء پر افغانستان میں ہندوستان کے اثرورسوخ کو غیرضروری طور پر مسلسل بڑھانے کے عمل اور دوسری جانب امن مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ملا عمر کی ہلاکت کی خبرنشر کرنے اور دوسرے مرحلے کے عین موقع پر ملا منصور پر ڈرون حملے کے ذریعے ہلاکت نے پورے مفاہمتی عمل کو دانستہ سبوتاژ کرنے کے اقدام سے کئی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں، 1۔کیا امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے بلکہ اس میں پھر سے اضافے کا خواہشمند ہے ،2۔کیا امریکہ افغانستان میں خانہ جنگی جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کا خواہاں ہے ؟،3۔کیا امریکہ افغانستان کی صورتحال کو اسقدر مخدوش کرنے کا خواہاں ہے کہ اس سے خدانخواستہ افغانستان کی کوئی جغرافیائی حیثیت میں تبدیلی ممکن ہوسکے یا پھر اس صورتحال سے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کیا جاسکے؟کیونکہ ان سوالات کے پیچھے اور بھی بہت سے اشارے ملتے ہیں، خطے کے بعض دیگر ممالک کے ذرائع کے مطابق شمالی افغانستان میں داعش کو منظم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں داعش کے شمالی افغانستان میں منظم ہونے کی صورت ایران،روس اور وسطی ایشیائی ممالک کو سکیورٹی کے شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں شاید اسی خطرہ کے پیش نظرروس اور حتی کہ ایران بھی طالبان کو افغانستان میں ایک مستقل سیاسی قوت کے طورپر تسلیم کرتے ہوئے ان میں اپنا اثرورسوخ رکھتا ہے ایک عمومی تجزیے کے مطابق القاعدہ اور داعش کی مانند طالبان کا تاحال کوئی عالمی ایجنڈہ سامنے نہیں آیا،طالبان صرف افغان سرزمین سے تمام غیرملکی فوجی قوتوں کا انخلاء اورکابل میں پاور شیئرنگ کے خواہاں نظرآتے ہیں، اس بنیا پر روس اور ایران دونوں ممالک ایک صفحہ پر ہیں،جبکہ شاید امریکہ اور مغربی طاقتوں کے طرز عمل سے نہ صرف’’ کیوسی جی‘‘ کا عمل تعطل کاشکارہوا بلکہ ہارٹ آف ایشیا میں افغان صدر نے پاکستان کی سرخ لائنوں کا احترام کیے بغیر بھارتی زبان بولتے ہوئے الزام تراشی کی ،اس طرز عمل کے نتیجہ میں روس، پاکستان اور چین تینوں ممالک کے ماسکو میں افغانستان اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے اہم ترین سٹریٹیجک مذاکرات ہوئے جبکہ ان مذاکرات کو موثر بنانے کیلئے اس فورم کا دامن وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا جس میں سب سے پہلے اصل سٹیک ہولڈرز افغانستان کو اس میں شریک کرنے کیلئے کھلی دعوت دی گئی بلکہ ان مذاکرات کا اہم ترین پہلو یہ تھا کہ روس نے اس فورم میں ایران کو شامل کرنے کی تجویز دی جس کا پاکستان نے خیرمقدم کیا ،اس لحاظ سے خطے اور افغانستان میں ایک نئی صف بندی ہوتی نظرآرہی ہے۔

ایک طرف چین ،روس ،پاکستان اور ایران ملکر داعش کا راستہ روکنے اور طالبان کو مفاہمتی عمل کے ذریعے پاورشیئرنگ فارمولہ کیلئے آمادہ کرنے پر کمربستہ نظرآرہے ہیں تودوسری جانب امریکہ چاہتا ہے کہ جو طالبان کابل کے سامنے سرنڈر نہ کریں انہیں پوری قوت سے کچل دیا جائے اور پاکستان اس کیلئے غیرمشروط طور پر موثر کردار اداکرئے،جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی ایران کیخلاف سخت خیالات اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے معاہدہ کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں افغان قیادت، امریکہ و مغربی ممالک نے اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے افغانستان میں طالبا ن کے ساتھ مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے بجائے انہیں داعش کی طاقت سے دبانے کی کوشش کی تو افغانستان میں ایک بھرپور نئی پراکسی وار ہوا چاہتی ہے ،اس تناظر میں ہمیں اس وقت موثر سفارتکاری کیلئے دفتر خارجہ میں سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کے بعد ایک متحرک اور ہمہ جہت سیکرٹری خارجہ کی ضرورت ہے وزیراعظم کو بھجوائی جانیوالی سمری میں4نام ہیں جن میں غالب اقبال ،باسط خان،تہمینہ جنجوعہ اور سید ابن عباس کے نام شامل ہیں جبکہ حتمی مقابلہ تہمینہ جنجوعہ اور ابن عباس کے مابین نظرآتا ہے، وزیراعظم محمد نوازشریف کے حالیہ دورہ میں تہمینہ جنجوعہ میزبان ہیں اگروزیراعظم بذریعہ لندن واپس آتے ہیں تو ابن عباس کو بھی میزبانی کا موقع ملے گا ،قوی امکان کے کہ وزیراعظم محمدنوازشریف اس دورہ میں نئے سیکرٹری خارجہ کا فیصلہ کرلیں گے۔

مزید :

کالم -