تعلیمی عملے کوایڈمن سے ڈیپارٹمنٹ میں واپس بھیجاجارہا،وی سی پنجاب یونیورسٹی

تعلیمی عملے کوایڈمن سے ڈیپارٹمنٹ میں واپس بھیجاجارہا،وی سی پنجاب یونیورسٹی

  

لاہور(حافظ عمران انور) جامعہ پنجاب کو دنیا کی 500یونیورسٹیز میں ٹاپ پوزیشن پر لانا ترجیحات میں شامل ہے ۔کوئی بھی شخص میرٹ سے بالاتر نہیں ۔جامعہ پنجاب کے طلباء نے ہیپا ٹائٹس کی ویکسین تیار کی جس پر چالیس روپے کی لاگت آئی ہے ۔مختلف شعبہ جات کے طلبہ نے کپاس کی پیداوار میں اضافے سمیت جو ایجادات کی ہیں انہیں مارکیٹ میں جلد متعارف کروایا جائے گا ۔دوسرے ممالک کی یونیورسٹیزسے اپنے طلبہ کی سکالر شپ کے حصول کے لئے ایم او یو سائن ہو رہے ہیں تا کہ طلبہ دوسرے ممالک جا کروہاں کی یونیورسٹیز میں ہونے والے ریسرچ ورک کو سیکھ سکیں ۔پنجاب یونیورسٹی میں اکیڈمک سٹاف کو ایڈمنسٹریشن سے واپس ان کے ڈیپارٹمنٹ میں بھیجا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی حرج نہ ہو پنجاب یونیورسٹی میں کوالٹی ایجوکیشن اور ریسرچ کے لئے 120ملین روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔یونیورسٹی ہاسٹلز میں طلبہ کے علاوہ دوسرے افراد کے رہائش پذیر ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ہاسٹلز میں بائیو میٹرک سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے تا کہ صرف مستحق طلبہ کی رہائش کا بندوبست ہو سکے ۔پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ہاسٹل میں سکیورٹی عملے کی 40سے زائد خالی سیٹوں کو پر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے کیونکہ طلبہ ہمارا مستقبل ہیں اس لئے ان کی سیکورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ۔ان خیالات کا اظہار پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے پاکستان فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیحات میں سب سے پہلے پنجاب یونیورسٹی کی ساکھ کو بحال کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وائس چانسلر نے کہا کہ طلبہ کو مطالعے کی طرف راغب کرنے کے حوالے سے لائبریری کے اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت لائبریری کے اوقات کار رات آٹھ بجے سے دس بجے تک بڑھا دئیے گئے ہیں اس ضمن میں ان وقات کار کو رات بارہ بجے تک بڑھانے کا آپشن زیر غور ہے ۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کو پرائیویٹ یونیورسٹیز سے پنجاب یونیورسٹی کی طرف واپس لانا ہمارا مشن ہے کیونکہ یونیورسٹی میں اب ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے کہ جس سے طلبہ کی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع میسر آسکیں ۔یونیورسٹی کے ماحول کو ٹھیک کرنے میں تین سے چار سال کا عرصہ درکار ہے ۔ ہمارا وژن ہے کہ 2030تک ہماری یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں شامل ہو سکے اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا اس سلسلے میں یونیورسٹی کے اکیڈمک سٹاف کو آن بورڈ لیا جا رہا ہے کیونکہ اساتذہ کے بغیر ہم اس وژن کو مکمل نہیں کر سکتے طلبہ یونینز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طلبہ یونینز کو ضابطہ اخلاق کا پابند کر کے ان کو بحال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ہمارے سٹوڈنٹس کا شمار دنیا کے بہترین سٹوڈنٹس میں ہوتا ہے صرف ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔پنجاب یونیورسٹی کے امتحانی نظام میں خرابیوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امتحانی نظام کو فول پروف بنانے اور سیکریسی برانچ میں سے کرپٹ لوگوں کو نکالنے سمیت متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس کی بدولت امتحانی نظام میں شفافیت نظر آئے گی ۔طلبہ کو اپنے پیغام میں وائس چانسلر نے کہا کہ وہ صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دیں اور جرائم پیشہ لوگوں سے میل جول نہ رکھیں ۔تا کہ پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔ہماری کوششوں سے یونیورسٹی کے ماحول کو بتدریج بہتر بنایا جا رہا ہے تا کہ طلبہ یکسوئی سے اپنی تعلیم کی طرف توجہ دے سکیں۔

مزید :

صفحہ اول -