کیا کشیدگی کی فضامیں پاکستانی سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہو نی چاہیے؟

کیا کشیدگی کی فضامیں پاکستانی سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہو نی چاہیے؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 بھارتی فلموں کی کلیئرنس کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس کی سربراہی سیکرٹری تجارت عظمت رانجھا کریں گے۔ اس خصوصی کمیٹی کی کلیئرنس کے بعد پاکستانی سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہوسکے گی۔ اگرچہ حکومت نے نمائش پر باقاعدہ پابندی تو عائد نہیں کی لیکن سینما مالکان نے خود ہی بھارتی فلمیں دکھانا اس وقت بند کردی تھیں جب کشمیر میں ظلم و ستم بہت بڑھ گیا تھا اور کنٹرول لائن پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ کوئی تین ہفتے پہلے سینما مالکان نے خود ہی یہ پابندی بھی ختم کردی البتہ الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والی اتھارٹی (پیمرا) نے تمام چینلوں بشمول پرائیویٹ ریڈیو پر بھارتی مواد دکھانے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے لیکن بعض چینل کوئی نہ کوئی بھارتی ’’ٹوٹا‘‘ دکھاتے رہتے ہیں۔ جن دنوں پاکستانی سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش بند کی گئی اس وقت وزیراعظم نریندر مودی کا رویہ بہت معاندانہ ہوگیا تھا جو اگرچہ اب تک جاری ہے تاہم جن دنوں فلمیں بند کی گئیں اس وقت وہ ہوا کے گھوڑے پر نہ صرف سوار تھے بلکہ بگٹٹ دوڑے چلے جا رہے تھے۔ کبھی پاکستان کو تنہا کرنے کی بات کرتے، کبھی پاکستانی دریاؤں کو خشک کرنے کی دھمکی دیتے، کبھی سرجیکل سٹرائیک کا خواب دیکھتے، لیکن جب جنرل راحیل شریف نے جواب دیا کہ سرجیکل سٹرائیک کا خواب تو دیکھا جاسکتا ہے لیکن اس مقصد کیلئے آنے والا واپس نہیں جائے گا اور جس طرح کا سبق اسے سکھایا جائے گا اس کی کہانیاں بھارت کی آنے والی نسلوں کو نصاب میں پڑھائی جائیں گی، اس پر مودی تو خاموش ہوگئے لیکن نئے بھارتی آرمی چیف عہدہ سنبھالتے ہی پھر سرجیکل سٹرائیک کا ذکر لے بیٹھے، جس کی صدائے بازگشت اب تک سنی جا رہی ہے۔ اس پس منظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمیں بھارتی فلموں کی نمائش کی کیا مجبوری لاحق ہے جب فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حلقے بھی اس کے حق میں نہیں ہیں، البتہ سینما مالکان غالباً کاروباری تقاضوں کے پیش نظر بھارتی فلموں کی نمائش کے حق میں ہیں، اس لیے انہوں نے پہلے نمائش پر پابندی لگائی اور پھر ختم کردی۔ اب جب خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے تو ظاہر ہے یہ فلموں کا جائزہ لے کر اجازت دے گی یا انکار کردے گی، لیکن اس سارے معاملے کو ایک اور پہلو سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کوئی ڈیڑھ برس پہلے جب پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کیلئے بھارت گئے تو ان کی تقریب کے میزبان کا منہ کالا کردیا گیا، وہ اسی حالت میں تقریب میں شریک ہوگئے اور پوری دنیا میں بھارتی سیکولرازم کا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ پاکستانی فنکار راحت فتح علی خان کے شو کئی بار منسوخ کئے گئے، ان کے منیجر کو ہراساں کیا گیا، ان پر منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا، اسی طرح عاطف اسلم کے شو بھی منسوخ کئے گئے۔ جن پاکستانی فنکاروں کو بھارتی فلموں میں کاسٹ کیا گیا ان کے بائیکاٹ کی دھمکیاں دی گئیں۔ خود بھارت کی خان فیملی سے تعلق رکھنے والے مسلمان فنکاروں کو دھمکیاں دی گئیں، ان کی فلموں کے پوسٹر پھاڑے گئے، ان کے گھروں پر مظاہرے کئے گئے اور ان کی فلمیں دکھانے والے سینما گھروں کے خلاف مظاہرے کئے گئے، ان کی فلمیں دکھانے پر ’’تاوان‘‘ بھی وصول کیا گیا۔ اوم پوری ایک ایسے فنکار تھے جو کھل کر پاکستان کے حق میں بات کرتے تھے اور اپنے انتقال سے پہلے انہوں نے پاکستان میں ایک فلم ’’ایکٹر اِن لا‘‘ میں کام بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فن کاروں کو بھارت میں کام کی اجازت ہونی چاہئے۔ اس بنا پر ان کے خلاف بھارتی سوشل میڈیا پوری طرح سرگرم رہا، بلکہ ان کی موت پر بھی شکوک و شبہات کے سائے موجود ہیں کہ وہ طبعی موت مرے یا انہیں زہر دے کر ہلاک کیا گیا۔

بھارت نے اپنی فلموں کے میڈیا کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور بہت سی فلموں میں پاکستان اور اس کے اداروں کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے، یہاں تک کہ جماعۃ الدعوہ کے رہنما حافظ محمد سعید کے خلاف بھی ’’فینٹم‘‘ کے نام سے فلم بنا دی گئی۔ یہ فلم پاکستان میں دکھانے کے خلاف حافظ محمد سعید نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا چنانچہ اس کی پاکستان میں نمائش نہ ہوسکی۔ حافظ محمد سعید کے خلاف ’’ایک تھا ٹائیگر‘‘ کے نام سے بھی ایک فلم بنائی گئی، مجموعی طور پر جو فلمیں پاکستان کے خلاف بنائی گئیں ان کی تعداد ڈیڑھ درجن سے متجاوز ہے، ان میں بارڈر، زمین، سرفروش، غدار، ایجنٹ ونود، ایل او سی، ڈشوم، ڈیوڈ، حیدر، بے بی، نیرجا، تیرے بن لادن، لاہور، بنگستان وہ چند فلمیں ہیں جن کے نام اس وقت یاد آ رہے ہیں، ان فلموں میں پاکستان کے کسی نہ کسی پہلو کو پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ فینٹم کی نمائش تو حافظ محمد سعید نے عدالت کے ذریعے رکوا لی اوپر جن فلموں کے نام دیئے گئے ہیں اگر ان میں سے کوئی فلم کسی نے امپورٹ کرلی تو کیا خصوصی کمیٹی اس کی نمائش کی اجازت دے گی؟ کیونکہ یہ وہ فلمیں ہیں جن میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا ہے اور ان میں پاکستان کے خلاف نفرت اور عصبیت کو ہوا دی گئی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد 65ء کی جنگ تک پاکستانی سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہوتی تھی اور پاکستانی فلمیں بھی بھارت میں دکھائی جاتی تھیں۔ پاکستانی فلم انڈسٹری نے بھارت کا اچھی طرح مقابلہ کیا لیکن جب پاکستانی فلم ساز اور اداکار ایک ایک کرکے رخصت ہوگئے اور پاکستانی فلمی صنعت زوال کا شکار ہوگئی، اس دوران بھارتی فلمی صنعت بہت آگے نکل گئی اور دنیا بھر میں ان کی فلموں کی مانگ بڑھ گئی البتہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی ٹیلنٹ نمایاں ہوکر سامنے آ رہا ہے اور پاکستانی کئی ہٹ فلمیں بھی بنائی گئی ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت کی حوصلہ افزائی کی جائے اور بھارتی فلمیں امپورٹ کرنے کی بجائے اس سرمائے سے پاکستانی فلمیں بنائی جائیں۔ ویسے آج کل جس طرح کے ٹاک شو پاکستانی چینلوں پر چل رہے ہیں ان کے ہوتے ہوئے بھارتی فلموں کی نمائش کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ان ٹاک شوز میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر بھارتی فلمیں کامیاب ہوتی ہیں تو کیوں نہ ان فلموں کو چھوڑ کر ٹاک شوز سے ہی مطلوبہ تفریح حاصل کی جائے؟

بھارتی فلمیں

مزید :

تجزیہ -