پولیو کے تدارک کیلئے سنجیدگی سے فوکس ہیں ،ضیاء اللہ بنگش

پولیو کے تدارک کیلئے سنجیدگی سے فوکس ہیں ،ضیاء اللہ بنگش

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )چیئر مین سٹینڈنگ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ضیاء اللہ بنگش ایم پی اے نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے پولیو کے مسئلے کا سنجید گی سے نوٹس لیا ہے اور صوبے بھر میں پولیو کے موذی مرض کے خلاف جنگی بنیادوں پرخصوصی مہمات چلا کر اس پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ 2014کے بعد پولیو فری کوہاٹ اس موذی مرض کی مکمل بیخ کنی کے خلاف متعلقہ مقامی اداروں اور والدین کی دلچسپی کی عکاس ہے اور امید ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز اس بہترین کارکردگی کو برقرار رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کے روز لیاقت میموریل ہسپتال کوہاٹ میں سال 2017کے پہلے4روزہ پولیو مہم کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوہاٹ جنید خان، ڈی ایچ اوکوہاٹ اور نیشنل سٹاپ آفیسر کے ہمراہ 5سال سے کم عمر کے بچوں کو اینٹی پولیو قطرے پلاکر مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پربریفنگ دیتے ہوئے انہیں بتایاگیا کہ آج سے شروع ہونیوالے چار روزہ مہم میں کوہاٹ کے 33 یونین کونسلز میں پانچ سال سے کم عمر کے 1لاکھ 80ہزار مقامی بچوں جبکہ 13ہزار افغان مہاجرین کے بچوں کو اینٹی پولیو قطرے پلا ئے جائیں گے جس کی مانیٹرنگ کے لئے 630موبائل،64فکسڈ،23ٹرانزٹ اور 3 رومنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ ضیاء بنگش نے کہا کہ مہم کی کامیابی میں نچلی سطح پر کام کرنے والوں کا انتہائی اہم کردار ہے اور وہ اس کے اصل ہیرو ہیں انہوں نے کہ نئی نسل کو اپا ہج ہونے سے بچانا ہم سب کا قومی فریضہ ہے لہذا معاشرے کے ہر فرد کو اس سلسلے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کوسختی سے ہدایت کی ہے کہ پولیو ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے اس لئے اس سلسلے میں کسی قسم کی ٖغفلت نہ برتی جائے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کاروائی کی جائے۔انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ انٹی پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے پانچ سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیوقطرے ضرور پلوائیں۔چیئرمین نے کہا کہ انٹی پولیو مہم ایک اہم قومی کاز ہے جس کی کامیابی کے لئے مربوط کوششوں کی اشدضرورت ہے لہذ ا کسی بھی متعلقہ ادارے یا اہلکار کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -