سمندری ، شادی والے گھر میں چار نوجوانو ں کی پر اسرار ہلاکت

سمندری ، شادی والے گھر میں چار نوجوانو ں کی پر اسرار ہلاکت

  

 سمندری (نامہ نگار) شادی والے گھرمیں چار نوجوانوں کی پر سرارموت ،چاروں کی عمریں 13سال سے لے کر 18سال تک بتائی جاتی ہے۔ ایک کمرے میں سوئے صبح مردہ حالت میں پائے گئے۔ گھر والوں کا پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر اسرارایس ایچ او نے قانونی تقاضے پورے کیئے بغیر نعشیں حوالے کرنے سے انکار کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر کے علاقہ چک نمبر464گ ب میں پولیس کانسٹیبل محمد آصف کی شادی تھی ۔بارات کی (بقیہ نمبر30صفحہ12پر )

واپسی پر رات گئے ان کے گھر دوسرے شہروں سے آئے ہوئے ان کے تین رشتہ دار وسیم پندرہ سالہ ۔زبیرپندرہ سالہ۔ امجد تیرہ سالہ اور شادی پر فلم بنانے والا چک نمبر217گ ب کا رہائشی محمد عثمان اٹھارہ سالہ گھر کے ایک کمرہ میں سو گئے جو چاروں صبح مردہ حالت میں پائے گئے جس کی اطلاع پولیس تھانہ صدر کودی گئی پولیس مو قع پر پہنچ گئی اورنعشیں تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال سمندری منتقل کر دیں، تا ہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ چاروں نوجوانوں کی اموات کیسے ہوئیں۔ ورثاء پوسٹ مارٹم نہ کرانے کیلئے پولیس پر دباؤ بڑھا رہے ہیں جبکہ ایس ایچ او تھانہ صدر قانونی تقاضے پورے کیئے بغیر نعشیں ورثاء کے حوالے کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں خیال کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ نوجوانوں کی اموات کسی ز ہریلی چیز یا پھر ز ہریلی شراب پینے سے واقع ہوئی ہے تا ہم اس کا پتہ تو پوسٹمارٹم کے بعد رپورٹس سے چلے گا ڈاکٹروں کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک نوجوان کے منہ سے ایسا مواد خارج ہو رہا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اموات کسی ز ہریلی چیز سے ہوئی ہے۔

پرا سرارہلا کت

مزید :

ملتان صفحہ آخر -