فوجی عدالتیں بحال ہوں تو شرعی عدالتیں بھی بنادی جائیں ‘ اویس نورانی

فوجی عدالتیں بحال ہوں تو شرعی عدالتیں بھی بنادی جائیں ‘ اویس نورانی

  

خان پور(نمائندہ پاکستان)جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما ومرکزی جماعت اہلسنت کے سر پرست اعلیٰ صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کی حمایت کرنا نہ کرنا نتائج پر مبنی ہے ،ان عدالتوں سے جس قسم کے نتائج کی امیدیں تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں اور جن کیسز کی اہمیت زیادہ تھی اور ان سے قومی مقاصد وابستہ تھے انہیں ادھورا چھوڑ دیا گیا۔وہ جے یو پی کے سابق ضلعی (بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

جنرل سیکرٹری مولانا محمد احمد سعیدی کلاچی سے کراچی سے ٹیلی فونک گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہداء بلدیہ فیکٹری اور شہداء نشتر پارک کے فیصلوں کا ابھی تک نہ ہونا سوالیہ نشان ہے ،انہوں نے کہا کہ 12مئی کے سانحہ میں وکلاء کو جلانیوالے واقعہ کا ذمہ دار اور جوابدہ کون ہے کسی نے انگڑائی تک نہیں لی۔انہوں نے کہا کہ عوام اور سیاسی جماعتوں نے فوری انصاف کے وعدے پر فوجی عدالتوں کو کسی نہ کسی صورت قبول کرلیا لیکن افسوسناک امر تو یہ ہے کہ حقیقی مجرم آج بھی آزاد ہیں اور اقدام قتل کے سینکڑوں مجرمان میں سے چند ایک کو سزاہوسکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر فوجی عدالتوں کو بھی کیسز کی سماعت کیلئے برسوں کا عرصہ درکار ہے تو سول عدالتوں کا نظام برا نہیں ،انہوں نے کہا کہ اگر فوجی عدالتیں بحال ہوتی ہیں تو پھر خود مختار شرعی عدالتیں بھی نافذ کرکے شرعی ججز کو تمام حساس نوعیت کے کیسز کی سماعت کیلئے مکمل اختیارات دئے جائیں ۔

اویس نورانی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -