گداگروں کامافیا

گداگروں کامافیا
 گداگروں کامافیا

  

اسلام نے سخاوت اور صدقہ و خیرات کو زندگی کے مصائب اور بیماریوں کے لئے ڈھال قرار دیا ہے لیکن اسلامی ممالک اور ان کے معاشروں میں اس کو جواز بنا کر بھکار ی اور گداگر اللّٰہ رب العزت کے نام پرلوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے بنی اکرمﷺ نے فرمایا’’ جو شخص لوگوں سے سوال کرے حالانکہ نہ اسے فاقہ پہنچا، نہ اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت نہ ہو گا‘‘

بنی اکرمﷺ کے پاس ایک سوالی آیا آپﷺ نے فرمایا کہ سوال کرنے سے کہیں بہتر ہے کام۔ محمد عربیﷺ نے اس شخص سے پوچھا کیا تیرے پاس کچھ ہے ۔اس نے کہا ہاں میرے پاس ایک چٹائی اورپیالہ ہے۔ آپﷺنے فرمایا دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔ جب وہ شخص دونوں چیزیں لے آیا حضور اکر م ﷺ نے دونوں اشیاء کونیلام کیاجس کے دْو درہم ملے، آپ ﷺ نے اس شخص سے کہا کہ ایک درہم سے کھانا خریدو اور ایک درہم کی کلہاڑی خرید لاؤ۔ وہ شخص آپﷺ کی خدمت میں پیش ہوا توحضور اقدسﷺ نے اپنے دست مبارک سے کلہاڑی کا دستہ لگایا اور فرمایا کہ جنگل میں جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بازار میں بیچو۔ یہ سوال کرنے سے بہتر ہے کہ روز قیامت تیرے چہرے پر بھیک کا نشان نہ ہو گا۔

لیکن آج امت مسلمہ میں لاکھوں کروڑوں مسلمان ایسے ہیں جو پیشہ ور گداگر بن چکے اور بھیک کی لعنت سے جڑے ہوئے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ گداگری ایک عالمی مسئلہ ہے مگرارض پاکستان کے اندرگداگری کا طوفان افسوس ناک امر ہے ۔آج کل بھیک آسان ترین نفع بخش تجارت اور پیشے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آئین پاکستان کے آریٹکل 3 اور11 میں بھیک مانگنا ایک جرم قرار دیا گیا ہے لیکن اس شق پر عمل درآمد اسی طرح کا مذاق جیسے آئین کی شق 62 اور 63 کا نافذ عمل ہونا۔ پاکستان میں بھکاریوں کی تعداد لاکھوں میں ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جرم کو روکنے کے لئے عملی پیش رفت کرے۔ ایسے بے روزگار، معذور، محتاج، غریب اور نادار افراد کیلئے روزگار کے مواقع کا انتظام کرے اور انہیں زبردستی اس قابل سزا جرم سے منع رکھے۔ سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور حکومت میں بھکاری ہومز بنائے جہاں ان کو مفت کھانا اور لباس فراہم کیا جاتا تھا۔یہ سلسلہ آج بھی چل سکتا ہے۔ ملک میں سرکاری طور پر رائج زکوۃ و عشرکے ساتھ ساتھ ضلعی و صوبائی سطح پر بیت المال کے نظام ہونے کے باوجود گداگروں کا پایا جانا حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سرکاری محکموں کی طرح ا س محکمہ میں بھی کرپشن، لوٹ کھسوٹ ، فراڈ اور دھوکہ دہی کی مثالیں عام سننے میں ملتی رہتی ہیں ہر سال مبینہ طور پر محض کاغذ ی کاروائی کرکے فائلوں کا پیٹ بھر ا جاتا ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 14 ارب کے قریب زکوۃ دی جاتی ہے جبکہ16 ارب کے لگ بھگ چیریٹی فنڈز کی مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ اس طرح 11 ارب مالیت کی ضروریات زندگی کی اشیاء غریبوں، بے بسوں ، بے سہاروں اور ناداروں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس کے باوجودلوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایک بھکاری نارمل حالات میں30 سے 35 ہزار ماہانہ کما لیتا ہے ، مذہبی تہواروں، رمضان و عیدین پر ان کی چاندی ہو جاتی ہے ان کی آمدنی دو گنا ہو جاتی ہے۔

گداگری ان ایک منظم پیشہ کے طور پر پروان پا چکا ہے وقت گزرنے کے ساتھ گداگروں نے بہت سے نت نئے طریقے، روپ اور انداز ا دھار لئے ہیں۔ پہلے توکہیں کوئی ایک عدد بھیک مانگنا والا بندہ یا بندی نظر آتا تھا لیکن اب ہر سگنلز، شاہراروں، سٹرکوں، گلیوں ، بازاروں میں یہ سر عام پائے جاتے ہیں۔سگنلزپر جب گاڑیاں رکتی ہیں بجلی کی تیزی کے ساتھ مر د، عورتیں اور بچے گاڑیوں کی طرف لپکتے اور دروازے کھٹکھٹاتے ہیں ، شیشہ نہ کھولنے پر بہت زور سے تھپتھپاتے ہیں۔ بعض بچوں زبردستی وائیپروں سے گاڑیوں کے فرنٹ سکرینز کی صفائی شروع کر دیتے اور پیسوں کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ بڑے شہروں کی شاہراہیں ، چوک اور چوراہوں پر ان کا قبضہ نظر آتا ہے۔ مبینہ طور یہ مصروف ترین ایریاز صبح سے شام تک ٹھیکے پر دئیے جاتے ہیں جہاں پر بھکاری شفٹوں کی صورت میں مانگتے ہیں ۔ان کو پولیس آشیر باد بھی حاصل ہوتی ہے۔

گداگروں نے عوام کو اپنے طرف متوجہ کرنے کیلئے نیا روپ نکلا ہے یہ اپنے جسموں پر ایسے نقلی زخم بنواتے ہیں جو عام ایک آدمی کو حقیقت میں اصل معلوم ہوتا ہے،یہ بہروپئے ہیں ۔ بعض مانگنے والے ایسے بھی ملتے ہیں جو اپنے بازوں اور پیروں پر پٹی باندھ کر ریڑھیوں پر بیٹھ کرکراہتے ہیں۔ گداگر اکثر اوقات گاڑی کے پرانے ٹائرز کے اوپر رینگنے کے انداز میں بھی نظر آتے ہیں۔ انکے انہی طریقوں سے دیکھنے والے کا دل پسیج جاتا ہے کہ پتھر دل بھی موم ہو جاتا ہے اور شہری فوراً بھیک دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

پیسے ہتھیانے کا ایک طریقہ دینی ، مذہبی اور شرعی حیلے بہانوں کا استعمال ہے کئی افراد پیدل اور موٹر سائیکلوں پر گلی محلہ میں چکر لگاتے ہیں ، گھر گھر دروازے بجاتے ، دْوکانوں اور مسجدوں میں اعلانات کراتے ،ان کے ہاتھوں میں مساجد اور مدرسوں کی رسیدبکیں ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات ان کے ساتھ بچوں کی ایک ٹولی بھی موجود ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ فلاں فلاں دور دراز علاقے کا سفر طے کرکے آئے ہیں جہاں مسجد کی تعمیرکے لئے سیمنٹ، اینٹوں، ریت ،بجری کے ضرورت ہے ، مسجدوں میں پنکھوں اور مدرسے کے طالب علوں کے لئے کپڑوں کی اشد ضرورت ہے ۔ ایسے گروہوں کی اکثریت دھوکہ بازہوتی ہے جنہوں نے مسجد اور مدرسے کی انتظامیہ سے معاملے پہلے ہی طے کئے ہوتے ہیں ، جمع شدہ فنڈ کا قلیل حصہ مدرسہ اور مسجد کو دیتے ہیں اور باقی اپنی کمیشن کی مد میں ہڑپ کر جاتے ہیں۔

گداگروں کا ایک رْوپ صلوۃ جمعہ کے بعد بڑی جامع مسجدوں کے گیٹ کے باہر دیکھنے کو ملتا ہے جہاں یہ بڑی تعداد میں ٹولیوں کی صورت براجماں ہوتے ہیں۔ جیسے ہی نماز ختم ہوتی ہے یہ دروازوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اونچی آوازوں میں صدا ئیں لگاتے ہیں، جن نمازیوں کے ہاتھ میں یہ پیسے دیکھتے ہیں یہ سا رے اْن کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس کش و مکش میں بعض مرتبہ چھینا جھپٹی کے منا ظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کھانے پینے والے جگہوں، ہوٹلز،ڈھابوں اور ریسٹورنٹ کے باہر ان کا انداز ہی الگ نظر آتا ہے۔ ان جگہوں پر مرد وں کے ساتھ بڑی تعداد میں خواتین گودوں میں بچے اٹھائے موجود ہوتی ہیں جو کشکول آگے بڑھا کر راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں ، بھوک و افلاس کا راگ سناتے ہوئے روٹی ، کھانے کا مطالبہ پیش کرتے ہیں۔

گداگروں کی ایک قسم عادی نشہ آور ہوتی ہے جو نشہ آور ادویات اور منشیات کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، بعض اوقات نشہ کے پیسے نہ ملنے پر یہ چھوٹی موٹی چوری چکاری میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ اکثر اوقات ایسے بھکاری مین ہولوں کے ڈھکن اور مساجد سے ٹوٹیاں چوری کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں ، ان سے ملنی والی رقم سے ایسے افراد نشے کی لت کو پورا کرتے ہیں۔گداگروں کا ایک گروپ ایسا بھی ہے جو چھوٹے معصوم بچوں کو اغواء کرنے کے بعد ان کے ہاتھ پیر کی ہڈیوں کو ناکار ہ اور معذور کر دیتے ہیں۔ یہ معصوم بچے ان گروہوں کے چنگل سے بھاگ نہیں سکتے ، بھکاری خواتین ان بچوں کو لے کر شہر بھر پھرتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اغواء ہونے والے بچوں کی وارداتوں میں اضافہ ہوچلا جا رہا ہے۔

بھکاریوں کا ایک گروہ مارکٹیوں اور بازاروں میں سبز رنگوں کے چولے نما کپڑے پہنے ( سائیں ، شاہ دْولے ) نظر آتے ہیں جو ہر آنے جانے والے کے سروں پر ہاتھ پھیر کر پیسے بٹورتے ہیں ۔انکے ساتھ ایک منشی یہ پیسے اپنی تھیلی میں ڈالتا رہتا ہے۔مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ اکثر بچے پیدائشی طور پر صحت مند ہوتے ہیں لیکن جرائم پیشہ گروہ اغوا کرنے کے بعد ان کے سر وں پر سختی کے ساتھ لوہے کے کڑے ، شکنجے لمبے عرصے تک چھڑا د یتے ہیں جس سے ان کے سر کے حصے کی نشوونما رْک جاتی ہے۔ وہ دماغی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں جس کے بعدیہ افراد ان جرائم پیشہ بھکاریوں کے رحم و کرم پر اپنی ساری زندگی گزارتے ہیں۔

خواتین گداگر سٹریٹ کرائم جیسے گھناؤنے فعل میں اکثر پائی جاتی ہیں، گھریلو ملازموں کی صورت میں بچوں کو اغواء کرکے تاوان وصول کیا جاتا ہے۔ یہ خواتین جرائم پیشہ گروہ کے لئے مخبری کا کام بھی کرتی ہیں،گھروں اور بنگلوں میں چوری اورڈاکہ زنی میں سہولت کا ر کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔ بعض اوقات یہ گداگر عورتیں بس اڈوں، لاری اڈوں، رش کے مقامات پر جیب اور پرس لوٹنے میں مہارت رکھتی ہیں۔ گداگر خواتین کے گروہ منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ باآسانی ایک شہر سے دوسرے شہرٹرانسفر کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

بھکاریوں نے وقت کے ساتھ ایک منفرد انداز نکالا ہے ہمیں کئی ا فراداحاطہ کچہری، تفریحی مقامات، ریلوے اسٹیشن، بس اڈوں، پارکوں، کاروباری اڈوں میں بہت ہی ادب و احترام اورعقیدت سے ملتے ہیں ۔بظاہر ان کی شکل و صورت اور لباس سے ان کی شرافت چھلکتی ہے ا ن کو دیکھنے کے بعد یہ گمان نہیں ہوتا ہے کہ یہ پیشہ وار گداگر ہیں ۔پھر وہ اپنی طویل الم ناک کہانی سنا تے ہیں جن کے مختلف متن و مضمون ہیں: پردیسی ہونا ،جیب کا کٹ جانا ، دوسرے شہر جانے کا کرایہ نہ ہونا، مالی پریشانی، طبی علاج و معالج کے نسخے دیکھانا ، گھریلو پسماندہ حالات و و اقعات، والدہ کی بیماری، قرضہ کی ادائیگی، بیٹیو ں کی شادیوں جیسے افسانے شامل ہوتے ہیں۔ گداگری کی چاد ر پہن کر ملک دشمن عناصر، تخریب کار، دہشت گرد اپنے آپ کو با سانی چھپا لیتے ہیں۔ وہ اس پیشہ کا استعما ل صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں تاکہ و ہ کسی کی نظروں میں آ ئے بغیر اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

گداگری کے اندر ایک اہم شعبہ خواجہ سرا ہوں کا ہے جو پہلے وقتوں میں صرف خوشی اور شادی و بیاہ کے مو قعے پر شائقین کواپنے فن سے محظوظ کرتے تھے لیکن اب وہ دیگر بھکاریوں کے گرْوہ کا مقابلہ کر تے ہوئے سر شام مصروف ترین مقامات پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ سو ل سوسائٹی کو چاہیے ایسے افراد جو بازاروں ،مارکیٹوں اور فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر مختلف ا شیاء (کھلونے، گھریلو استعمال کی چیزیں، اسٹیشنری آٹیم ، وغیرہ) بیچتے ہیں ان سے یہ اشیاء خرید یں تاکہ ان کی ہمت اور حوصلہ افزائی ہو، یہ وہ افراد ہیں جو مثبت سوچ کے ساتھ ساتھ حق حلال کی روزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے افراد ملک و قوم اور معاشرے پر بوجھ نہیں بنا چاہتے ہے۔ صاحب حیثیت اور مخیر حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے ، محلے، دفاتر اور اداروں کے اندرنچلے طبقے کے ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدنی قلیل ہے وہ انتہائی تنگدستی( مہنگائی، ضررویات زندگی، بچوں کی تعلیم، مکان کا کرایہ، علاج و معالج، دیگر خرچہ جات کی مد)سے اپنا گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں ا س کے باوجوداپنی شر م کے مارے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے ان کا خیال رکھیں ۔ان میں اپنی صدقات، خیرات اور زکوۃکی تقسیم سے مدد کریں۔

معاشرے کے اندر ایسے افراد بھی موجود ہیں جواللہ کے خوف، انا اور عزت کے ڈر سے نہیں مانگتے اور سفید پوشی کی زندگی گزار رہے ہیں ، اب ان مستحق افراد اور دھوکہ باز ڈھونگی بھکاری کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ایسے افراد اْن ضرورت مند، سفید پوش افراد کا حق مار رہے ہیں۔ ایسے پیشہ وار گداگروں کی حوصلہ شکنی کے ساتھ تلقین کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ محنت کرکے اپنی گزر بسر کریں جو معاشرے پر بوجھ ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی و خوشحالی کے لئے کسی طرح بھی سود مند ثابت نہیں ہو سکتے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -