وہ جدید ترین ہتھیار جس کی تیاری پر امریکہ نے 400 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے، اب جب استعمال کرنا شروع کیا تو ایسی خامی سامنے آگئی کہ سارا پیسہ ہی ضائع ہوگیا

وہ جدید ترین ہتھیار جس کی تیاری پر امریکہ نے 400 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے، اب جب ...
وہ جدید ترین ہتھیار جس کی تیاری پر امریکہ نے 400 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے، اب جب استعمال کرنا شروع کیا تو ایسی خامی سامنے آگئی کہ سارا پیسہ ہی ضائع ہوگیا

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا کا اسلحہ اپنی کوالٹی کے لئے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے لیکن اپنی تاریخ کا مہنگا ترین لڑاکا جہاز تیار کرتے ہوئے نجانے اس کے ماہرین کی عقل کہاں گھاس چرنے نکل گئی، کہ اربوں ڈالر پھونکنے کے بعد پتا چلا ہے کہ یہ جہاز تو اڑنے کے قابل ہی نہیں۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق 400ارب ڈالر ( تقریباً40000 ارب پاکستانی روپے) کے غیر معمولی اخراجات سے بنایا جانے والا F-35 جوائنٹ سٹرائیک فائٹر امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ کا مہنگا ترین ہتھیار ہے۔ اس کی تیاری میں حائل مشکلات اور بار بار کی تاخیر کے باعث نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حال ہی میں بیان جاری کرنا پڑا کہ یہ منصوبہ قابو سے باہر ہوچکا ہے اور اس کے اخراجات میں بھاری کمی کرنا پڑے گی۔

ہتھیاروں کی دوڑ میں امریکہ نے ناقابل یقین کام کرنے کا فیصلہ کرلیا، اب ہتھیار بھی کھیتوں میں ’اُگائے‘ جائیں گے، لیکن کیوں اور کیسے؟ ایسی خبر آگئی کہ انسانی عقل حیران رہ جائے

امریکی محکمہ دفاع کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں کی گئی ٹیسٹنگ سے پتہ چلا ہے کہ اس جہاز میں مختلف اقسام کی 276 خرابیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لئے ڈھیروں سرمایہ اور وقت درکار ہوگا۔رپورٹ کے مطابق تمام تر توانائی اور سرمایہ استعمال کرنے کے باوجود 2019ءسے پہلے اس منصوبے کے مکمل ہونے کی کوئی امید نہیں۔

رپورٹ کے مطابق فائٹر طیارے کی 25mmکینن کو درست کرنے کی ضرورت ہے، جو فائر کرتے ہوئے بری طرح کانپنے لگتی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کے طور پر متعارف کروایا جانے والا ورچوئل رئیلٹی ہیلمٹ بھی درست طور پر کام نہیں کررہا۔ طیارے کا انجن بھی بہت جلد گرم ہوجاتا ہے جبکہ عمودی پروں کو کنٹرول کرنے والے پرزے جلد گھسنا شروع ہوجاتے ہیں۔ طیارے کا درجہ حرارت قابو سے باہر ہوجانے پر آگ لگنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طیارے کا پرواز کا معیار اس قابل نہیں کہ اسے آواز کی رفتار کی حد سے اوپر لیجایا جاسکے، اور تاحال اس مسئلے کا کوئی حل بھی نہیں ڈھونڈنا جاسکا۔

پینٹاگون کے آپریشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایولیوایشنل ڈیپارٹمنٹ نے امریکی حکام کی توجہ اس اہم پہلو کی جانب بھی دلائی ہے کہ جن 276 خرابیوں کا ذکر کیا جارہا ہے وہ اس نوعیت کی ہیں کہ انہیں دور کئے بغیر طیارے کو اڑانا خطرناک ہو گا، جبکہ بہت سی معمولی خرابیاں اس کے علاوہ ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -