دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں 15سال سے جیل میں قید 2مسلمان نوجوانوں کو لکھنؤ ہائی کورٹ نے باعزت بری کر دیا

دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں 15سال سے جیل میں قید 2مسلمان نوجوانوں کو لکھنؤ ...
دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں 15سال سے جیل میں قید 2مسلمان نوجوانوں کو لکھنؤ ہائی کورٹ نے باعزت بری کر دیا

  

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن)ہندوستان میں لکھنؤکی ہائی کورٹ نے 2 سال مسلسل سماعت کے بعددہشت گردی کے بے بنیاداور جھوٹے الزام میں 15سال سے جیل میں قید 2مسلمان نوجوانوں کو ملک دشمن سرگرمیوں اور دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کرنے کا حکم سنا دیا ۔

مزید پڑھیں:جنگ کی صورت میں چینی فوج 48 گھنٹوں, فضائیہ 10 گھنٹوں میں بھارتی دارالحکومت میں ہوگی : چین

بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق 14جنوری2001ء کو اتر پردیش پولیس نے دھماکہ خیز مواد رکھنے اور ملک دشمن سر گرمیوں کا بے بنیاد اور جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے سلیم قمر اور الطاف حسین نامی 2مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کیا ،اتر پردیش پولیس نے ان دونوں مسلمان نوجوانوں سے آر ڈی ایکس ،کارتوس ،ٹائمر ،بارود اور دیگر اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملزم رام جنم بھومی ایودھیا میں بم دھماکہ کرنا چاہتے تھے ۔انسداد دہشت گردی فیض آباد کی خصوصی عدالت نے الطاف حسین اور سلیم قمر کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں عمر قید اور دھماکہ خیز مواد رکھنے پر 10،10سال قید کی سزا سنا دی تھی ۔جمعیت علمائے ہند کے صدر مولا نا سید ارشد مدنی کی ہدائت پر مسلمان نوجوانوں کی رہائی کے لئے لکھنؤ ہائی کورٹ میں سزاؤں کے خلاف اپیل کی گئی جس پر ہائی کورٹ کے 2 رکنی بنچ کے جسٹس ایس چوہان اور جسٹس اننت کمار نے مسلسل دو سال کیس کی سماعت کے بعد آج فیصلہ سناتے ہوئے دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی طرف سے عمر قید کی سزا کو ختم کرتے ہوئے دونوں مسلمان نوجوانوں کو باعز ت بری کرنے کا حکم سنا دیا ۔

جمعیت علمائے ہند کی لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آنے والے چند دنوں میں الطاف حسین اور سلیم قمر کی جیل سے رہائی ہوجائے گی، اس پورے کیس میں استغاثہ نے سنگین غلطیاں کیں اور بے گناہوں کو ایک طویل عرصہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن سرگرمیوں کے الزامات کے تحت گرفتار مسلما ن نوجوانوں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی اجازت حاصل کرنا قانوناً ضروری تھا لیکن اس کیس میں خصوصی اجازت حاصل نہیں کی گئی اور ایف آئی آر کی کاپی بھی دو ہفتوں کے بعد عدالت میں پیش کی گئی جس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ان دونوں نوجوانوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ دو بے گناہ نوجوان جن کا قصور صرف مسلمان ہونا تھا جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے سے باعزت بری تو ہو گئے لیکن ان کی زندگی کے قیمتی 15سال جیل کی نذر ہو گئے جن کا کسی صورت بھی مداوا ممکن نہیں ۔

مزید :

بین الاقوامی -