’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ‘‘اتر پردیش اور اترا کھنڈ میں حکمران جماعت کے 213 نامزدامیدواروں کی فہرست نے مودی کی’’ مسلم دشمنی ‘‘ کا بھانڈا پھوڑ دیا

’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ‘‘اتر پردیش اور اترا کھنڈ میں ...
 ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ‘‘اتر پردیش اور اترا کھنڈ میں حکمران جماعت کے 213 نامزدامیدواروں کی فہرست نے مودی کی’’ مسلم دشمنی ‘‘ کا بھانڈا پھوڑ دیا

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اکثر اپنی تقریروں میں ہندوستان کے مسلمانوں کو تحفظ دینے اور ساتھ لے کر چلنے کے بلند و بانگ دعویٰ تو بہت کرتے ہیں لیکن اتر پردیش اور اترا کھنڈ اسمبلی کے انتخابات میں حکمران جماعت کے امیدواروں کی جاری ہونے والی فہرستوں نے نہ صرف بھارتی مسلمانوں کو مایوس کیا ہے بلکہ بھارتی وزیر اعظم کے کھوکھلے دعووں اور ’’مسلم دشمنی ‘‘کو بھی عیاں کر دیا ہے ،دونوں ریاستوں کے 213امیدواروں میں ایک بھی مسلمان نہیں ۔

مزید پڑھیں:دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں 15سال سے جیل میں قید 2مسلمان نوجوانوں کو لکھنؤ ہائی کورٹ نے باعزت بری کر دیا

بھارتی نجی چینل ’’انڈیاٹی وی ‘‘ کے مطابق انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی نعرہ الگ اور زمینی حقائق کچھ اور ہیں ،اگر ہم بی جے پی کے یوپی اور اتراکھنڈریاستوں کے213 امیدواروں پرنظر دوڑائیں تو ان میں سے ایک بھی امیدوار مسلمان نہیں ،بی جے پی کی ان دو ریاستوں میں سے پارٹی امیدواروں کی فہرست جاری ہونے سے مسلمانوں میں مایوسی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ مودی کی حکمران جماعت بی جے پی نے یوپی میں 149 اور اتراکھنڈ میں 64 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی ہے لیکن اس میں کسی بھی مسلمان امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے، یہ صورت حالاِس لحاظ سے بھی تشویش ناک ہے کہ مودی حکومت مسلمانوں کے ساتھ بھائی چارے کا نعرہ لگاتے ہوئے نہیں تھکتی بلکہ دوسری طرف وہ ایک لمبی مدت سے بھارت میں اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینے اور انہیں ساتھ لے کر چلنے کا دعویٰ بھی کرتی ہے ،جبکہ ان دونوں ریاستوں میں مسلمانوں کی بڑی تنظیم ’’ مسلم راشٹریہ منچ‘‘ بھی کہیں نہ کہیں بی جے پی کی ہی مدد کرتی ہے۔ بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ انڈین وزیر اعظم مودی بھی اکثر اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے اور سیاست میں دیگر اقلیتوں کی طرح ساتھ لے کر چلنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور ان ریاستوں میں حکمران جماعت بی جے پی کو مسلمانوں کی ہمدرد بتانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

انڈین ٹی وی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یوپی اور اتراکھنڈ میں 213 امیدواروں کی فہرست میں ایک بار پھر بی جے پی نے عملی میدان میں اپنی کہی ہوئی باتوں اور دعووں پر’’ پہرا ‘‘ دینے کی بجائے مسلمانوں کو مایوس کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2012ء کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بھی صرف ایک مسلمان امیدوارکو ہی ٹکٹ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کو 403 اسمبلی سیٹوں والی ریاست یوپی میں ایک بھی ایسا مسلمان چہرہ نہیں ملا تھا جسے وہ انتخابی میدان میں اتار سکے۔اس بار بھی مغربی اتر پردیش کے دو مراحل سے متعلق امیدواروں کی فہرست جاری ہو چکی ہے، لیکن پارٹی کو کوئی بھروسے والا’’ مسلم چہرہ ‘‘نہیں ملا، جبکہ سیاسی ماہرین کے مطابق یوپی میں مغربی اترپردیش ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں،جبکہ ایک درجن سے زیادہ ایسی سیٹیں بھی ہیں جہاں کسی بھی پارٹی کا ساتھ ملنے پر مسلمان ووٹ فیصلہ کن کردار میں آ جاتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی مودی کی پارٹی کو ایک مسلمان امیدوار انتخابی میدان میں کھڑا کرنے کو نہیں ملا۔

مزید :

بین الاقوامی -