ایک دن ’’شیدے‘‘ کے ساتھ

ایک دن ’’شیدے‘‘ کے ساتھ
ایک دن ’’شیدے‘‘ کے ساتھ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’شیدا‘‘ در اصل ’’عبدالرشید‘‘ ہے جو ہمارے معاشرے کا ایک اہم کردار ہے۔ ’’اہم‘‘ اس طرح کہ بعض کام قدرت کے کارخانے میں ایسے چل رہے ہوتے ہیں جن میں ’’شیدے‘‘ جیسے کل پُرزے کی بہت اہمیت ہوتی ہے، جیسے کسی قیمتی گاڑی کے دوڑنے میں ’’فیوز‘‘ نامی شئے کی اہمیت ہوتی ہے، اسی طرح دنیاداری کے کارخانے میں ’’شیدا‘‘ بھی ایک خاص مقام رکھتا ہے، کہنے کو تو ’’شیدا‘‘ محض ایک ’’نائب قاصد‘‘ ہے اور محکمہ ترقیات کا ایک کارندہ ہے، مگر جب یہ کام نہ کرنا چاہے تو سمجھیں کہ محکمے کا ’’فیوز‘‘ اڑ سکتا ہے اور تمام کام ٹھپ ہوسکتا ہے۔

چلیں تمہید چھوڑتے ہیں اور ’’شیدے‘‘ سے ملاقات کرتے ہیں۔

سوال۔ یار ’’عبدالرشید‘‘! اپنا تعارف تو کرا دو!۔ یہ ’’عبدالرشید‘‘ سے ’’شیدا‘‘ کیسے ہوگئے؟

جواب۔ سر جی! میرے اس قبیلے (یعنی نائب قاصدوں) میں ’’عبدالرشید‘‘ اکیلا ہی ’’شیدا‘‘ نہیں بنا، یہاں تو ’’عبدالرشید‘‘ ’’میرا‘‘ بن جاتا ہے، ’’عبدالغفور ’’غفورا ہوجاتا ہے ’’اقبال‘ بالا کہلاتا ہے۔ یہاں ہر کسی کا نام اس کے مقام، منصب یا عہدے کے لحاظ سے بدل کر بولا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی ’’عبدالرشید‘‘ اعلیٰ مقام حاصل کرلے تو وہ ’’محترم رشید صاحب‘‘ ہوجاتا ہے، عبدالحمید کو ’’حمید خان صاحب‘‘ کہا جانے لگتا ہے، یہ الفاظ میں نے خود سے ایجاد نہیں کئے، اسی دنیا نے ہمیں سمجھایا ہے اور ہم لوگ اپنے نام کے یوں بدل جانے پر نا خوش نہیں۔

سوال۔ ’’یار شیدے! سنا ہے آپ کی اہمیت بھی کسی افسر سے کم نہیں‘‘، یہ کیا راز ہے؟

جواب۔ سر جی! آپ کیا جانیں یہ نوکری حاصل کرنے کے لئے میرے باپ نے کیا کیا پاپڑ بیلے تھے غربت کی وجہ سے اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکا، نہ ہی میرے پورے خاندان میں کسی کو تعلیم وغیرہ کا شوق تھا، بس محنت مزدوری سے ہی کام چلتا تھا۔

مگر جب میں نے اس محکمہ میں قدم رکھا تو دنیا کے اصل رنگ نظر آنا شروع ہوئے۔ میرا استاد فقیر حسین ’’عرف فقیریا‘‘ کہا کرتا تھا کہ ایک سمجھدار ’’نائب قاصد‘‘ نے محض ’’بڑے صاحب‘‘ (انچارج دفتر) کے لئے چائے، پانی کا ہی خیال نہیں رکھنا ہوتا بلکہ اسے دفتر سے متعلقہ تمام امور سے بھی حتیٰ الامکان آگاہی رکھنا ہوتی ہے اور بعض معاملات میں ’’بڑے صاحب‘‘ کا راز دان بننا پڑتا ہے۔

سر جی! رفتہ رفتہ میں جان گیا کہ ’’بڑے صاحب‘‘ سے ملنے آنے والوں میں اکثریت ’’ٹھیکیداران‘‘ کی ہوتی ہے جو مختلف ٹھیکہ جات حاصل کرنے کے لئے تمام دفتر کے اہلکاران کا ’’خصوصی خیال‘‘ بھی رکھتے ہیں، پھر کیا تھا میں نے بھی پر پُرزے نکالنا شروع کردیئے، پر کشش فائلوں پر نامعلوم نشان لگا لیتا، اگر کوئی نیا ٹھیکیدار مجھے لفٹ نہ کرواتا تو میں اس کی ٹھیکہ منظوری والی فائل ہی غائب کردیتا۔

وہ جب ڈھونڈتے ڈھونڈتے عاجز آجاتا تو مجھے کہتا ’’یار شیدے کچھ سوچ میری منظوری لیٹر والی فائل کہاں جاسکتی ہے۔ میں اسے ادھر ادھر کی سنا کر ’’بخششیں‘‘ کی بات کرتا، وہ جب ’’مائل بہ کرم‘‘ ہوجاتا تو میں خفیہ طریقے سے اس کی فائل کسی کلرک کی فائلوں میں دبا آتا اور اسے متوجہ کرتا کہ ’’فلاں صاحب‘‘ کی میز پر بھی تلاش کرلو، ہوسکتا ہے غلطی سے وہاں چلی گئی ہو، بہرحال اسے فائل مل جاتی، وہ میرا شکریہ ادا کرتا اور آئندہ کے لئے بھی میرا پیشگی خیال رکھنا شروع کردیتا۔ یہ تو سر جی! ہماری چھوٹی چھوٹی ’’بد معاشیاں‘‘ ہوتی تھیں، جن سے ہم نائب قاصدان محظوظ ہوتے اور مل کر اچھا کھانا منگواتے، انجوائے کرتے اور اگلے ٹھیکے کا انتظار کرتے۔ اس چھوٹی سی بات سے آپ کو میری اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔

سوال۔ یار شیدے! تعارف تو خوب رہا، اب یہ بتائیں کہ زندگی میں وہ کون سے لمحات تھے جب آپ سب سے زیادہ خوش ہوئے!

جواب۔ سر جی! بندے کی زندگی میں ایک اچھی بیوی داخل ہوجائے تو اس کے چاروں طرف خوشی رقص کرنے لگتی ہے میری معقول ’’آمدنی‘‘ دیکھ کر میرے سسرال والے مطمئن ہوگئے اور میرے گھر ایک عدد بیوی آگئی، وہی چند ابتدائی ایام میں میری زندگی کے خوش کن لمحات تھے۔

سوال۔ اچھا یہ بتائیں زندگی کے ’’غمگین لمحات‘‘ کون سے رہے؟

جواب۔ سر جی! خدا نے مجھے دو بیٹے عطا کیئے جنہیں میں دل و جان سے پیار کرتا رہا، میں نے بہت کوشش کی وہ پڑھ لکھ سکیں اور کسی ’’پرکشش‘‘ نوکری پر تعینات ہوسکیں، مگر وہ بھی ’’شیدے‘‘ کے ’’شیدے‘‘ ہی نکلے۔ میں دفتری مصروفیات کے باعث انہیں معقول وقت نہ دے سکا محلے کے آوارہ لڑکوں کے معمولات میں وہ رنگتے گئے۔

نتیجتاً ایک چھٹی جماعت سے بھاگ گیا اور دوسرا جوان ہوتے ہی ایک عورت کے عشق میں مجنوں ہوگیا۔ میں نے لاکھ کوشش کی وہ اپنی زندگی بدل سکیں مگر ناکام رہا، اب ان کی آئندہ زندگی کے متعلق سوچتا ہوں تو غم زدہ ہوجاتا ہوں۔

سوال۔ اچھا، یہ بتائیں، زندگی میں کبھی ’’احساسِ ندامت‘‘ تو نہیں ہوا؟

جواب۔ سر جی! آپکے سوال نے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے، ویسے تو ہم جیسے لوگوں کی زندگی، موت تک ندامت ہی ندامت ہوتی ہے، چھوٹی سے چھوٹی خوشی کے لئے بھی اکثر خوشامد کا سہارا لینا پڑتا ہے، مگر ایک واقعہ ایسا ہے جو یاد آتا ہے تو نادم ہوجاتا ہوں۔ ہوا یوں کہ ہمارے دفتر میں آڈٹ ٹیمیں تو اکثر آیا ہی کرتی تھیں جن کی آؤ بھگت کی ہمیں بہت زیادہ تاکید کی جاتی تھی بلکہ ’’بڑے صاحب‘‘ بھی اکثر خصوصی طور پر انہیں پروٹوکول دیتے تھے ایک مرتبہ ایک آڈٹ ٹیم کا افسر (جو کوئی نہایت ایماندار ٹائپ کا باریش جوان تھا) جب آیا تو پورا دفتر ہی بوکھلا سا گیا۔ دفتر میں ایک طرح کی ہنگامی کیفیت سی پیدا ہوگئی۔

آڈٹ آفیسر دفتر میں کھانے پینے سے اکثر پرہیز کرتا، البتہ کبھی کبھار فقط چائے وغیرہ کا کپ پی لیتا تھا۔ انہی پریشان دنوں میں ایک دن بڑے صاحب نے مجھے بلایا اور سمجھایا کہ یہ آڈٹ آفیسر بہت خطرناک ہے اور پورے دفتر کے لئے پریشانی کا باعث بن چکا ہے۔

ابھی آڈٹ کے مزید دو روز باقی ہیں یار شیدے! کسی طرح اسے قابو کرو، میں نے بڑے صاحب کو ایک نسخہ بتایا جو اکثر میں اپنی مرحومہ ساس کے لئے استعمال کرتا تھا (جب کبھی مرحومہ لمبے عرصہ کے لئے میرے گھر وارد ہوتی تھیں) نتیجتاً اگلے روز آڈٹ آفیسر کو بڑے اہتمام کے ساتھ چائے پیش کی گئی۔

جسے پینے کے بعد وہ اگلے دو روز دفتر ہی نہ آسکا اور آڈٹ کا پیریڈ گزر گیا۔ معلوم ہوا کہ وہ بیچارا دو دن بیمار ہی رہا۔ یہ نسخہ استعمال کرنے پر بڑے صاحب مجھ پر مزید مہربان ہوگئے، لیکن مجھے آج بھی اس بات پر ندامت سی محسوس ہوتی ہے کہ میں نے ایک شریف انسان کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ (شیدے کا منہ لٹک سا گیا)

سوال۔ شیدے، خیر اب جذباتی ہونے کی کیا بات ہے؟ بات پرانی ہوچکی ہے یہ بتائیں ’’حسن کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب۔ سر جی! کسی لذیذ، مزیدار کھانے سے پیٹ بھرا ہوا ہو تو دنیا کی ہر چیز حسین لگتی ہے اور اگر خالی ہو تو ہر چیز بد صورت نظر آتی ہے حتیٰ کہ بیوی بچے بھی۔

سوال۔ کیا آپ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں؟

جواب۔ سر جی! ہم لوگ پیدا ہی نوکری چاکری کے لئے ہوتے ہیں، ہمیں کھانے، پینے، اوڑھنے، بچھونے اور مرجانے پر فاتحہ پڑھنے والے مل جائیں تو زندگی سے مطمئن رہتے ہیں۔

سوال۔ سیاست سے دلچسپی رکھتے ہیں؟ کون سی سیاسی پارٹی پسند ہے؟

جواب۔ جو سیاسی پارٹی خوب کھلائے، پلائے وہی ہماری پسندیدہ پارٹی ہوتی ہے اس میں ہماری کوئی خاص چوائس نہیں ہوتی۔ البتہ الیکشن کے دنوں میں ہر سیاسی پارٹی کی طرف سے خوب کھابے چل رہے ہوتے ہیں لہٰذا ان دنوں ہر سیاسی پارٹی ہماری پسندیدہ پارٹی ہوتی ہے۔

سوال۔ آج کل ہر طرف کرپشن کرپشن کی آوازیں آرہی ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

سر جی! یہ سب بڑے لوگوں کے چھوڑے ہوئے شوشے ہیں، یہ سڑکیں، یہ پل وغیرہ ہمارے لئے ہی بنائے جارہے ہیں، ہمیں تو ان میں صرف سیمنٹ، سریا وغیرہ ہی استعمال ہوتا نظر آتا ہے۔ کرپشن نام کا کوئی میٹریل ہمیں تو نظر نہیں آتا۔

میرے خیال میں یہ بھارت کی طرف سے چھوڑی گئی کوئی شرارت ہے تاکہ ہم لوگ نا اتفاقی کا شکار ہوجائیں، اور ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوجائیں۔ ہمیں تو یہ سارا ’’ہنگامہ‘‘ مخالف پارٹیوں کا اچھالا ہوا لگتا ہے!

(اب ’’شیدا‘‘ بھی اکتا سا گیا تھا، شاید اس کے کھانے کا ٹائم ’’اوور‘‘ ہورہا تھا، لہٰذا ہم نے ’’شیدے‘‘ کا شکریہ ادا کیا اور اجازت چاہی)

مزید : رائے /کالم