رہبری نہیں یہ رہزنی ہے

رہبری نہیں یہ رہزنی ہے
 رہبری نہیں یہ رہزنی ہے

  

سیاست دانوں نے ملک و قوم کی رہنمائی و رہبری کا فریضہ انجام دینا ہوتا ہے۔ معاشرے میں منفی سوچ کو شکست اور تعمیری صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا ہوتا ہے ۔ قوم کو گروہ بندیوں اور ٹکڑیوں میں تقسیم کرکے کمزور کرنے کی بجائے اتحاد و اتفاق کی طاقت سے سیسہ پلائی دیوار کی طرح مضبوط بنانا ہوتا ہے۔

پاکستان کے عظیم اولین سیاست دان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ تعمیری سوچ و مثبت سیاست کے داعی و پیرو کار تھے، جسے بروے کار لا کر انہوں نے بر صغیر میں مایوس و غلام مسلمانوں کو آزادی کے لئے بیدار و تابندہ جذبوں سے روشناس کرایا۔

فرقہ بندیوں سے نکال کر سب کو ایک قوم بنایا۔ صاف ستھری سیاسی بصیرت سے انگریز اور چالاک ہندو کی چالبازیوں کو مات دی ۔ پاکستان معرض وجود میں آیا اور بر صغیر کا مسلمان آزادی کی نعمت سے آشنا ہوا۔

قائد اعظمؒ کے بعد پاکستان میں سیاست زوال پذیر اور سچے جذبوں سے بالعموم عاری و خالی ہونے لگی،گزشتہ چار برسوں سے پاکستانی سیاست میں رہبری پر رہزنی کا رنگ غالب آنے لگا ہے۔

ہر سیاست دان اور اجتماعی طور پر بیشتر سیاست دان خود کو ملکی سلامتی و عوامی بھلائی کے د عویدار قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے طرز سیاست سے بھلائی کی مہک بہت کم، جبکہ نفرتوں اور گالی گلوچ کا تعفن زیادہ پھیل رہا ہے ۔

سیاست کی وجہ سے جب ملک میں کاروباری ماحول خراب ہوگا۔ روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔ غریب و بے روزگار کے بچوں کو دودھ، دوائی اور تعلیم کے مواقع محدود و مسدود ہوں گے تو لا محالہ ایسی سیاست کو رہبری نہیں، بلکہ رہزنی کا نام دیا جائے گا۔2013 ء کے الیکشن سے پہلے ملک میں انہی سیاست دانوں کی حکومت تھی ۔ بجلی ناپید اور کارخانے بند رہتے تھے ۔

سرمایہ کاری کا فقدان اور بے روزگاری عروج پر تھی۔ فیکٹریاں اور کارخانے بیرون ملک منتقل ہورہے تھے ۔ میاں محمد نواز شریف اقتدار میں آئے۔ بجلی کے منصوبے لگے اور خارجہ سرمایہ کاری نے پاکستان کا رخ کیا ۔

مختصر عرصے میں کارخانے اور فیکٹریاں چلنے لگیں۔ گوادربندرگاہ تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھی اور سی پیک پر کام شروع ہوا ۔یہاں سے نریندر مودی سرکار کی خواہشات کا زہر پھیلنا شروع ہوا۔

ملکی سیاست دانوں نے الیکشن میں دھاندلی کے نام پر افراتفری اور اکھا ڑ پچھاڑ کا ماحول پیدا کیا۔ اسلام آباد میں طویل دورانیہ کا کنٹینر دھرنا دیا گیا، لیکن کچھ نہ بنا تو دارالحکومت کو یرغمال بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوا۔حکومتی رٹ کے سامنے دال نہ گلی تو سیاست دانوں نے عدالتوں کا رخ کیا۔ وہاں جو کچھ ہوا دنیا نے دیکھا۔ ایک تماشا لگا اور بھاری اکثریت سے کامیاب وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا گیا۔

اس کے بعد کاروباری ماحول میں مایوسی داخل ہونے لگی۔ سرمایہ کار ہاتھ کھینچنے لگے ۔ سٹاک ایکسچینج بیٹھ گئی اور سرمایہ کاروں کے اربوں روپے مٹی ہوئے۔

نریندر مودی اسرائیل اور امریکہ کی خواہشات کو پذیرائی ملنے لگی۔ بڑے ترقیاتی منصوبوں کو تعطل کا شکار کرنے اور خوشحالی کی طرف بڑھتے معاشرے کو جامد کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ لاہور میں بین الاقوامی معیار کے ٹرانسپورٹ منصوبے اورنج لائن ٹرین کو عدالتی فیصلے کی زنجیر سے باندھ دیا گیا، جو مہینوں بند رہی ۔ منصوبہ تاخیر کا شکار اور ہزاروں مستری مزدور اور کاریگر بے کار رہے۔

اچھا ہوا عدالت نے منصوبے پر کام جاری رکھنے کا حکم صادر فرما کر مشکل آسان بنا دی ۔ سیاست دانوں کی پیدا کردہ مشکلات کو عبور کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ترقیاتی و خوشحالی کے منصوبوں کو تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھا رہے ہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے اقتدار لینے کے لئے جلد باز سیاست دان ایک غیر سیاسی اور غیر ملکی پاسپورٹ کی حامل شخصیت کی قیادت میں صف آرا ہو کر لاہور کو تماشا گاہ بنانے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے منسوب شارع قائد اعظم کو جنگ و جدل کا اکھاڑہ بنانے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ شاہراہ وی آئی پی کی گزرگاہ ہی نہیں، بلکہ ملک کا بڑا کاروباری مرکز بھی ہے ۔ عدلیہ اور حکومت نے اسے جلسے جلوسوں کے لئے ممنوع قرار دے رکھا ہے ۔

مال روڈ اور لاہور کی دیگر مارکیٹوں کی انجمنوں کے عہدیداروں نے پریس کانفرنسوں کے ذریعے سیاست دانوں اور حکومت کو متوجہ کیا ہے کہ مال روڈ کو جلسے جلسوں اور کنٹینروں کا اڈہ بنا کر کاروباری ماحول خراب نہ کریں، اگر سیاست دان کاروباری طبقے کی آواز پر کان نہیں دھرتے اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں تو یہ رہبری نہیں، بلکہ رہزنی ہوگی۔ کاروباری ماحول اسی طرح دگرگوں کیا جاتا رہا تو کاروباری طبقہ یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ مال روڈ اور دیگر کاروباری مراکز پر دھمال چوکڑی مچانے والے سیاست دانوں کو آئندہ الیکشن میں پذیرائی سے محروم رکھا جائے گا ۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ لاہور کو بدامنی کا اکھاڑہ بنانے والے سیاست دان دیگر صوبوں میں بر سر اقتدار ہیں۔ متعلقہ صوبوں میں ترقیاتی کام کروا کر عوام کی مشکلات کم کرنے کی بجائے پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

عوام اور کاروباری طبقہ سیاست دانوں کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر انگشت بدنداں ہے کہ ایک طرف کام ہو رہا ہے، کاروباری ماحول بہتر سے بہتر بنایا جارہا ہے، بڑے ترقیاتی منصوبے تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں، دوسری طرف چند سیاست دان منصوبوں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانے کے لئے بے ڈھنگی سیاست کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔

کاروباری طبقہ اور محب وطن عوام اس بات پر متفق ہیں کہ اپنے ذاتی مقاصد کے لئے جو سیاست دان معاشی سرگرمیوں میں تعطل پیدا کرکے غریب کی غریبی بڑھائے گا، کاروبا ر بند کرائے گا، بے روزگاری بڑھائے گا، ایسی سیاست رہبری نہیں رہزنی ہوگی ۔

مزید :

رائے -کالم -