شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں .. قسط 3

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں .. ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں .. قسط 3

  


جب اس شیر کی ہر دلعزیزی اس نقطہ عروج کو پہنچی تو پالی پور کے دیہاتیوں نے اس کا نام بھی تجویز کردیا اور اس کو رحمتو کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ صبح کو چرواہے اپنے اپنے ریوڑ لے کر نہار موڑ سے گزرتے تو ایک نظر پہاڑ کی اس چٹان پر بھی ڈالتے، جس پر رحمتو جلوہ فرماہوتا۔ اس کی شوخ اور خوش رنگ زرد جلد پر گہری سیاہ لکیریں دور سے چمکتیں۔ وہ اگلے دونوں پیر سامنے پھیلائے، گردن کو ایک شاہانہ وقار سے بلند کئے سامنے پھیلی ہوئی جنگل کی اس شاداب وادی کو دیکھتا رہتا، جہاں ہر قسم کے چرندوں کی فراوانی تھی اور جدھر سے نکلتی ہوئی ندی پالی پور سے گزر کر خدا جانے کہاں گم ہوجاتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے وہ اس وادی کا شہنشاہ ہے اور اپنی اس سرسبز و شاداب مملکت کا جائزہ لے رہا ہے اور واقعی وہ اس کی مملکت ہی تھی کیونکہ ساری وادی میں کوئی دوسرا شیر نہیں تھا۔ البتہ چیتوں اور تیندوﺅں کی کثریت تھی، لیکن اُن کی کیا مجال جو رحمتو کی طرف نظر بھی اُٹھاسکتے۔ وہ سب تو رحمتو کی رعایا تھے۔

بہادر کے موسم میں وہ پندرہ بیس روز کے لئے غائب بھی ہوجاتا اور چھیدی فی الفور اعلان صادر کرتا کہ رحمتو حج کرنے گئے ہیں۔ا گرچہ میری دانست واقعہ یہ ہوتا ہوگا کہ رحمتو ان ایام میں اپنا جبہ پارسائی اور لباس زہدوتقویٰ تارتار کرکے کسی رحمتن کے در کی جبہ سائی کرتے رہتے ہوں گے۔ اور جب آتش شوق بھڑک کر سردہوجاتی ہوگی تو نہار موڑ کی وہ چٹان ا ور غار پھر آباد ہوجاتے ہوں گے اور چھیدی مشہور کردیتا ہوگا کہ رحمتو حج کرکے واپس آگئے ہیں۔

بہرحال دیہات کے ان سادہ لوح لوگوں کو رحمتو سے عقیدت ہوگئی تھی۔ ہندو اس کو یوگی سمجھتے اور مسلمان مجذوب جانتے۔ اس کے غائب رہنے کے زمانے میں مسلمان سمجھتے کہ وہ اجودھیا یاترا کے لئے گیا ہے۔

ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ پالی پور کا ایک شخص بیلوں کے پیروں تلے آکر بری طرح روندا گیا۔ لوگ اسے بیل گاڑی پر ڈال کر ہنڈی کے وید کے پاس لے جارہے تھے۔ راستے میں ایک جگہ گاڑی بان کی نظر جھاڑیوں پر پڑی تو دو تیندوے نظر آئے جو زخمی آدمی کے خون کی بو پاکرگاڑی کا تعاقب کررہے تھے۔ اگرچہ فی الواقعہ شیر اور چیتے کی قوت شامہ بہت کمزور ہوتی ہے۔ گاڑی پر زخمی آدمی کے علاوہ دو آدمی اور تھے۔ ایک بیلوں کو ہانک رہا تھا اور دوسرا زخمی کو سہارا دئیے ہوئے تھا۔ ان دونوں نے تیندوے کو دیکھا اور جب اس تعاقب کا سلسلہ ڈیڑھ دو میل تک جاری رہا تو دونوں پریشان ہوگئے۔ انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ تیندوے زخمی آدمی کے خون پر تعاقب کررہے ہیں۔ یہ بات اس لئے پریشان کن تھی کہ اگر بیلوں نے تیندوﺅں کی بو سونگھی تو قابو سے باہر ہوکر بھاگ کھڑے ہوں گے اور نہ صرف زخمی آدمی بلکہ ان دونوں کی جان بھی خطرے میں پڑجائے گی۔

یہ دونوں پریشانی کے عالم میں بیلوں کو تیزی سے ہانکتے چلے جارہے تھے کہ اچانک ایک طرف سے رحمتو نمودار ہوا اور تیندوﺅں کے راستے میں حائل ہوگیا۔ ذرا دیر غرغرہوتی رہی۔ اس کے بعد رحمتونے اُن پر حملہ کردیا۔

اتنے عرصے میں دیہاتی گاڑی ہانک کر آگے نکل گئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد انہیں رحمتو کے فلک شگاف نعرہ فتح کی آواز سنائی دی اور جب دوسرے روز دونوں اس زخمی کو ہندی سے واپس لارہے تھے تو ان کو اسی مقام پر ایک تیندوے کی لاش ملی، جسے گزشتہ رات گیدڑوں اور پھر دن میں گدھوں نے صاف کردیا تھا۔ غالباً رحمتو ہی نے اس تیندوے کو ہلاک کیا ہوگا۔

اس واقعے کے بعد سے تو رحمتو کے نام کی پرستش ہونے لگی۔ جو لوگ اب تک بداعتقاد تھے، وہ بھی گویا رحمتو پر ایمان لے آئے۔ اب نہار موڑ سے گزرنے والا ہر راہی اور چراہا غار کی طرف منہ کرکے ایک دفعہ رحمتو کو سلام ضرور کرتا۔ خواہ رحمتو وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔(جاری ہے)

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں .. قسط 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شیروں کا شکاری


loading...