’’غیر سنجیدہ سیاست‘‘ زیادہ دیر نہیں چل سکے گی

’’غیر سنجیدہ سیاست‘‘ زیادہ دیر نہیں چل سکے گی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے واک آؤٹ این آر او کے حصول کے لئے دباؤ ڈالنے کا حربہ ہے۔ یہ حربے نیب کے کرپشن کیسز سے بچنے کے لئے اختیار کئے جا رہے ہیں، پارلیمینٹ پر ٹیکس گزاروں کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، قومی اسمبلی سے اپوزیشن کے ایک اور واک آؤٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف یہی ایک کام کرنا چاہتے ہیں، نیب کیسز پی ٹی آئی حکومت نے شروع نہیں کئے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے نزدیک جو شخص ووٹ لے کرمنتخب ہو جائے اُسے قومی خزانے پر ڈاکہ زنی کا لائسنس مل جاتا ہے،انہوں نے سوال کیا، جمہوریت لوٹ مار کی کھلی چھوٹ کا نام ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اِس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو نیب نے گرفتار کیوں نہیں کیا،اُن کا یہ بھی خیال ہے کہ وہ جب چاہیں سندھ کی حکومت ختم کر سکتے ہیں،جس کے جواب میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے اُنہیں چیلنج کیا کہ وہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا استعفا مانگنے کی بجائے حکومت ختم کرنے کا شوق پورا کر لیں۔

وزیراعظم نے بار بار کہا ہے کہ ہم کسی کو این آر او نہیں دیں گے، جبکہ اپوزیشن لیڈر بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی قسم کے این آر او کے طلب گار ہی نہیں، آصف علی زرداری نے تو کہا ہے کہ وزیراعظم کو این آر او کا مفہوم بھی نہیں معلوم۔ بہت سے اپوزیشن لیڈر یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ جو بھی این آر او طلب کر رہا ہے اُس کا نام بتایا جائے،اِس ساری بیان بازی کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ کل کو کوئی اور حکومتی وزیر پھر یہ بیان داغ دے گا کہ اپوزیشن کے واک آؤٹ وغیرہ این آر او لینے کے حربے ہیں اور جواب پھر بھی یہی آئے گا کہ این آر او طلب کون کر رہا ہے،لیکن اِس ساری بحثا بحثی میں تمام ضروری امور پسِ پشت چلے گئے ہیں اور نان ایشوز کو مسئلہ بنا کر کھڑا کر دیا گیا ہے،حالانکہ ضرورت تھی کہ حکومت اپنے منشور کے مطابق تیزی سے آگے بڑھتی اور عوام کے مسائل کا حل نکالتی،اور نیب کو اپنا کام کرنے دیتی اس کی باتوں کو آگے بڑھانے کے لئے ایمپلی فائر یا مکبّر کا کردار ادا نہ کرتی، اور نہ نیب عدالتوں کے فیصلوں پر اپنی پسند کے حاشیئے چڑھاتی، عوام کے حقیقی حل طلب مسائل کے ضمن میں زبانی جمع خرچ تو بہت ہو چکا، اعلانات بھی کئے جاتے ہیں، مگر عملی اقدام کہیں نظر نہیں آتے، غالباً ایسے امور کے پیشِ نظر ہی چیف جسٹس کے یہ ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں کہ لگتا ہے حکومت ڈیم بنانے میں سنجیدہ نہیں۔چیف جسٹس نے عدالت میں موجود جوائنٹ سیکرٹری پلاننگ ارشد علی سے کہا ’’ مُلک کے لئے آپ کی محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔ بیورو کریسی کے پاس مُلک کے لئے کام کرنے کا جذبہ اور ارادہ نہیں، ہمیں یہ بات بار بار دہرانا اچھا نہیں لگتا، ہم نہ حکومت کو چلانا چاہتے ہیں نہ ہی اسے ہدایات دینا چاہتے ہیں‘‘۔

ایک جانب تو حکومت کی کارکردگی پر عدالتوں کے ایسے ریمارکس سامنے آ رہے ہیں اور دوسری جانب تازہ تازہ متحد ہونے والی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ منی بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گی،اِن جماعتوں نے وقت سے پہلے متحد ہو کر حکومت کے خلاف حکمت عملی بھی ترتیب دینے کا اعلان کیا ہے،جس کا سارا ’’کریڈٹ‘‘ حکومت کے اُن وزراء کو جاتا ہے، جو ایک تسلسل کے ساتھ اپوزیشن رہنماؤں کو انفرادی طور پر اور حزبِ مخالف کو اجتماعی طور پر نکتہ چینی، بلکہ تذلیل و تحقیر کا نشانہ بنا رہے ہیں، وزراء کی یہ حرکتیں جواں سال رُکنِ قومی اسمبلی چودھری مونس الٰہی کو بھی پسند نہیں آئیں، جن کی جماعت نہ صرف حکومت کی اتحادی ہے،بلکہ اسے کامیاب بھی دیکھنا چاہتی ہے،لیکن انہوں نے بھی زچ ہو کر کہہ دیا ہے کہ عمران اپنے ’’بچے‘‘ سنبھالیں ورنہ اتحاد ٹوٹ سکتا ہے۔

اگر اس بیان کو مسلم لیگ(ق) کی طرف سے وارننگ تصور کیا جائے تو غلط نہ ہو گا، کیونکہ مونس الٰہی صرف ایک رُکنِ اسمبلی نہیں ہیں، پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے صاحبزادے ہیں اور پنجاب میں تو تحریک انصاف کی حکومت کھڑی ہی مسلم لیگ(ق) کی حمایت پر ہے۔ اگر وہ حکومت سے تعاون ختم کر دے تو پنجاب حکومت کے خاتمے میں کوئی دیر نہیں لگے گی، نہ تحریک انصاف میں کوئی فارورڈ بلاک بنانا پڑے گا اور نہ ہی اپوزیشن کو تحریک انصاف کے کسی ایم پی اے کو توڑنے کی ضرورت پیش آئے گی،بس پنجاب حکومت اتحادی جماعت کا یہ جھٹکا برداشت نہیں کر پائے گی اور عثمان بزدار اسے بچانے کے لئے کچھ نہیں کر پائیں گے۔وفاقی حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت بی این پی(مینگل) پہلے ہی حکومتی بنچ چھوڑ کر قومی اسمبلی میں آزاد بنچوں پر بیٹھ چکی ہے اور گزشتہ روز جس اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کی تشکیل ہوئی اس میں بی این پی(مینگل) کی بھی نمائندگی تھی، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اگلے مرحلے میں اپوزیشن کا باقاعدہ حصہ بھی بن سکتی ہے۔

ان حالات میں نہ جانے وہ کون لوگ ہیں، جو حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ سارے اہم کام چھوڑ چھاڑ کر پہلے سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت سے دو د ہاتھ کر لئے جائیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات تو اس پر نہ صرف تُلے بیٹھے ہیں ،بلکہ انہیں یقین بھی ہے کہ وہ ایک سوئی چبھوئیں گے اور پیپلزپارٹی کی حکومت کے ’’گیس کے غبارے‘‘ سے ہوا نکل جائے گی،لیکن اُنہیں شاید معلوم نہیں کہ سندھ حکومت ایک سنگل پارٹی حکومت ہے،جس کے ارکان اسمبلی کی تعداد99ہے اور اس ’’غبارے‘‘ سے ہوا نکالنا آسان نہیں اس کے برعکس وفاقی حکومت نے اپنی حکومت کے آسمان پر اپنے ساتھ بہت سے چھوٹے چھوٹے غبارے اُڑا رکھے ہیں، جن میں سے ایک دو غباروں کی ہوا بھی نکل گئی یا کسی نے نکال دی تو یہ حکومت سنبھالے نہیں سنبھلے گی، حکومت کی تو یہ خوش قسمتی ہے کہ تمام تر دباؤ کے باوجود اپوزیشن ابھی حکومت گرانے کے موڈ میں نہیں اور اپنے احتجاج کو صرف واک آؤٹ تک محدود رکھے ہوئے ہے اور وزیراعظم کو یہ بھی این آر او کے حصول کا ذریعہ نظر آتے ہیں۔ہماری ان سے گزارش ہے براہِ کرم وہ کسی کو این آر او نہ دیں،لیکن پارلیمینٹ کو تو اہمیت دیں، جہاں انہوں نے ہر ہفتے جانے کا وعدہ کیا تھا،لیکن اب اپوزیشن انہیں ڈھونڈ رہی ہے۔

انہوں نے یہ سو فیصد درست کہا کہ پارلیمینٹ پر عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ خرچ ہوتا ہے،لیکن کسی خوشگوار لمحے میںیہ تو بتا دیں کہ ان سمیت اُن کی جماعت کے ارکان نے2014ء میں مہینوں تک استعفے دیئے رکھے اور بعد میں آ کر پوری تنخواہیں وصول کیں تو کیا یہ سرکاری خزانے سے ادا نہیں کی گئی تھیں اور کیا یہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ نہیں تھا؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عمران خان جو کچھ کر رہے تھے آج کی اپوزیشن بھی وہی کچھ کرے وہ بھی استعفے دے، اسمبلی سے باہر کنٹینر پر بیٹھے،لیکن اپوزیشن کو اشتعال دلانے والے وزیر روزانہ کِسی نہ کِسی چینل پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ آئیں،اسلام آباد میں احتجاج کریں، ہم ایک نہیں دو کنٹینر دیں گے، ایک مسلم لیگ(ن) کو، دوسرا پیپلزپارٹی کو، اب وزیراعظم خود ہی فیصلہ کریں کہ اگر کسی وقت اپوزیشن اُن کے دکھائے ہوئے اِس راستے پر بھی چل نکلی تو کیا ہو گا،کیا اپوزیشن کو اس سے روکا جا سکے گا؟ اپوزیشن جماعتیں اسی آب و گِل کی پیداوار ہیں اگر کل استعفے دینے کے بعد واپس آ کر تنخواہیں لینا جائز تھا تو آج واک آؤٹ ’’این آر او‘‘ کا بہانہ کیسے بن گئے؟ آپ نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دیئے اگر آج کی اپوزیشن بھی قومی اسمبلی سے مستعفی ہو کر آپ کے دیئے ہوئے کنٹینر پر بیٹھ جائے اور پنجاب کی ساری اپوزیشن استعفے دے دے تو کیا آپ کے خیال میں یہ نظام چلتا رہے گا اور آپ کا یہ فرمانا کوئی وزن رکھے گا کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے وہ ہم نہیں دیں گے۔ آپ بیشک این آر او نہ دیں،لیکن مانگنے والوں کے نام تو بتائیں اور بقول مونس الٰہی آپ اپنے ’’بچوں‘‘ کو تو سنبھالیں، اگر ایسا نہ ہوا تو عین ممکن ہے آپ اپنی چونچ تلاش کرتے رہیں اور کوئی دوسرا اپنی دُم ڈھونڈتا ر ہے، کیونکہ جس انداز میں آپ اسمبلیوں کو چلانا چاہتے ہیں اس طرح نہ کبھی چلی ہیں نہ آئندہ چلیں گی۔

مزید : رائے /اداریہ