پانچ سالہ مغوی برآمد، سیف سٹی پروگرام کا کمال!

پانچ سالہ مغوی برآمد، سیف سٹی پروگرام کا کمال!

علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں واقع گلشن اقبال پارک سے اغوا ہونے والے پانچ سالہ بچے کو صرف اڑتالیس گھنٹوں کے اندر برآمد کر کے اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا اور ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ لاولد ہے اور اس کے مطابق بچہ پارک میں رو رہا اور اکیلا تھا، وہ اسے اپنے لئے لے آئی۔ گلشن اقبال پولیس کے تفتیشی اہلکاروں کے مطابق بچے کی برآمدگی اور ملزمہ کی گرفتاری سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے عمل میں آئی، ملزمہ گلشن اقبال سے بچے کو لے جاتی نظر آئی تو کیمروں کی مدد سے نظام بلاک تک اس کی فوٹیج دیکھی گئی اور اس کے گھر سے بچہ برآمد کر کے اُسے گرفتار کیا گیا۔سیف سٹی اتھارٹی سابقہ دور میں قائم کی گئی تھی، جس کے تحت آٹھ ہزار کیمرے نصب کئے گئے تھے۔ اس کے توسیعی پروگرام میں پورے ضلع کی کوریج کا منصوبہ تھا جو44ہزار کیمروں پر مشتمل تھا، تاہم حکومت کی تبدیلی کے ساتھ بہت سے دوسرے منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی محدود رہ گیا، اب تک ان آٹھ ہزار کیمروں ہی کی مدد سے کئی جرائم بے نقاب ہوئے ہیں اور جہاں جہاں مستعد تفتیشی افسر ہیں وہاں سیف سٹی اتھارٹی کے تعاون سے گرفتاریاں ہوئیں، تاہم حیرت اِس امر پر ہے کہ اگر گلشن اقبال پولیس کیمروں کی مدد سے تعاقب کر کے بچہ برآمد کر سکتی ہے تو اِسی شہر میں راہزنی اور ڈاکوں کی وارداتوں کا سراغ کیوں نہیں لگایا جاتا، حالانکہ یہ فوٹیج بھی مل جاتی ہے، اکثر تاجر حضرات اور گھروں والے بھی اب سی سی فوٹیج سے مستفید ہو رہے ہیں اور واردات کے بعد یہ فوٹیج مل جاتی ہے،جس کے بعد موازنہ سیف سٹی والے کیمروں سے کر کے بھی ملزموں تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم زیادہ تر وارداتوں میں ایسا نہیں ہوتا، حکام کو اِس کا نوٹس لینا ہو گا اور ایسا طریق وضع کرنا ہو گا کہ اس اتھارٹی کو زیادہ سے زیادہ مفید بنایا جائے، حکومت کو اس کے توسیعی پروگرام کی تکمیل کرنا ہو گی تاکہ پورے ضلع میں الیکٹرونک آنکھ بچھ جائے۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ بعض کیمرے چوری ہوئے اور بعض جگہ خراب بھی ہو گئے ہیں،جن کی جگہ نئے کیمرے نہیں لگے، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وارداتیوں نے واردات سے پہلے کیمروں پر گہری سیاہی پھینک دی اِس کا بھی کوئی توڑ ہونا چاہئے۔ حکمرانوں اور اتھارٹی کے کرتا دھرتا حضرات کو کیمروں کی دیکھ بھال اور مرمت کا بھی پورا دھیان رکھنا ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ