این آر او اور معاشی استحکام؟

این آر او اور معاشی استحکام؟
این آر او اور معاشی استحکام؟

  


بات سے بات نکلتی ہے اور یہاں تو اتنا کچھ ہو رہا ہے کہ کسی ایک سے دوسری تک جانے ہی کی ضرورت نہیں،اب یہی دیکھیں کہ ہر روز بار بار این آر او کا ذکر ہوتا ہے اور جس انداز سے ہوتا ہے،اس سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ این آر او بھی کوئی مجسم تحفہ ہے جو مانگ لیا اور دیا جا سکتا ہے، حالانکہ یہ ایک ایسا قانون تھا،جو دفن بھی ہو گیا،لیکن بات اس مردے کو پھر سے زندگی دینے کی ہو رہی ہے۔

یہ سب کو یاد ہے کہ این آر او ایک آرڈیننس تھا جو جنرل(ر) پرویز مشرف نے جاری کیا جسے نیشنل ری کنسی لیشن آرڈیننس کہا گیا۔ یہ آرڈیننس سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) اور جنرل(ر) پرویز مشرف کے درمیان بالواسطہ اور بلاواسطہ بات چیت کے بعد طے پایا اور جاری ہوا، اس کا مقصد یہ تھا کہ جو ہو ا سو ہوا اُسے جانے دیں اور نئے سرے سے قومی مصالحت کے تحت کاروبارِ مملکت چلائیں تاکہ ملک میں معاشی، اقتصادی اور سیاسی استحکام ہو،محاذ آرائی ختم اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

اب اس آرڈیننس کے تحت جب مقدمات ختم کئے گئے تو قریب قریب سبھی جماعتوں کو فائدہ پہنچا،لیکن سب سے زیادہ جو اس امتحان میں پاس ہو کر جیلوں سے باہر آئے ان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور شاید جنرل(ر) پرویز مشرف نے اس مصالحت پر رضا مندی بھی اِسی لئے دی تھی کہ ان دِنوں ان کا رجحان واضح طور پر متحدہ ہی کی طرف تھا۔ اب کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی، آصف علی زرداری اور مسلم لیگ(ن) والے بھی مستفید ہوئے،لیکن آصف علی زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے بڑے رہنما کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا، اب بھی انصافیئے بلکہ خود وزیراعظم، وزیر اطلاعات اور دوسرے وزراء یہی الزام لگا رہے ہیں کہ حزبِ اختلاف والے این آر او مانگتے ہیں، اب یہ حضرات ایسا الزام لگاتے اور جواب میں مسلسل انکار کیا جاتا ہے تو بڑی دلچسپ صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے،کیونکہ قومی مصالتی آرڈیننس تو ختم ہو چکا اب اگر کسی مصالحت کی طرف جانا ہے تو اس کے لئے نئی بات چیت، نئے مذاکرات اور رابطوں کی ضرورت ہے، جو موجودہ کشیدہ تر ماحول میں ممکن نہیں، اور یوں بھی اب پارلیمینٹ موجود ہے تو اس سے باہر مصالحت ہونے کے باوجود معاملہ بحث کے لئے پارلیمینٹ ہی میں جائے گا اور یوں اب تو عوام کو بھی سب معلوم ہو گا کہ پہلے آرڈیننس کو بھول بھال چکے، ان کو صرف یہ یاد ہے کہ اس این آر او کے نفاذ کے بعد قاتل بھی چھوٹ گئے تھے اب تو حکمران کسی بھی صورت اپوزیشن کو معاف کرنے یا مصالحت سے انکار کرتے ہیں، تو یہ این آر او کیسے تحریر ہو کر نافذ ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم اور صدر کا تعلق بھی تحریک انصاف ہی سے ہے، اس کے علاوہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں ہی اس سے انکار کر رہی ہیں تو اس کو ختم ہی سمجھنا چاہئے، بات کچھ اور کریں کہ ملک کو معاشی اور اقتصادی استحکام کی ضرورت ہے جو ممکن نہیں ہو رہا اور یوں بھی روائتی طور پر جب ہر بوجھ عام آدمی پر ہی آنا ہے تو یہ کہنا عجیب لگتا ہے کہ اب تک اقدامات اور آنے والے منی بجٹ سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا، بالکل ٹھیک عام آدمی ہی کے تو پیٹ نہیں لگا ہوا، اسے تو بھوک نہیں لگتی اور نہ ہی ان کے بچے تعلیم حاصل کرنا اور زندگی کی کسی دوسری نعمت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔

بہرحال یہ بات تو رہی اپنی جگہ، یہاں تو ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کی کراچی لیڈر شپ اور اپنے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جو شاید وزیراعظم کی آشیر باد سے پیپلز پارٹی کو ٹھونکنے کی ڈیوٹی پر مامور ،آج کل کراچی میں ہیں اور کھلم کھلا دھمکیاں دے کر اس جماعت کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا اور اپنے نافذ کردہ فیصلوں پر جھکانا چاہتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہ لوگ کوئی کانچ کے بنے ہوئے نہیں ہیں اور ایسے سیاسی کھیل کھیلتے چلے آ رہے ہیں،اب وہ اتنی تیز گفتگو کرتے ہیں کہ ہمیں بھی خوف آنے لگتا ہے اور سوچنا پڑتا ہے کہ کیا ماضی میں کوئی طویل اقتدار کے باوجود اقتدار سے محروم نہیں ہوا، اور اگر خود پر ناز کرنے والے بھی آج ہدف اور پریشان ہیں تو کل کسی پر بھی وقت آ سکتا ہے۔

تحریک انصاف کی جارحانہ سیاست اور حکمت عملی اپنی جگہ درست ہو گی اور وزیراعظم کا یہ کہنا کہ لیڈروں کو جواب تو دینا پڑتا ہے اور جب احتساب ہو تو ان حضرات کی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے، الیکٹرونک میڈیا والے کبھی کبھار ماضی کی فوٹیج بھی چلا دیتے ہیں اور موازنہ کرتے ہیں، تاہم ہم ایسا نہیں کریں گے۔

البتہ یہ ضرور دریافت کریں گے کہ اس وقت ملک کے اندر سیاسی استحکام کس کے لئے زیادہ ضروری ہے اور یقیناًسب کے لئے ہے،لیکن زیادہ ضرورت برسر اقتدار جماعت کو ہو تی ہے کہ امن اور سکون ہو گا تو ہی ترقی کر کے نئے پاکستان کی شکل بن سکتی ہے،ورنہ ابھی تک تو نئے پاکستان نے مہنگائی اور بے روزگاری میں ہی اضافہ کیا ہے۔

اب ذرا غور کیجئے تو اندازہ ہو گا کہ دشمن کا دشمن دوست کے فارمولے کے تحت گزشتہ روز ہی پارلیمان کی سطح پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے درمیان اکٹھے چلنے کا معاہدہ ہو گیا اور سہ نکاتی پروگرام کے تحت پارلیمینٹ کے اندر اور باہر حکومت کو سخت وقت (ٹف ٹائم) دینے، یعنی مزاحمت کا فیصلہ کر لیا گیا اور بالکل ممکن ہے کہ قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی تعداد اور حزبِ اقتدار اتحاد میں کچھ زیادہ کا فرق نہیں ہے،جبکہ سینیٹ میں تو اپوزیشن اتحاد اکثریت میں ہے اور حکومت وہاں سے کوئی بھی بل منظور نہیں کرا سکتی۔

چہ جائیکہ کوئی آئینی ترمیم ہو، ویسے تو عدالت عظمیٰ کی طرف سے متعدد امور کے حوالے سے آئینی ترامیم اور قانونی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے،لیکن ایسا ہو نہیں پا رہا کہ ایسی شدید محاذ آرائی کی صورت میں ممکن ہی نہیں اور احتساب کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے،حالانکہ پوری قوم اور مقتدر ادارے بھی احتساب چاہتے ہیں، عوام کی منشاء اور رائے بھی یہی ہے،لیکن وہ یہ احتساب بلا استثنیٰ اور بلا امتیاز چاہتے ہیں وہ کسی بھی جہانگیر ترین اور پناہ گزین کی معافی کے حق میں نہیں اور براہِ راست کارروائی کے خواہاں ہیں۔یہ سب بھی پُرامن اور مستحکم سیاسی ماحول میں ممکن ہے۔

مزید : رائے /کالم