سیاسی اتحاد تو بن گیا، اب ہوگا کیا؟

سیاسی اتحاد تو بن گیا، اب ہوگا کیا؟
سیاسی اتحاد تو بن گیا، اب ہوگا کیا؟

  


جس کے لئے مولانا فضل الرحمن دوبار کوشش کر کے ہزیمت اٹھا چکے، وہ اتحاد بالآخر ان کی عدم موجودگی میں ہو گیا۔ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنا لیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی طرف سے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری دونوں ہی اس موقع پر موجود تھے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس اتحاد کے لئے سب سے زیادہ کوشش پیپلزپارٹی نے کی۔ وہی پیپلزپارٹی جو مولانا فضل الرحمن کو دوبار انکار کر چکی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد نہیں کر سکتی۔ اب اس ساری انہونی کو درست ثابت کرنے کے لئے یہ دلیل لائی جائے گی کہ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے کل کے دوست دشمن اور آج کے دشمن دوست بن سکتے ہیں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ پہلے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کیوں نہیں مل رہی تھیں اور اب کیوں مل گئی ہیں؟ ایسا کون سا بڑا واقعہ ہوا ہے جس نے ان دونوں کو اپنا اصولی موقف چھوڑ کر ایک کر دیا ہے۔ ابھی چند ہی روز پہلے مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ اگلے پانچ ماہ میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی ایک میز پر ہوں گی گویا مولانا فضل الرحمن کو بھی یہ یقین نہیں تھا کہ یہ دونوں جلد اکٹھی ہو سکیں گی،مگر یہ آناً فاناً سب کچھ کیسے ہو گیا، سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ مولانا فضل الرحمن بھی اس موقع پر موجود نہیں تھے اور ان کی نمائندگی ان کے فرزند اسد محمود نے کی۔

کیا جلد کچھ ایسا ہونے والا ہے جس سے بچنے کے لئے یہ تیزی دکھائی گئی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس اتحاد کی بنیاد آصف علی زرداری نے رکھی ہے، پہلے اتحاد سے انکار بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے کوٹ لکھپت جیل میں نوازشریف سے ملاقات بھی کی تھی اور انہیں آصف علی زرداری کا پیغام پہنچایا تھا۔ غالباً اسی ڈپلومیسی کے ذریعے معاملات طے ہوئے اور اس اتحاد کا اعلان کر دیا گیا۔

اس اتحاد کا اصل ہدف اور ایجنڈا کیا ہے، ابھی یہ واضح نہیں، مگر صاف ظاہر ہے کہ یہ اتحاد حکومت کو دباؤ میں لانے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کو اس اتحاد کی اس لئے بھی جلدی تھی کہ پی ٹی آئی سندھ پر چڑھائی کئے ہوئے ہے اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کل بھی کراچی میں یہی کہا کہ سندھ حکومت گیس کا غبارہ ہے اور سوئی ہمارے پاس ہے، کسی وقت بھی سوئی مار کر اس کی ہوا نکال سکتے ہیں، اب پہلا ہدف تو یہی ہوگا کہ پی ٹی آئی کو کسی مہم جوئی سے روکا جائے۔

اس مقصد کے لئے اسمبلی کے روز ٹف ٹائم دینے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت کے لئے آنے والے دنوں میں دو کام بہت اہم ہیں۔ ایک فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع اور دوسرا 23 جنوری کو پیش ہونے والا بجٹ۔ ان دونوں کی منظوری کے لئے اپوزیشن کی ضرورت پڑے گی۔ اگر گرینڈ الائنس اسے چند شرائط سے مشروط کر دیتا ہے تو پھر حکومت کا امتحان شروع ہو جائے گا اپوزیشن یہ بھی چاہتی ہے کہ نیب قانون میں تبدیلی لائی جائے۔

اس حوالے سے جو مسودہ قانون تیار ہو چکا ہے وہ اسے اسمبلی میں دیکھنا چاہتی ہے حکومت کے لئے مشکل یہ ہے کہ اگر وہ نیب قانون میں ترمیم کے لئے ایسا بل لاتی ہے جو نیب کے پر کاٹ دیتا ہے تو سارا الزام اس پر آئے گا اور یہ بھی کہا جائے گا کہ احتساب کا نعرہ لگا کے اقتدار میں آنے والوں نے احتساب کے ادارے پر شب خون مار کر اسے بے بس کر دیا۔

آصف علی زرداری یہ کام اس لئے بھی فوری چاہتے ہیں کہ منی لانڈرنگ کیس نیب کو بھیج دیا گیا ہے اور اسے سپریم کورٹ نے دو ماہ میں تفتیش مکمل کر کے ریفرنس بنتا ہے تو احتساب عدالت میں دائر کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے۔ فواد چودھری نے کراچی میں یہ کہہ کر حکومت کی خواہش ظاہر کر دی ہے کہ نیب نے ابھی تک آصف علی زرداری، فریال تالپور اور مراد علی شاہ کو گرفتار کیوں نہیں کیا۔ ان سارے عوامل نے آصف علی زرداری کو نوازشریف کے بارے میں اپنے پرانے موقف کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

وہ نوازشریف کو پچھلے کچھ عرصے میں بہت سخت لفظوں سے نوازتے رہے اور ایسے خطابات بھی دیئے جو ان کے شایان شان نہیں تھے۔ لیکن اب سارا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ سمجھ چکے ہیں کہ تنہا پرواز سے بچنا مشکل ہے۔ اپوزیشن کا ایک اجتماعی دباؤ ہی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اُدھر مسلم لیگ (ن) کو بھی کوئی ریلیف ملتا دکھائی نہیں دے رہا۔ پھر اسے یہ بھی ڈر ہے کہ اگر تحریک انصاف کی مرکز اور صوبہ پنجاب میں حکومتوں نے بہتر کارکردگی دکھائی عوام کو ریلیف دیا تو سیاست کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اس لئے اس کے اندر بھی غالباً یہ سوچ پروان چڑھی ہے کہ دونوں حکومتوں کو ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے چلتا کیا جائے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق دونوں جماعتیں اس پر رضا مند ہو چکی ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمن تو پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ان اسمبلیوں کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ دھاندلی کی پیداوار ہیں آنے والے دنوں میں یہ منصوبہ بندی بھی ہو سکتی ہے کہ اختر مینگل جیسے کسی کردار کو سامنے لا کر حکومت کے خلاف عدم اعتماد لایا جائے۔

آصف علی زرداری کی پچھلے دنوں حاصل بزنجو، اختر مینگل اور ثناء اللہ زہری سے ملاقاتیں بھی اسی تناظر میں ہوئیں، صرف اختر مینگل ہی حکومت کے ایک ایسے اتحادی ہیں جنہیں توڑنا نسبتاً آسان ہے۔ کیونکہ وہ حکومت سے ناخوش ہیں جس نے تحریری معاہدہ کرنے کے باوجود وعدے پورے نہیں کئے۔ کیا اپوزیشن جو کھچڑی پکانا چاہتی ہے، پکا سکے گی۔

کیا پاکستان میں ان ہاؤس عدم اعتماد کے ذریعے تبدیلی کی کوئی آسان مثال ہے، کیا اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر تبدیلی کا کوئی کھیل کھیلا جا سکتا ہے۔؟ کیا اختر مینگل جیسے کردار کو مقتدر حلقے قبول کر لیں گے، جنہوں نے حکومت سے معاہدہ کرتے ہوئے ایسی کڑی شرائط رکھیں کہ عمران خان اگر انہیں پورا کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ اس سارے منظر نامے میں اہم ترین بات یہ ہے کہ حکومت کسی پریشانی کا شکار نظر نہیں آتی۔ عمران خان کوئی کمزوری دکھانے کو تیار نہیں بلکہ الٹا آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات اور اتحاد کے اعلان پر ان کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ یہ دونوں جماعتیں اپنی کرپشن بچانے کے لئے ایک ہو جائیں گی۔

آج ٹی وی چینلز ماضی کے ان ویڈیوز کلپس کو دکھا رہے ہیں،جن میں آصف علی زرداری، نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف شعلے اُگل رہے ہیں۔اسی طرح نواز شریف اور شہباز شریف کے ویڈیوز بھی دکھائے جا رہے ہیں، جن میں آصف علی زرداری کو کرپٹ کہتے ان کی زبان نہیں تھکتی اور پیٹ پھاڑ کر لوٹی دولت واپس لانے کی بڑھکیں مارتے ہیں سیاسی منظر نامے پر دو فریق آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ ایک طرف تحریک انصاف اور اتحادی ہیں، دوسری طرف گرینڈ اپوزیشن الائنس ہے جس کا کوئی واضح ایجنڈا ہی نہیں، بس منتشر الخیال ہے۔

موجودہ جمہوری تجربے کے چھ ماہ پر نظر ڈالی جائے تو صاف لگتا ہے کہ اپوزیشن نے شروع دن سے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ حکومت کو چلنے نہیں دینا۔ خاص طور پر اسمبلی کے اندر کا ماحول پہلے دن سے انتشار زدہ نظر آ رہا ہے جتنے واک آؤٹ اس چھ ماہ کے عرصے میں اپوزیشن نے کئے ہیں اتنے تو شاید پچھلی اسمبلی کے پانچ سال میں نہ ہوئے ہوں۔

کیا واک آؤٹ ہی پارلیمانی جمہوریت میں آخری حربہ ہوتا ہے؟ حکومتی بنچوں سے اگر کچھ کہا بھی جاتا ہے تو اس کا ایوان میں ڈٹ کر جواب دینا چاہئے دو روز پہلے بھی یہ دیکھا گیا کہ شہباز شریف نے اپنی پوزی تقریر مکمل کی، اور اس کے اختتام پر یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا کہ کسی نے انہیں چور کہا ہے۔ یہ رویہ تو صاف پتہ دیتا ہے کہ اپوزیشن ایوان کو صرف اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے اب متحدہ اپوزیشن بن جانے کی صورت میں تو صرف مسلم لیگ (ن) ہی بائیکاٹ نہیں کرے گی پیپلزپارٹی بھی اس کے ساتھ جائے گی کیا جمہوریت کے لئے یہ کوئی نیک شگون ہے۔

کیا اس طرح کی روایات ڈال کر پچھلے دس برسوں میں مستحکم ہونے والی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی جا رہی ۔؟ پہلے دن سے حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی طرف سے سنجیدگی کے فقدان کو ہر شخص محسوس کر رہا ہے واقعہ یہ ہے کہ اس وقت ملک میں احتساب کا جو عمل جاری ہے، اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں چیف جسٹس ثاقب نثار یا چیئرمین نیب اس کا کریڈٹ لے سکتے ہیں مگر حکومتی وزراء صرف عوام کی نظر میں سرخرو ہونے کے لئے ایسا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ جیسے سب کچھ حکومت کر رہی ہے جس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اپوزیشن واویلا کرتی ہے کہ حکومتی ایماء پر انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے اب یہ گرینڈ الائنس بھی اسی یک نکاتی ایجنڈے پر بنا ہے کہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔ مگر لگتا نہیں کہ اپوزیشن کو کوئی کامیابی ملے۔

اس کی دو وجوہات ہیں، احتساب نیب کر رہا ہے جس سے حکومت خود نالاں ہے اس لئے وہ رک نہیں سکتا دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت نے اگر اپوزیشن کے آگے گھٹنے ٹیکے تو عوام کی نظر میں اس کی ساکھ باقی نہیں رہے گی۔ البتہ معاملہ انتشار کی طرف گیا تو جمہوریت پر اس کے منفی اثرات ضرور پڑ سکتے ہیں، اس لئے ملک کی سیاسی قوتوں کو ہر قدم سوچ سمجھ کے اٹھانا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم