ڈہر کی ،مقابلہ جعلی قرار 14پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم

ڈہر کی ،مقابلہ جعلی قرار 14پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم

ڈہرکی(نامہ نگار)ڈہرکی میں تین سال قبل پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلہ میں قتل ہونے والے ڈہرکی کے گاؤں اللہ جوایو بھٹوکے رہائشی دونوجوانوں میرحسن کوبھراورمعشوق علی عرف شانتی ٹانوری کے پولیس مقابلہ کو سندھ ہائی کورٹ نے جعلی قراردے کر ڈہرکی تھانہ کے سابق ایس ایچ اومحمد بچل (بقیہ نمبر20صفحہ12پر )

قاضی،اے ایس آئی سردارکولاچی،اے ایس آئی عبدلشکورلاکھو،اے ایس آئی عاشق لغاری،پولیس اہلکارگل گبول ،مظفرشاہ،ربڈنو کلہوڑو،محمدعلی کورائی،طالب سیال ، اصغرگبول ، منظور بوذدار سمیت 14پولیس اہلکاروں پر جعلی پولیس مقابلہ اور قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کردیا ہے واضع رہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے میرحسن کوبھر کے بھائی میرن کوبھر نے ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹ گھوٹکی میں مذکورہ پولیس اہلکاروں کے خلاف جعلی پولیس مقابلہ میں بھائی کے قتل کرنے کی پٹیش داخل کرائی تھی جسے سیشن کورٹ نے پولیس مقابلہ کو جعلی قراردیکرمقدمہ درج کرنے کا حکم سنایا تھا ایسے حکم کو ڈہرکی کے سابق ایس ایچ او بچل قاضی اوردیگر نے سکھر ہائی کورٹ میں چیلنج کرکے اسٹے آرڈر لے رکھا تھا جسے ہائی کورٹ سکھر بینج نے پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل انورلوہر اور مقتول کے بھائی کے وکیل عبداللہ گھوٹوکے دلائل سننے کے بعداسٹے آرڈر کوختم کرتے ہوئے سیشن کورٹ کے حکم کو بحال کرکے ایس ایچ اوسمیت مذکورہ 14پولیس اہلکاروں کے کلاف مقدمہ درج کرنے کاحکم سنا دیا ہے ایسے حکم نامہ کے بعد ڈہرکی اورضلعی پولیس میں کھلبلی مچ گئی اوروہ اپنے پیٹی بھائیوں کوبچانے میں سرگرم ہوگئے ہیں جبکہ مقتول کا بھائی عدالتی حکم نامہ لیکر ڈہرکی تھانے پرمقدمہ درج کرانے پہنچ گیا لیکن پو لیس نے مقدمہ درج نہیں کیا اورٹال مٹول کرکے اسے واپس کردیا ہے مقتول کے بھائی نے کہا کہ پولیس توہین عدالت کررہی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر