تحصیل جتوئی میں سینکڑوں غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کاانکشاف ‘ عمارتیں کھنڈر

تحصیل جتوئی میں سینکڑوں غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کاانکشاف ‘ عمارتیں کھنڈر

جتوئی ( نامہ نگار) تحصیل جتوئی میں سینکڑوں غیر رجسٹرڈ تعلیمی ادارے وجود میں آچکے اکثر سکولوں کی عمارت کھنڈ اور سہولیات ناپیدہیں مڈل میٹرک پاس اساتذہ ڈھائی ہزاروں روپے (بقیہ نمبر23صفحہ12پر )

سے لیکر 3500 روپے ماہانہ پر کام کر رہے ہیں کچھ ماہ پہلے بھی سابق ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ نے بھی رپورٹ طلب کر لی مگر تاحال مالکان کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں آسکی۔تحصیل جتوئی میں مہنگائی کرپشن لپمساندگی میں جہاں اپنا ثانی نہیں رکھتی ہیں غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ اداروں میں اضافہ کی تعداد میں بھی بازی لے گئے ہے تحصیل جتوئی کے ہر چھوٹے بڑے گاؤں اور قصبے میں غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکول تعلیم کے نام پر سادہ لوح عوام کو لوٹ رہے ہیں ان سکولوں کی عمارات کھنڈر ناکافی ہے فرنحیپر نام کی چیز ڈھونڈنے سے نہیں ملتی سکول مالکان نے بے روزگاری کے شکار نوجوان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ڈھائی ہزار روپے سے ساڑھے تین ہزار روپے ماہانہ پر ٹیچر بھرتی کر رکھا ہے ان سکولوں میں ٹوائلٹ اور پینے کے پانی کی سہولت تک دستیاب نہیں پنجاب کے پڑھے لکھے پنجاب کی دعویدار انتظامیہ نے سارہ لوح عوام کے استعمال پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی جبکہ کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ موجود ڈپٹی کمشنر مظفرگڑ ھ سے کارروائی کا مطالبہ کیا ۔

کھنڈر

مزید : ملتان صفحہ آخر