ویانا کنونشن اور سفارت کاروں کا تحفظ

ویانا کنونشن اور سفارت کاروں کا تحفظ
 ویانا کنونشن اور سفارت کاروں کا تحفظ

  


نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کار کو گرفتار کر کے کئی گھنٹے حبس بیجا میں رکھنے کے بعد پاکستان کے احتجاج پر رہا کردیا ۔ پاکستانی سفارتی اہلکار کوحبس بیجا میں رکھے جانے کے دوران سادہ کاغذ پر زبردستی دستخط کرائے گئے۔ پاکستان کی جانب سے سفارتی اہلکار کی گرفتاری اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی پر ہند سے شدید احتجاج کیا گیا اور باور کرایا گیا کہ پاکستان ایسی حرکت پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کے بعد سفارت کار کی گرفتاری کا واقعہ پیش آیا۔

بھارتی خفیہ اداروں نے پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کو ہراساں کئے جانے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو تنگ کرنے کے لئے ان کے گھروں کی گیس اور پانی کی فراہمی میں تعطل ڈالا جاتا ہے۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کے گھروں میں جانے والے مہمانوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے اور ان کا پیچھا کرکے انہیں پریشان کیا جاتا ہے۔سکول جاتے وقت سفارتی اہلکاروں کے بچوں کی گاڑیاں روک کر ان کی ویڈیو بنائی گئی اور انہیں ہراساں کیا گیا۔

پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بھارت کبھی کسی معاملے میں دباؤ بڑھانے اور کبھی دباؤ سے نکلنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ بھارت ایسے حربوں کے استعمال کی تردید کرتا ہے، مگر اسکے ایسے ہتھکنڈے ناقابل تردید ہیں۔ حال ہی میں ایک پاکستانی سفارت کار کا ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ جی میل کی جانب سے ہیکرز کی لوکیشن نئی دہلی کی وزارت دفاع بتائی گئی۔ چند ماہ میں بھارت میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ مودی کی پارٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان دشمنی کا کارڈ استعمال کرکے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر اس کی شرانگیزی میں اضافہ ہوا۔

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اس کی سفاک سپاہ ظلم و بربریت کی انتہا کئے ہوئے ہے۔ وہاں گورنر راج سے مقاصد حاصل نہ ہو سکے تو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ بھارتی وزراء اور آرمی چیف کی زبانیں مودی کی حمایت میں انتخابی ماحول سازگار بنانے کے لئے پاکستان کے خلاف انگارے برساتی ہیں۔پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا مقصد تعلقات کو مزید کشیدہ کرنا ہے۔ ممکنہ طورپر بھارت سرکار کے ایسے ہتھکنڈوں پر پاکستان اپنا عملہ واپس بلانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ جواب میں بھارت بھی اپنے سفارت کار واپس لائے گا۔ ایسی محاذآرائی کو مودی اور ان کے حواری انتخابات میں کامیابی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو بھارت میں پاکستانی سفارتی عملے کو ہراساں کرنے پر شدید احتجاج کے ساتھ یہ مسئلہ متعلقہ عالمی فورمز پر بلاتاخیر اُٹھانا چاہئے۔

پاکستان نے ہراساں کرنے والوں کی تصاویر بھارتی وزارت خارجہ کے ساتھ شیئر کی ہیں، لیکن افسوس ہے کہ اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔بھارتی حکومت کی جانب سے ایسے واقعات روکنے کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت سفارت کاروں کی حفاظت میں ناکام ہے یا پھر کرنا نہیں چاہتی۔

ویانا کنونشن کے تحت بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کا تحفظ کرے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھی سفارتکاروں کو بہت سے استثنیٰ حاصل ہوتے ہیں جو عام لوگوں کو میسر نہیں ہوتے۔ویانا کنونشن ہی میں سفارت کاروں کو فرائض کی خوش اسلوبی سے ادائیگی کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی اور حفاظت بھی متعلقہ حکومت ذمہ داری میں شامل ہے۔بنیا ذہنیت اور مودی کی فطرت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ انتخابی سیاست کے لئے مظالم کی کسی بھی حد تک جا سکتے اور انسانیت کی تذلیل کی پستیوں میں گر سکتے ہیں، مگر پاکستان کی طرف سے انہیں کھل کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے سفیروں کا تحفظ ہمارے لئے اہم ہے، جس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پاکستان میں انڈین سفارتکاروں کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اگر کوئی ایسا واقعہ ہوتا تو بھارتی ہائی کمیشن نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔ یہ دورِ جہالت نہیں ہے، جس میں سفارت کاروں کو قید اور قتل تک کردیا جاتا تھا۔ بھارت کے ایسے جارحانہ رویوں کے خلاف عالمی برادری کو فعال سفارت کاری کے ذریعے آگاہ کیا جائے اور یہ معاملہ اٹھانے کے لئے بہترین فورم اقوام متحدہ ہے، اس سے رجوع کیا جائے۔

مزید : رائے /کالم